شاعری

عرابچی سو گیا ہے

عرابچی سو گیا ہے طولانی فاصلوں کی تھکن سے مغلوب ہو گیا ہے خبر نہیں ہے اسے کہاں ہے بس ایک لمبے کٹے پھٹے ناتراش رستے پہ چوبی گاڑی ازل سے یوں ہی ابد کی جانب رواں دواں ہے ذرا سے جھٹکے سے چرچراتی ہے جب تو بوسیدگی کی لاکھوں تہوں میں لپٹا ہر ایک ذی روح چونکتا ہے عرابچی خواب دیکھتا ہے وہ ...

مزید پڑھیے

تم نے اسے کہاں دیکھا ہے

کبھی تم نے دیکھا ہے خوابوں سے آگے کا منظر جہاں چاند تاروں سے روٹھی ہوئی رات اپنے برہنہ بدن پر سیہ راکھ مل کر الاؤ کے چاروں طرف ناچتی ہے! کبھی تم نے جھانکا ہے پلکوں کے پیچھے تھکی نیلی آنکھوں کے اندر جہاں آسمانوں کی ساری اداسی خلا در خلا تیرتی ہے کبھی تم نے اک دن گزارا ہے رستوں کے ...

مزید پڑھیے

وہ دن تیری یاد کا دن تھا

وہ دن تیری یاد کا دن تھا اس دن میں بھول گیا سانسیں لینا لمحے ڈھونا باتیں کرنا کھل کھل ہنسنا چھپ کر رونا لکھنا پڑھنا جاگنا سونا وہ دن تیری یاد کا دن تھا اس دن میں بھول گیا جینا مرنا کچھ بھی کرنا!

مزید پڑھیے

مجھے اک خواب لکھنا ہے

مجھے اک خواب لکھنا ہے کہیں اسکول سے بھاگے کسی بچے کی تختی پر مجھے اک چاند لکھنا ہے سواد شام سے گہری سیہ عورت کے ماتھے پر مجھے اک گیت لکھنا ہے گھنے بانسوں کے جنگل میں ہوا کے سرد ہونٹوں پر مجھے ایک نام لکھنا ہے پرانی یاد گاروں میں کسی بے نام کتبے پر

مزید پڑھیے

ایک ضبط شدہ پوسٹر

خواب ہماری گلیوں کے گندے پانی پر مچھر مار دوائیں ہیں باورچی خانوں میں آٹے گھی اور تیل کے خالی ڈبے آنے والی نسلوں کی آنکھیں ہیں بھوک ہمارے آنگن کی رقاصہ ہے پیاس ہمارا تاریخی ورثہ ہے تحریریں پڑھنے والو! لفظ نصابوں کے قیدی ہیں تعبیریں ڈھونڈنے والو! ہم سب ان دیکھے خوابوں کے قیدی ...

مزید پڑھیے

تاریخ ٹسوے بہائے گی

تم سر بام آ کر اٹھایا ہوا ہاتھ اپنا ہلا کر چمک دار آنکھوں سے اپنی مجھے رخصتی کا اگر اذن دیتیں تو میں دشمنوں کے لیے موت بن کر نکلتا تمہارے فقط اک اشارے سے کشتوں کے پشتے لگاتا چلا جاتا تم دیکھتیں کس طرح میں زمانے کی سرحد ذرا دیر میں پار کرتا ہر اک سمت سے وار کرتا محبت کی تاریخ تبدیل ...

مزید پڑھیے

اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہو

اجنبی کس خواب کی دنیا سے آئے ہو تھکے لگتے ہو آنکھوں میں کئی صدیوں کی نیندیں جاگتی ہیں فاصلوں کی گرد پلکوں پر جمی ہے اجنبی! کیسی مسافت سے گزر کر آ رہے ہو کون سے دیسوں کے قصے درد کی خاموش لے میں گا رہے ہو دور سے نزدیک آتے جا رہے ہو اجنبی آؤ! کسی اگلے سفر کی رات سے پہلے ذرا آرام کر ...

مزید پڑھیے

پانی میں گم خواب

خواب اور خواہش میں فاصلہ نہیں ہوتا عکس اور پانی کے درمیان آنکھوں میں آئینہ نہیں ہوتا سوچ کی لکیروں سے شکل کیا بناؤ گے درد کی مثلث میں زاویہ نہیں ہوتا بے شمار نسلوں کے خواب ایک سے لیکن نیند اور جگراتا ایک سا نہیں ہوتا جوہری نظاموں میں نام بھول جاتے ہیں کوڈ یاد رہتے ہیں ایٹمی ...

مزید پڑھیے

مرگ پیچ

مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہے دوڑتا پھرتا ہوں سارے کام نپٹانے کی جلدی ہے پہاڑوں اور جھیلوں کی خموشی سے قدیمی گیت سننے ہیں پرانے داستانی بھید لینے ہیں درختوں سے نموکاری کی بابت پوچھنا ہے نت نئی شکلیں بناتے بادلوں کو دیکھنا ہے خوش نوا اچھے پرندوں سے اڑن پھل کا پتا ...

مزید پڑھیے

دیوار قہقہہ

دیکھو دیکھو!! اوپر سے نیچے تک دیکھو آگے سے پیچھے تک دیکھو جنگل اور پہاڑ سے لے کر گھر کے باغیچے تک دیکھو چڑیا باز ہما اور ققنس ہر پنچھی کی بینائی سے حد فلک کی پہنائی سے اڑتے غالیچے تک دیکھو شہروں میں دیہات میں دیکھو دن میں دیکھو رات میں دیکھو رستوں کی اطراف میں دیکھو گدلے میں شفاف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 373 سے 960