جل مرنے سے پہلے
کھڑکی بند کرو دروازہ مت کھولو بولنا ہے تو آنکھوں ہی آنکھوں میں بولو شور گلی تک آ پہنچا ہے جل مرنے سے پہلے آؤ گلے مل کر رو لو
کھڑکی بند کرو دروازہ مت کھولو بولنا ہے تو آنکھوں ہی آنکھوں میں بولو شور گلی تک آ پہنچا ہے جل مرنے سے پہلے آؤ گلے مل کر رو لو
ہوا سرد ہے راستے کا دیا زرد ہے ہر طرف دھند ہے گرد ہے دور سے جو چلا آ رہا ہے وہ سایہ ہے لیکن نہ جانے وہ عورت ہے یا مرد ہے میں دریچے میں تنہا کھڑا سوچتا ہوں رات کے پاس میرے لیے کیا ہے ان جانی خوشیاں ہیں یا کل کا باسی پرانا پھپھوندی لگا درد ہے ہوا سرد ہے
ہم نے وقت کو گھڑی میں قید کر دیا ہے جہاں وہ رات دن ہاتھ پھیلا کے ہاتھ اٹھا کے ہاتھ جوڑ کے فریاد کرتا رہتا ہے! جب وہ آزاد تھا وہ زمانا یاد کرتا رہتا ہے!!
کچھ دنوں سے اک چڑیا چپ اداس گم سم سی شام ہوتے آتی ہے گھر میں ایک فوٹو پر آ کے بیٹھ جاتی ہے اس سمے گھڑی میری ٹھیک چھ بجاتی ہے کچھ ہی دیر میں چڑیا شام کے دھندلکے میں ڈوب ڈوب جاتی ہے اور گھر کا دروازہ رات کھٹکھٹاتی ہے
پڑوسی کی بکری نے پھر گھر میں گھس کر کوئی چیز کھا لی بیوی نے سر پہ قیامت اٹھا لی منے کو رونے میں جیسے مزا آ رہا ہے برابر وہ روئے چلا جا رہا ہے فقیر اب بھی چوکھٹ سے چپکا ہوا ہے وہی روز والی دعا دے رہا ہے روٹی کے جلنے کی بو اور اماں کی چیخوں سے گھر بھر گیا ہے پنجرے میں چکراتے مٹھو کی ...
اور میں نے خدا سے کہا دیکھ تیری مخلوق چوتھے آسمان پر آ گئی ہے تو پردۂ غیب سے آواز آئی ''کن'' اور پلک جھپکتے میں سات اور آسمان چوتھے آسمان پر پھیل گئے! اور میرے اندر اک اور جنگل اگ آیا!!
وہ دیکھو سورج زمیں کے اندر اتر رہا ہے چلو اسے دفن کر کے اپنے گھروں کو جائیں تمام دن کا عذاب کھونٹی پہ ٹانگ کر میلے بستروں کو چمکتے خوابوں سے جگمگائیں یہ وقت کیوں جاگ کر گنوائیں کہ کل یہ سورج اسی زمیں سے نکل کے اپنے سروں پہ ہوگا چلو اسے دفن کر کے اپنے گھروں کو جائیں
مجھ کو اب بھی یاد ہے اک دن گھر والوں کی آنکھ بچا کر میں نے اک سونے کمرے میں اک لڑکی کو چوم لیا تھا اب وہ لڑکی ماں ہے، اس کے کالے پیلے بچے ہیں بچے میری گود میں آ کر مجھ کو ابا کہتے ہیں
مگر میں خدا سے کہوں گا خدا وند! میری سزا تو کسی اور کو دے کہ میں نے یہاں اس زمیں پر سزائیں قبولیں ہیں ان کی کہ جن سے مجھے صرف اتنا تعلق رہا ہے کہ میں اور وہ دونوں تجھ کو خدا مانتے تھے! یہ سچ ہے ترا عکس دیکھا تھا ہم نے الگ آئینوں میں مگر میں خدا سے کہوں گا خدا وند! یہ دن قیامت کا دن ...
تم سے بچھڑتے وقت میں نے سوچا تھا کس طرح جیوں گا! کس کس سے چھپ کے رہ سکوں گا آنسو کہاں کہاں پیوں گا! گھر میں اگر کسی نے پوچھا! ''کیا بات ہے اداس کیوں ہو'' ڈر تھا مجھے کہ رو پڑوں گا! لیکن یہ اتفاق دیکھو میں گھر گیا تو میرے گھر کا ایک ایک فرد رو رہا تھا!