شاعری

قاتل

ڈایری روز بلاتی ہے مجھے لکھنے کو ایک مدت سے کوئی شعر نہیں لکھا ہے مرے سینے میں بھی اک درد اٹھا جاتا ہے تیری یادیں بھی بہت ذہن میں چلاتی ہیں پین کاغذ میں لوں اور کوئی نیا شعر لکھوں بیٹھ جاتا ہوں سو میں ڈایری اپنی لے کر مصرعے لکھتا ہوں مٹاتا ہوں میں پھر لکھتا ہوں پھینک دیتا ہوں پھر ...

مزید پڑھیے

رشتہ

سوکھے پتوں کی طرح ٹوٹ کے گر جاتے ہیں رشتے بھی اگر ان کو محبت کی تر و تازہ ہوا پانی جو احساس کی مٹی میں فراہم نہ کریں ہاں مگر بھولے سے جب ٹوٹ کے گر جائیں کبھی کچھ رشتے تو پھر اچھا ہے کے ان رشتو کو یکجا کر کے وقت کے جلتے سلگتے ہوئے چولھے کے حوالے کر دیں

مزید پڑھیے

گزارش

سنو آؤ ادھر بیٹھو ہم اپنے مسئلوں کا حل نکالیں تمہیں جو بھی پریشانی ہے مجھ سے جو تکلیفیں ہیں سب کھل کر بتاؤ مگر گھر چھوڑ کے ایسے نہ جاؤ مگر گھر چھوڑ کے ایسے نہ جاؤ

مزید پڑھیے

وصل

میں نے تیری یاد کا لمحہ بویا تھا خون پلایا تھا دھرتی کو درد و غم کی کھاد بھی ڈالی میرے آنسو کے سورج نے ہجر کے پودے کو سینچا تھا اور اب دیکھو ہجر کا پودا پیڑ بنا تو اس پر وصل کے پھول اور پھل آئے ہیں

مزید پڑھیے

دھن

جب سے کھولی ہے آنکھ دنیا میں ایک ہی دھن سوار رہتی ہے جسم کا کھول جو ملا ہے مجھے سانس لے لے کے توڑ دوں اس کو اور دھرتی کی گود میں چپ چاپ آ کے سو جاؤں میں امر ہو جاؤں

مزید پڑھیے

آوازیں

میاؤں میاؤں بولے بلی میں میں میں میں بولے بکری چڑیا بولے چوں چوں چوں چوں کتا بولے بھوں بھوں بھوں بھوں ٹیں ٹیں ٹیں ٹیں طوطا بولے سب کے کانوں میں رس گھولے کوئل بولے کو کو کو کو کوک میں اس کی ہے جادو کائیں کائیں کر کے کوا کان پکاتا ہے سب کا مینڈک ٹر ٹر ٹر ٹر بولے پھر پانی میں کودے ...

مزید پڑھیے

ٹی وی

بچو دیکھو یہ ٹی وی ہے اس میں خوبی ہی خوبی ہے دیتا ہے یہ سچی خبریں ساتھ میں خبروں کے تصویریں اس میں دکھتے ہیں سب میلے ناٹک منظر ریلی جلسے کھیل کھلاڑی کشتی دنگل باغ پہاڑی کھیتی جنگل جھیل سمندر ندی جھرنا بستی ویرانہ اور صحرا سارے درندے اور چرندے مچھلی مینڈک اور پرندے اس میں سب ...

مزید پڑھیے

سردی

سردی بارش کے بعد آتی ہے اک شگوفہ نیا کھلاتی ہے دن سکڑتا ہے رات بڑھتی ہے کہرے کی حکمرانی ہوتی ہے اس میں شبنم ٹپکتی ہے گل پر اس سے ہوتا ہے خشک گلشن تر اس میں آتا ہے برگ گل پہ شباب اس میں کھلتے ہیں ہر طرح کے گلاب یہ دکھاتی ہے جب اثر اپنا سارا ماحول ہوتا ہے ٹھنڈا جب ہوا خوب ٹھنڈی چلتی ...

مزید پڑھیے

آرزو

خدایا آرزو میری یہی ہے یہ حسرت دل میں کروٹ لے رہی ہے بنوں کمزور لوگوں کا سہارا دکھی لوگوں کو دوں ہر دم دلاسا ضعیفوں بے کسوں کے کام آؤں غریبوں مفلسوں کے کام آؤں میں اپنے دوستوں کا دکھ اٹھاؤں جو روٹھے ہوں انہیں ہنس کر مناؤں برائی سے سدا لڑتا رہوں میں بھلا ہر کام ہی کرتا رہوں ...

مزید پڑھیے

گرمی

سردی گزری گرمی آئی ساتھ میں اپنے ہلچل لائی گرم ہوا ہر سو چلتی ہے سورج سے دھرتی جلتی ہے انسانوں کا حال برا ہے حیوانوں میں حشر بپا ہے جھلس رہے ہیں پیڑ اور پودے پگھل رہے ہیں برف کے تودے سوکھ گئے ہیں ندی نالے پڑ گئے سب کی جان کے لالے اترا ہوا ہے سب کا چہرہ گھر کے باہر لو کا خطرہ ڈھونڈ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 434 سے 960