شاعری

میں کیا چاہتا ہوں

میں کیا چاہتا ہوں میں کیا چاہتا ہوں میں دنیا کا عالم نیا چاہتا ہوں وہ فرقے جو رہتے ہیں ہندوستاں میں انہیں ایک دل دیکھنا چاہتا ہوں ہو مقصد یہاں جن کا ایذا رسانی میں ان طاقتوں کی فنا چاہتا ہوں عداوت کا نفرت کا انجام بد ہے میں اس بات کو سوچنا چاہتا ہوں غریبی سے اب جان پر آ بنی ہے میں ...

مزید پڑھیے

کھیل کا گیت

آؤ گھیرا ایک بنا لیں اپنے اپنے ہاتھ ملا لیں سینہ تان کھڑے ہو جائیں اوپر کو گردن بھی اٹھائیں ایڑی سے ایڑی کو ملا کر پیر کے پنجوں کو پھیلا کر اپنے اپنے پاؤں اٹھائیں چلتے جائیں چکر کھائیں پہلے پورا چکر کھا لیں چکر کھا کر دل بہلا لیں پھر ہم سب رک جائیں دم بھر آگے کو بڑھ جائیں قدم ...

مزید پڑھیے

بہار کا موسم

نہ گرمیوں کا زور ہے نہ سردیوں کی مار ہے نہ دھوپ تن پہ بار ہے نہ ٹھنڈ ناگوار ہے ہوا بھی خوش گوار ہے نہ گرم ہے نہ سرد ہے نہ بجلیاں نہ آندھیاں نہ ابر ہے نہ گرد ہے ہیں سبزہ زار ان دنوں پہاڑ دشت اور بن ہے سچ تو یوں بہار پر ہے آج کل چمن چمن ہیں جنگلوں میں سبز سبز کھیت لہلہا رہے عجب ادا سے ...

مزید پڑھیے

شرارت کا مزہ

ایک لڑکے کا نام ارشد نام تھا ارشد کام تھے سب بد دن بھر خوب شرارت کرتا پھر بھی اس کا پیٹ نہ بھرتا اس کو چھوا اس چیز کو توڑا اس کو لیا اس چیز کو پھوڑا ساتھی اس سے گھبراتے تھے دیکھتے ہی کترا جاتے تھے اک دن کا ہے ذکر ہوا کیا آپ نے دیکھا شہد کا چھتا دیکھتے ہی بس کھیل یہ کھیلا مارا اس پر ...

مزید پڑھیے

عید کی خوشی

لو پھر ہماری عید آ گئی ہے ہر ایک خوش ہے گھر گھر خوشی ہے کیا قہقہے ہیں کیا دل لگی ہے ہر سمت گویا شادی رچی ہے منی اٹھے گی تڑکے سویرے جھٹ پٹ نہا کر پہنے گی کپڑے کپڑے بھی کیسے گوٹے زری کے ریشم کا جمپر مخمل کے جوتے پہنے گی منی زیور بھی اپنے زیور جو اس کے ابا ہیں لائے ہاتھوں میں کنگن پاؤں ...

مزید پڑھیے

تارے

چمکو چمکو تارو چمکو چمکو چمکو پیارو چمکو دور یہاں سے تم ہو چمکتے جانے کہاں سے تم ہو چمکتے کندن کے مانند دمکتے دنیا کو حیرت سے تکتے جب کہ اندھیرا گھپ چھاتا ہے روشن سورج چھپ جاتا ہے ایک نظر سے سب کو تکنا ساری ساری رات چمکنا تم نے کیوں یہ عادت کر لی کیوں یہ خدمت اپنے سر لی راہ جو ان ...

مزید پڑھیے

طوطا

طوطے والا طوطے لایا طوطے لو طوطے چلایا سبز پروں کی وردی سب کی ٹیڑھی چونچ نرالے ڈھب کی طوطے والے کو بلوا کر اک طوطے کے دام چکا کر قیمت دی اور ہم نے خریدا لوہے کے پنجرے میں رکھا پنجرے میں اک روٹی ڈالی خوش ہو کر طوطے نے اٹھا لی آپ تو بس تھوڑا ہی کھایا کتر کتر کر ڈھیر لگایا ہم نے اسے ...

مزید پڑھیے

ہندوستانی بچے کا گیت

میں بچہ ہوں میں بچہ ہوں کبھی میں بھی بڑا ہوں گا ابھی سے کیسے بتلاؤں کہ اس دنیا میں کیا ہوں گا میں جی بچپن سے پڑھنے اور لکھنے میں لگاؤں گا کبھی کھیلوں گا خوش ہو کر کبھی پڑھنے کو جاؤں گا مصیبت کچھ بھی پیش آ جائے ہرگز منہ نہ موڑوں گا اٹھوں جس کام کے کرنے کو پورا کر کے چھوڑوں گا میں اس ...

مزید پڑھیے

عید کی بہار

جی بھر کر عید منائیں گے جی بھر کر عید منائیں گے ہم خوب مٹھائی کھائیں گے ہم ڈٹ کر شیر اڑائیں گے اچھے سے کپڑے پہنیں گے ابا سے عیدی پائیں گے جی بھر کر عید منائیں گے جی بھر کر عید منائیں گے گڑیا گڈا ڈولا گاڑی چمٹا پھنکنی ہنڈیا ڈوئی پیالا چمچہ چولہا چکی یہ سب چیزیں منگوائیں گے جی بھر کر ...

مزید پڑھیے

ضدی بچہ

یہ اک بچے کا قصہ ہے یہ بچہ تھا بڑا ضدی نتیجہ یہ ہوا ضد کا یہ عادت پڑ گئی اس کی جو سیدھی بات بھی کہتے سمجھتا اس کو وہ الٹی وہ کہتا گرم کو ٹھنڈا وہ کہتا ٹھنڈ کو گرمی وہ کہتا فرش کو تکیہ وہ کہتا میز کو کرسی وہ کہتا ہیٹ کو اچکن وہ کہتا کوٹ کو صدری وہ کہتا حوض کو دریا وہ کہتا جھیل کو ندی وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 437 سے 960