قاتل
ڈایری روز بلاتی ہے مجھے لکھنے کو ایک مدت سے کوئی شعر نہیں لکھا ہے مرے سینے میں بھی اک درد اٹھا جاتا ہے تیری یادیں بھی بہت ذہن میں چلاتی ہیں پین کاغذ میں لوں اور کوئی نیا شعر لکھوں بیٹھ جاتا ہوں سو میں ڈایری اپنی لے کر مصرعے لکھتا ہوں مٹاتا ہوں میں پھر لکھتا ہوں پھینک دیتا ہوں پھر ...