میں کیا چاہتا ہوں
میں کیا چاہتا ہوں میں کیا چاہتا ہوں میں دنیا کا عالم نیا چاہتا ہوں وہ فرقے جو رہتے ہیں ہندوستاں میں انہیں ایک دل دیکھنا چاہتا ہوں ہو مقصد یہاں جن کا ایذا رسانی میں ان طاقتوں کی فنا چاہتا ہوں عداوت کا نفرت کا انجام بد ہے میں اس بات کو سوچنا چاہتا ہوں غریبی سے اب جان پر آ بنی ہے میں ...