شاعری

موت کا دوسرا نام

اس کو البم دکھاتے ہوئے میں بتلایا یہ دیکھیے یہ میرا دوست ہے آج کل غالباً کینیا میں ربر کی کسی فرم میں اونچے عہدے پہ ہے اس نے چہرے کو لمبا بنا کر کہا میں اسے جانتا ہوں کئی بار دو چار پیگ اس کے ہم راہ بھی پی چکا ہوں یہ چھ سال پہلے مجھے کینیا میں ملا تھا مگر اس ملاقات کے دوسرے ہی ...

مزید پڑھیے

ممکن نا ممکن

چاند کی بڑھیا اپنی چھت پر آ سکتی ہے آ سکتی ہے مدو اسے منا سکتی ہے اپنی مدو جی ہاں مدو اس کو چھت پر لا سکتی ہے ایک بندریا ستر لڈو کھا سکتی ہے کھا سکتی ہے اقرا اسے کھلا سکتی ہے ستر لڈو جی ہاں اقرا جیل اسے پہنچا سکتی ہے چھوٹی حمرا کھنڈوا کیسے جا سکتی ہے جا سکتی ہے ثمرہ کام بنا سکتی ...

مزید پڑھیے

چور چوہے اور بچے

گل عباس گلاب چنبیلی گیندا چمپا بیلا جوہی کل تک ان سے لدے ہوئے تھے آج اداس کھڑے ہیں پودے چوہے پھول کتر جاتے ہیں بنجر کو زرخیز بنا کر کھیتوں میں فصلیں لہرا کر جو کھلیانوں کو بھرتا ہے وہ کسان بھوکوں مرتا ہے غلہ تو چوہے کھاتے ہیں بچو ایسا کب تک ہوگا تم چاہو گے جب تک ہوگا روکو اس ...

مزید پڑھیے

عیدی کیسے بڑھائی جائے

بچوں نے عید پر جب نعرے بہت لگائے ماں باپ نے بھی اپنے دکھڑے انہیں سنائے بچو تمہاری عیدی کیسے بڑھائی جائے تم خود ہی کہہ رہے ہو مہنگائی بڑھ گئی ہے عام آدمی بچارا کیا کھائے کیا بچائے بچو تمہاری عیدی کیسے بڑھائی جائے پتلون کی سلائی پچانوے روپے دی عرفی کے بوٹ ساڑھے چھ سو روپے میں ...

مزید پڑھیے

ذرا سوچو

ٹیٹو بھائی ذرا سوچو اپنے بھی پر ہوتے تو منگل کرتے جنگل میں ڈبکی لیتے بادل میں سات سمندر کرتے پار خوب اڑانیں بھرتے یار نیچی چھت پر کیا سوتے اونچے پربت پر ہوتے اور اگر کروٹ پھرتے اپنی چھت پر آ گرتے

مزید پڑھیے

کیا کھیلیں کہاں کھیلیں

بولیں غصہ ہو کر باجی گھر میں کیا تک ہے کرکٹ کی عدنان ایمن ثمرہ فیضی باہر جا کر کھیلو نا پودے ٹوٹ نہیں جائیں گے گملے پھوٹ نہیں جائیں گے ابو روٹھ نہیں جائیں گے کیرم لا کر کھیلو نا ایک گوٹ کیرم کی کم تھی اوپر سے آ دھمکی عرشی سب نے مانی بات زمن کی ریل بنا کر کھیلو نا اس کے گارڈ بنے ...

مزید پڑھیے

صور اسرافیل

اب تو بستر کو جلدی سے تہہ کر چکو لقمہ ہاتھوں میں ہے تو اسے پھینک دو اپنے بچوں کی جانب سے منہ پھیر لو اس گھڑی بیویوں کی نہ پروا کرو راہ میں دوستوں کی نظر سے بچو اس سے پہلے کہ تعمیل میں دیر ہو سائرن بج رہا ہے چلو دوستو!

مزید پڑھیے

قوالی

سبق بس کھیلنے کھانے کا جس کو یاد ہوتا ہے بڑا ہو کر وہ لڑکا ایک دن استاد ہوتا ہے نہ آئے ماسٹر جس دن پڑھانے میرے درجے میں ذرا سی دیر کو اس دن میرا دل شاد ہوتا ہے جو مولیٰ بخش سے وہ پیٹتے ہیں مجھ کو مکتب میں کوئی سمجھائے ان کو وقت بھی برباد ہوتا ہے بنایا جاتا ہوں مرغا میں جس دن اپنے ...

مزید پڑھیے

تری ہنسی

فلک کا ایک تقاضا تھا ابن آدم سے سلگ سلگ کے رہے اور پلک جھپک نہ سکے ترس رہا ہو فضا کا مہیب سناٹا سڈول پاؤں کی پائل مگر چھنک نہ سکے کلی کے اذن تبسم کے ساتھ شرط یہ ہے کہ دیر تک کسی آغوش میں مہک نہ سکے میں سوچتا ہوں کہ یہ تیری بے حجاب ہنسی! مزاج زیست سے اس درجہ مختلف کیوں ہے یہ ایک شمع ...

مزید پڑھیے

ہار جیت

میری بن جانے پہ آمادہ ہے وہ جان حیات جو کسی اور سے پیمان وفا رکھتی ہے میرے آغوش میں آنے کے لئے راضی ہے جو کسی اور کو سینے میں چھپا رکھتی ہے شاعری ہی نہیں کچھ باعث عزت مجھ کو اور بہت کچھ حسد و رشک کے اسباب میں ہے مجھ کو حاصل ہے وہ معیار شب و روز کہ جو اس کے محبوب کے ہاتوں میں نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 393 سے 960