باپو

شہرت ہے تیری باپو ہر سو مرے وطن میں
تیرا ہی تذکرہ ہے دنیا کی انجمن میں
تو پھول بن کے مہکا کچھ اس طرح چمن میں
خوشبو سما گئی ہے افسردہ جان و تن میں
تو صدر انجمن ہے تو نازش وطن ہے
تو رنگ دلبری ہے تو نکہت چمن ہے
تجھ کو تھی مثل ایماں اپنے وطن سے الفت
اخلاق سے مٹائی تو نے بنائے نفرت
مذہب تھا صرف تیرا خلق خدا کی خدمت
اے قوم کے مسیحا اے فخر آدمیت
تیرا کرم ہے کتنا بھارت کی سر زمیں پر
عظمت کی روشنی ہے اب ہند کی زمیں پر
جاہ و حشم کا لالچ دل میں کبھی نہ آیا
جو دوسروں سے چاہا وہ کر کے خود دکھایا
چھوٹے بڑے کی تو نے تفریق کو مٹایا
انسانیت کا پیہم سب کو سبق پڑھایا
تیرے زبان و دل میں تھا ایک ربط صادق
تو عدل کا پجاری روحانیت کا عاشق
سارے چمن میں رقصاں ہے آج حسن فطرت
کلیوں میں ہے محبت پھولوں میں ہے اخوت
تو نے وطن کو بخشی حسن یقیں کی دولت
تو نے بنا دیا ہے بھارت کو مثل جنت
یہ انقلاب آیا تیرے ہی فکر و فن سے
آزاد ہم ہوئے ہیں باپو تری لگن سے