تجرید
زندگی میں ترے دروازے پر اک بھکاری کی طرح آیا تھا اپنے دامن کو بنا کر کشکول تیری ہر راہ پہ پھیلایا تھا ایک مرحوم کرن کی خاطر مجھ کو تھوڑی سی ضیا بھی نہ ملی دم بہ دم ڈوبتے سیارے کو اپنے مرکز سے صدا بھی نہ ملی دفعتاً ایک دھماکے کے ساتھ کچے دھاگوں کے سرے چھوٹ گئے انگلیاں چھل گئیں ...