شاعری

سرسید کے مزار پر

چراغ علم روشن ہے حقیقت کی ہواؤں پر حکومت کر رہا ہے ایک گوشے سے فضاؤں پر یہ سر سبزی و شادابی جو ویرانی کا حاصل ہے رگوں میں اس کی پوشیدہ تموج خیز اک دل ہے ابھی تک خاک میں اس کی ہے جوش ارتقا باقی لحد پر گھاس کے پتوں میں ہے نشوونما باقی ابھی تک انجمن میں گونج باقی ہے صداؤں کی ابھی تک ...

مزید پڑھیے

آغا حشر کاشمیری

بزم عالم میں وہ کیفیات رنگ و بو نہیں رونق ایوان‌‌ گیتی آج شاید تو نہیں آہ کیا تو پر سکوں ہے قبر کی آغوش میں چین کیونکر آ گیا اس محشر خاموش میں سرمدی نغمات سے اب دل کو تڑپائے گا کون اب ستارے آسماں سے توڑ کر لائے گا کون مجلسی لعنت پر اب تنقید فرمائے گا کون اور اسے رنگین پیرائے میں ...

مزید پڑھیے

نظم

خزانوں کو تم ڈھونڈنے پر مصر ہو ٹپکتا ہے خوں ناخنوں سے اور آنکھوں سے کھوئی ہوئی نیند کی تلخ سرخی یہ کھیتوں کی جیتی جڑیں کاٹتے پھاوڑے اور کدالیں میں خود موت کے ہاتھ جس کے تمسخر سے تم بے خبر ہو ہتھیلی پر عمر اور دل کی لکیروں میں اٹکے یہ مدھم سے ذرے کہ جن میں ابھی تک تمہارے اب وجد کی ...

مزید پڑھیے

بڑھے چلو

اٹھو اٹھو اٹھو اٹھو کمر کسو کمر کسو سحر سے پہلے چل پڑو کڑی ہے راہ دوستو تھکن کا نام بھی نہ لو بڑھے چلو بڑھے چلو جھجک نہ دل میں لاؤ تم بس اب قدم اٹھاؤ تم ذرا نہ ڈگمگاؤ تم خدا سے لو لگاؤ تم ملول و مضطرب نہ ہو بڑھے چلو بڑھے چلو اٹھا دیا قدم اگر تو ختم ہے بس اب سفر ہے راہ صاف و بے خطر نہ ...

مزید پڑھیے

شکست

دیواریں دروازے دریچے گم سم ہیں باتیں کرتے بولتے کمرے گم سم ہیں ہنستی شور مچاتی گلیاں چپ چپ ہیں روز چہکنے والی چڑیاں چپ چپ ہیں پاس پڑوسی ملنے آنا بھول گئے برتن آپس میں ٹکرانا بھول گئے الماری نے آہیں بھرنا چھوڑ دیا صندوقوں نے شکوہ کرنا چھوڑ دیا مٹھو ''بی بی روٹی دو'' کہتا ہی ...

مزید پڑھیے

میں اور تو

خدا وند.... مجھ میں کہاں حوصلہ ہے کہ میں تجھ سے نظریں ملاؤں تری شان میں کچھ کہوں تجھے اپنی نظروں سے نیچے گراؤں خدا وند مجھ میں کہاں حوصلہ ہے کہ تو روز اول سے پہلے بھی موجود تھا آج بھی ہے ہمیشہ رہے گا اور میں میری ہستی ہی کیا ہے آج ہوں کل نہیں ہوں خدا وند مجھ میں کہاں حوصلہ ہے مگر آج ...

مزید پڑھیے

مچھلی کی بو

بستر میں لیٹے لیٹے اس نے سوچا ''میں موٹا ہوتا جاتا ہوں کل میں اپنے نیلے سوٹ کو آلٹر کرنے درزی کے ہاں دے آؤں گا نیا سوٹ دو چار مہینے بعد سہی! درزی کی دوکان سے لگ کر جو ہوٹل ہے اس ہوٹل کی مچھلی ٹیسٹی ہوتی ہے کل کھاؤں گا لیکن مچھلی کی بو سالی ہاتھوں میں بس جاتی ہے کل صابن بھی لانا ہے گھر ...

مزید پڑھیے

خلل

حوض میں بے حرکت پانی کی سطح پر ایک مینڈک پاؤں لمبائے آرام سے اونگھ رہا ہے! ابھی کوئی وضو کرنے آئے گا اور پانی میں ہلچل مچائے گا!!

مزید پڑھیے

یکم جنوری

پھر اک سرد ٹھٹھرا ہوا دن دبے پاؤں چلتا ہوا بالکنی سے کمرے میں آیا مجھے اپنے بستر میں دبکا ہوا دیکھ کر مسکرایا اور آرام کرسی پہ بیٹھا گھڑی گود میں رکھ کے کانٹا گھمایا تھکے پاؤں چلتا ہوا بالکنی کو لوٹا تو چاروں طرف سے اندھیروں نے بڑھ کے اسے پھاڑ کھایا

مزید پڑھیے

قبر میں

میرے جسم پر رینگتی چونٹیوں کے علاوہ یہاں کوئی ہے کوئی بھی تو نہیں ہے مگر ایک آواز آتی ہے مجھ سے کوئی پوچھتا ہے بتا تیرا رب کون ہے کون ہے؟ کون ہے اور میں سوچتا ہوں اگر میرا رب کوئی ہے تو اسے میرے مرنے کا غم کیوں نہیں ہے!

مزید پڑھیے
صفحہ 443 سے 960