شاعری

تجرید

زندگی میں ترے دروازے پر اک بھکاری کی طرح آیا تھا اپنے دامن کو بنا کر کشکول تیری ہر راہ پہ پھیلایا تھا ایک مرحوم کرن کی خاطر مجھ کو تھوڑی سی ضیا بھی نہ ملی دم بہ دم ڈوبتے سیارے کو اپنے مرکز سے صدا بھی نہ ملی دفعتاً ایک دھماکے کے ساتھ کچے دھاگوں کے سرے چھوٹ گئے انگلیاں چھل گئیں ...

مزید پڑھیے

آسماں زرد تھا

اے کلی تجھ کو ہمارا بھی خیال آ ہی گیا ہم تو مایوس ہوئے بیٹھے تھے صحراؤں میں اب ترا روپ بھی دھندلا سا چلا تھا دل میں تو بھی اک یاد سی تھی جملہ حسیناؤں میں تہہ بہ تہہ گرد سے آلود تھا دن کا دامن رات کا نام نہ آتا تھا تمناؤں میں رقص شبنم کی پرستار نگاہوں کے لیے دھوپ کے ابر تھے خورشید ...

مزید پڑھیے

یاد

رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباس چاند کشکول گدائی کی طرح نادم ہے ایک اک سانس کسی نام کے ساتھ آتی ہے ایک اک لمحۂ آزاد نفس مجرم ہے کون یہ وقت کے گھونگھٹ سے بلاتا ہے مجھے کس کے مخمور اشارے ہیں گھٹاؤں کے قریب کون آیا ہے چڑھانے کو تمناؤں کے پھول ان سلگتے ہوئے لمحوں کی چتاؤں کے ...

مزید پڑھیے

مسافر

مرے وطن تری خدمت میں لے کر آیا ہوں جگہ جگہ کے طلسمات دیس دیس کے رنگ پرانے ذہن کی راکھ اور نئے دلوں کی امنگ نہ دیکھ ایسی نگاہوں سے میرے خالی ہاتھ نہ یوں ہو میری تہی دامنی سے شرمندہ بسے ہوئے ہیں مرے دل میں سیکڑوں تحفے بہت سے غم کئی خوشیاں کئی انوکھے لوگ کہیں سے کیف ہی کیف اور کہیں سے ...

مزید پڑھیے

ماہ و سال

اسی روش پہ ہے قایم مزاج دیدہ و دل لہو میں اب بھی تڑپتی ہیں بجلیاں کہ نہیں زمیں پہ اب بھی اترتا ہے آسماں کہ نہیں؟ کسی کے جیب و گریباں کی آزمائش میں کبھی خود اپنی قبا کا خیال آتا ہے ذرا سا وسوسۂ ماہ و سال آتا ہے؟ کبھی یہ بات بھی سوچی کہ منتظر آنکھیں غبار راہ گزر میں اجڑ گئی ہوں ...

مزید پڑھیے

کہانی

بچو، ہم پر ہنسنے والو، آؤ، تمہیں سمجھائیں جس کے لیے اس حال کو پہنچے، اس کا نام بتائیں روپ نگر کی اک رانی تھی، اس سے ہوا لگاؤ بچو، اس رانی کی کہانی سن لو اور سو جاؤ اس پر مرنا، آہیں بھرنا، رونا، کڑھنا، جلنا آب و ہوا پر زندہ رہنا، انگاروں پر چلنا ہم جنگل جنگل پھرتے تھے اس کے لیے ...

مزید پڑھیے

پہلا پتھر

صبا ہمارے رفیقوں سے جا کے یہ کہنا بصد تشکر و اخلاص و حسن و خوش ادبی کہ جو سلوک بھی ہم پر روا ہوا اس میں نہ کوئی رمز نہاں ہے، نہ کوئی بوالعجبی ہمارے واسطے یہ رات بھی مقدر تھی کہ حرف آئے ستاروں پہ بے چراغی کا لباس چاک پہ تہمت قبائے زریں کی دل شکستہ پہ الزام بد دماغی کا صبا جو راہ ...

مزید پڑھیے

بزدل

آج اک افسروں کے حلقے میں ایک معتوب ماتحت آیا اپنے افکار کا حساب لیے اپنے ایمان کی کتاب لیے ماتحت کی ضعیف آنکھوں میں ایک بجھتی ہوئی ذہانت تھی افسروں کے لطیف لہجے میں قہر تھا، زہر تھا، خطابت تھی یہ ہر اک دن کا واقعہ، اس دن صرف اس اہمیت کا حامل تھا کہ شرافت کے زعم کے با وصف میں بھی ...

مزید پڑھیے

مری پتھر آنکھیں

اب کے مٹی کی عبارت میں لکھی جائے گی سبز پتوں کی کہانی رخ شاداب کی بات کل کے دریاؤں کی مٹتی ہوئی مبہم تحریر اب فقط ریت کے دامن میں نظر آئے گی بوند بھر نم کو ترس جائے گی بے سود دعا نم اگر ہوگی کوئی چیز تو میری آنکھیں میرا اجڑا ہوا چہرہ مری پتھر آنکھیں قحط افسانہ نہیں اور یہ بے ابر ...

مزید پڑھیے

ریستوران میں

ہم اک چائے کی میز پہ آ کر عشق کا قصہ لے بیٹھے تھے ہر خاتون بڑی کومل تھی مرد نہایت دل والے تھے معتبران شہر میں اک نے اس کو فلاطونی ٹھہرایا ان کی شریک حیات نے اس پر طنز سے ''جی اچھا!'' فرمایا پادریوں میں اک یہ بولے عشق گھریلو ہو نہ تو اس سے نظم شکم برہم ہوتا ہے اک لڑکی نے پوچھا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 394 سے 960