شاعری

بند گھر اور چڑیا

جاری جا اڑ جا چڑیا اس گھر میں مت آ چڑیا کیا تجھ کو معلوم نہیں یہ گھر کب سے بند پڑا ہے بہت دنوں کے بعد گھڑی بھر اس گھر کا دروازہ کھلا ہے اور تو اس گھر میں پگلی رہنے بسنے آئی ہے چھوڑ گئے جو اس گھر کو ان پر ہنسنے آئی ہے جاری جا اڑ جا چڑیا اس گھر میں مت آ چڑیا ابھی اندھیرا چھا جائے گا یہ ...

مزید پڑھیے

تیسری آنکھ

میں دونوں آنکھیں میچے گرتا پڑتا دوڑ رہا ہوں! آگے کیا ہے مجھ کو کچھ معلوم نہیں لیکن میری تیسری آنکھ پیچھے بھاگتے رات اور دن سال اور صدیاں دیکھ رہی ہے! پیچھے دور بہت پیچھے جھلمل کرتی بجھتی خوشیاں دیکھ رہی ہے! میں دونوں آنکھیں میچے تیسری آنکھ سے روتا ہوں!!

مزید پڑھیے

دلی

دلی تیری آنکھ میں تنکا ''قطب مینار'' دلی تیرے دل کا پتھر لال قلعہ دلی تیرے بٹوے میں غالبؔ کا مزار رہنے دے بوڑھی دلی کپڑے نہ اتار

مزید پڑھیے

کہاں دفن ہے وہ

نقاہت کے مارے برا حال تھا پھر بھی بستر سے اٹھ کر بڑے پیار سے اس نے مجھ کو بلایا مرے سر پہ شفقت بھرا ہاتھ پھیرا نہایت حلیمی سے مجھ کو کہا سنو میرے بچے تمہیں آج میں اپنے پچپن برس دے رہا ہوں اگر ہو سکے تو کبھی ان کی قیمت چکانا مری قبر پر تھوک جانا بس اتنا کہا اور وہ مر گیا اور میں اس کے ...

مزید پڑھیے

خالی مکان

جالے تنے ہوئے ہیں گھر میں کوئی نہیں ''کوئی نہیں'' اک اک کونا چلاتا ہے دیواریں اٹھ کر کہتی ہیں ''کوئی نہیں'' ''کوئی نہیں'' دروازہ شور مچاتا ہے کوئی نہیں اس گھر میں کوئی نہیں لیکن کوئی مجھے اس گھر میں روز بلاتا ہے روز یہاں میں آتا ہوں ہر روز کوئی میرے کان میں چپکے سے کہہ جاتا ہے ''کوئی ...

مزید پڑھیے

اور پھر یوں ہوگا

ہاں یہ آخری صدی ہے اس کے اختتام پر یہ زمیں سورج کی گرفت سے نکل کر اندھیروں میں ڈوبتی چلی جائے گی اور کسی تاریک سیارے سے ٹکرا کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی! اور پھر یوں ہوگا زمیں کے اک ٹکڑے پر اک درخت ہوگا اور اس کی چھاؤں میں اک بھائی اور اک بہن اک دوسرے سے لپٹ کر سو رہے ہوں گے اور شیطان ان ...

مزید پڑھیے

تخلیق

ایک زنگ آلودہ توپ کے دہانے میں ننھی منی چڑیا نے گھونسلہ بنایا ہے

مزید پڑھیے

خدا کہاں ہے

نہ مسجدوں میں نہ مندروں میں خدا کہاں ہے کدھر گیا ہے چلو مرے ساتھ میں بتاؤں مگر سمے اب گزر گیا ہے جلائے ہیں ہم نے ان گھروں میں خدا بھی جل بجھ کے مر گیا ہے

مزید پڑھیے

تلاش

ایک آنکھ تھی آدھے لب تھے اور اک چوٹی لمبی سی ایک کان میں چمک رہی تھی چاند سی بالی پڑی ہوئی ایک حنائی ہاتھ تھا جس میں لال کانچ کی چوڑی تھی ایک گلی میں دروازے سے جھانک رہی تھی اک لڑکی جانے کون گلی تھی اب میں چھان رہا ہوں گلی گلی

مزید پڑھیے

یادیں

کھڑکی کے پردے سرکا کر کمرے میں آ جاتی ہیں آپس میں چہلیں کرتی ہیں میری ہنسی اڑاتی ہیں میز پہ اک تصویر ہے اس کو دیکھ کے شور مچاتی ہیں میں گھبرا کے بھاگ اٹھتا ہوں وہ مل کر چلاتی ہیں کمرے سے ان کی آوازیں دور دور تک آتی ہیں دور دور تک آتی ہیں اور پتھر برساتی ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 445 سے 960