سرسید کے مزار پر
چراغ علم روشن ہے حقیقت کی ہواؤں پر حکومت کر رہا ہے ایک گوشے سے فضاؤں پر یہ سر سبزی و شادابی جو ویرانی کا حاصل ہے رگوں میں اس کی پوشیدہ تموج خیز اک دل ہے ابھی تک خاک میں اس کی ہے جوش ارتقا باقی لحد پر گھاس کے پتوں میں ہے نشوونما باقی ابھی تک انجمن میں گونج باقی ہے صداؤں کی ابھی تک ...