شاعری

میں وہی ہوں

تری سرمئی آنکھ سے بہنے والا سیہ اشک جس نے ملال اوڑھ کر تیری تکمیل کی میں نے جو بھی کیا اپنے اندر کا وحشی جگا کر ترے سامنے سر بہ زانو کیا یا اداسی کے جبڑے سے چھینی ہوئی رنج کی اس غضب ناک خوراک سے تیرا دوزخ بھرا تیری تکمیل کی اب مجھے بھی اذیت کی بابت میں کوئی ستارہ بدن چاہیے اپنے ...

مزید پڑھیے

ساحلوں پر بہت گندگی ہے

سمندر کی لہروں میں لٹکے لبادے سا لاغر بدن یہ ہینگر پہ خودکشی کا سرہانا لگا کر نصیر اور زیرک کی نظمیں کسی رائیگانی کے زیر اثر پڑھ رہا ہے لپٹتی جھپٹتی شرارت سے بھرپور لہروں کا پاؤں بھگونا کسی بدشگونی کی جانب اشارہ نہیں مجھ میں ایسا سمندر ہے جس کا کنارہ نہیں روشنی کو چھوتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

شب شکست

بارہویں مرتبہ موت کا خواب تکمیل تک آتے آتے کہیں رہ گیا ہے مجھے کوئی زخموں کے ٹانکے لگانا سکھا دے تو میں اپنا چمڑا اسے دان کر دوں گا پھر چاہے وہ اس کے جوتے بنائے یا اپنی بلاؤں کا صدقہ اتارے اگر دیوتاؤں میں جھگڑا ہوا اور تم اس زمیں پر کسی ان سنے قہقہے کے شکم سے بر آمد ہوئے تو میں ...

مزید پڑھیے

اے ناظر بے خبر

اے ناظر بے خبر اب تم نا ہی آؤ تو اچھا ہے اب یہاں پھر شروع سے شروع کون کرے لمحہ لمحہ شب غم کا یوں عدو کون کرے ہونٹ سوکھے ہیں انہیں پھر سے کماں کون کرے دید کو چشمہ و شمشیر زباں کون کرے شام کو پھر سے چراغاں کروں ہمت ہی نہیں قصے وہ پھر سے سناؤں تجھے قوت ہی نہیں جو دریا بہہ گیا وہ پھر نہ ...

مزید پڑھیے

پیلے دیے

ہو تصور عشق کا اور ہو سیاہی رات کی عمر نازک موم سی ہو یاد ہو اس بات کی شہر کی ٹھنڈی ہوا چہرے پہ میں لیتا ہوا خوش نصیبی کا وہ امکاں جیسے ہو پہلا جوا تھک گئے جو شور سے تو گھر کو جائے مے پئے ٹار کی لمبی سڑک ہو اس پہ ہوں پیلے دیے عمر جیسے کٹ رہی ہو اور گھٹتی بھی نہ ہو عشق کی کالی گھٹا ہو ...

مزید پڑھیے

جھیل کنارے

جھیل کنارے رہنے والی موتی جیسے چہرے والی تم کو میری خبر نہیں ہے ایک ہمارا شہر نہیں ہے گنجائش بھی نہیں ہے کوئی کبھی ملیں گے ہم دو راہی یعنی دور کے ڈھول ہنوز اک دوجے سے ہیں محفوظ عشق کہ خاطر بالکل ٹھیک کبھی نہ آئیں گے نزدیک اسے سہولت جان کے میں نے دل والی ہو مان کے میں نے اپنی طرف ...

مزید پڑھیے

جوانی

یہ باتیں ہیں جوانی کی کہانی ہے جوانی ہے جوانی میں کہ قوت بازوؤں میں ہے وہی ہے عمر جو اکثر سبب بنتی ہے جرأت کا و شہرت کا یہ باتیں ہیں جوانی کی کہانی ہے جوانی کی بنا کر تیغ جس کو شہسواروں نے اکھاڑے ظلم و ذلت کے سبھی لشکر زمیں پر سے سمندر سے یہ باتیں ہیں جوانی کی کہانی ہے مگر دور ...

مزید پڑھیے

مرثیہ

اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جا کہ میری آنکھوں میں اب لہو ہے نہ خواب کوئی میں سب دئیے طاق آرزو کے بجھا چکا ہوں تو ہی بتا اب کہ مرگ مہتاب و خون انجم پہ نذر کیا دوں نہ میرا ماضی نہ میرا فردا بکھر گئی تھی جو زلف کب کی سنور چکی ہے اور آنے والی سحر بھی آ کر گزر چکی ہے اداس یادوں کی ...

مزید پڑھیے

اپنے شہروں کے لئے دعا

پاکستان کے سارے شہرو زندہ رہو پایندہ رہو روشنیوں رنگوں کی لہرو زندہ رہو پایندہ رہو باطل سے تم کبھی نہ ڈرنا ظلم کبھی منظور نہ کرنا عظمت و ہیبت کی دیوارو زندہ رہو پایندہ رہو عکس پڑیں جس جگہ تمہارے چمکیں زمینیں ان کی ضیا سے میرے وطن کے چاند ستارو زندہ رہو پایندہ رہو موسم آئیں گزرتے ...

مزید پڑھیے

یاد

کبھی کبھی کوئی یاد کوئی بہت پرانی یاد دل کے دروازے پر ایسے دستک دیتی ہے شام کو جیسے تارا نکلے صبح کو جیسے پھول جیسے دھیرے دھیرے زمیں پر روشنیوں کا نزول جیسے روح کی پیاس بجھانے اترے کوئی رسول جیسے روتے روتے اچانک ہنس دے کوئی ملول کبھی کبھی کوئی یاد کوئی بہت پرانی یاد دل کے دروازے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 333 سے 960