شاعری

دودھیا نغمہ

ہیا ہیا ہیو ہیو ہنستے گاتے ہوئے جیو پیارے بچو سوپ پیو ثمرہ بیٹی دودھ پیو تن پر بوٹی چڑھ جاتی ہے سر پر چوٹی بڑھ جاتی ہے اچھی لڑکی پڑھ جاتی ہے ثمرہ بیٹی دودھ پیو جگ میں نام کمانا ہو تو اول نمبر آنا ہو تو دنیا پر چھا جانا ہو تو ثمرہ بیٹی دودھ پیو دودھ پیو دنیا جانے گی پبلک تم کو پہچانے ...

مزید پڑھیے

بولتی پہیلی

ہرا سمندر گوپی چندر دنیا بھر ڈبیہ کے اندر چین سے باتیں مدوؔ سے نسرینؔ سے باتیں گردن میں لٹکی رہتی ہے کانوں سے لپٹی رہتی ہے رومنگ اچھی سرچ بہت ہے لیکن اس میں خرچ بہت ہے

مزید پڑھیے

مرے وطن کی چاند سر زمیں

بہ ہر قدم مناظر حسیں سنہری صبح شام سرمگیں یہ خاک زر یہ آب آتشیں جھکی ہے احترام سے جبیں مرے وطن کی چاند سر زمیں بہ ایں مزاج آب و گل عوام پہاڑ جیسے مستقل عوام کروڑوں جسم ایک دل عوام بتائیے نظر میں ہیں کہیں مرے وطن کی چاند سر زمیں زمانے بھر کو امن کا پیام پلا رہی ہے شانتی کے ...

مزید پڑھیے

بزدلی

یہ کوئی طریقہ ہے طنز یوں نہیں کرتے شادؔ عارفی صاحب آپ جیسے دل والے اس طرح نہیں مرتے شادؔ عارفی صاحب باغباں کی سازش سے پھول توڑ کر گلچیں خار میں پروئیں گے نام لے کے طوفاں کا ناخدا سفینوں کو ریت میں ڈبوئیں گے آپ کی تمنا تھی جیل جا کے مرنے کی بھول ہو گئی شاید لوٹتی رہی پیہم ساٹھ سال ...

مزید پڑھیے

مسکراہٹ کا بیج

کس جگہ میں نے اس کو دیکھا تھا کون سا ماہ کون سا دن تھا یاد اس کے سوا نہیں کچھ بھی کار زن سے نکل گئی تھی مگر کار سے جھانکتا ہوا چہرہ دیکھ کر مجھ کو مسکرایا تھا جانے کیا بات ہے کہ میں جب بھی جس جگہ بھی اداس ہوتا ہوں کار سے جھانکتا ہوا چہرہ یاد آتا ہے مسکراتا ہے اور میں مسکرانے لگتا ...

مزید پڑھیے

پاکیزگی کا سولہواں سال

آنکھیں ہی آنکھیں اگ آئی ہیں سارے دروازوں پر اپنا خون ہی گندی گندی باتیں کرتا ہے کانوں میں ہر کھونٹی میری جانب انگشت نمائی کرتی ہے گھور گھور کر مجھ کو ہر شے دیکھ رہی ہے گرم گرم سانسوں کے پھیکے تکیے سے نکلا کرتے ہیں گیلے ہونٹ ہوا کے میرے گالوں پر رینگا کرتے ہیں اک ان جانی خواہش پلو ...

مزید پڑھیے

نرسری رائم

میں ہوں شمی میری امی چھوٹا ڈبو پیارے ابو ہم سب مل کر چار ہوئے پھول ملے تو ہار ہوئے امی کافی ابو ٹافی ڈبو پپی کہہ دے اپنی ہم سب مل کر چار ہوئے پھول ملے تو ہار ہوئے

مزید پڑھیے

وصیت

گڈو بیٹے روتے کیوں ہو قصہ سننے کی خواہش ہے اچھا اپنے آنسو پونچھو لو ہم اک قصہ کہتے ہیں اکسٹھ سال گزرتے ہیں افغانوں کی اک بستی میں لڈن خاں نے جنم لیا تھا داروغہ کے بیٹے تھے وہ نانا ان کے مولانا تھے کھاتا پیتا گھر تھا ان کا لڈن خاں اچھے بچے تھے بالکل ویسے جیسے تم ہو ان کے گھر والے ...

مزید پڑھیے

کیسے سمجھائیں نانی کو

دس روپے فی بوتل پانی ہکا بکا رہ گئی نانی اپنا بچپن یاد کیا تو ارزانی سی تھی ارزانی بارہ آنے سیر اصلی گھی گیارہ آنے تولہ چاندی کیلے تھے دو پیسے درجن چاول پانچ آنے پنسیری بائیسکوپ ٹکٹ ایک آنہ ایک اٹھنی کا پاجامہ اسکولوں میں فیس نہیں تھی کالج دو روپے ماہانہ نانا کی تنخواہ جو ...

مزید پڑھیے

ہلا بولنے والے

آندھی تھی طوفان تھا کیا تھا میری میز پہ کون آیا تھا کیمل انک پڑی ہے الٹی گل دانوں میں ریت بھری ہے کرسی کی ٹانگیں ترچھی ہیں فائل میں تتلی نتھی ہے ٹائم پیس کا شیشہ ٹوٹا میز پوش پر کالے دھبے کٹے ہوئے اخبار کے فوٹو لیٹر پیڈ میں کاغذ آدھے ٹوپی غائب ہے شیفر کی کم ہیں البم کے نو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 392 سے 960