شاعری

جھومر

سہیلی یوں تو کچھ کچھ سانولے سے ہیں مرے ساجن مگر تیری قسم بے حد رسیلے ہیں مرے ساجن جو میں کہتی ہوں اس کو مسکرا کر مان جاتے ہیں بہت پیارے بڑے ہی بھولے بھالے ہیں مرے ساجن میں ان سے پریم کرتی ہوں بھلا میں کیا بتاؤں گی سکھی تو بول تجھ کو کیسے لگتے ہیں مرے ساجن بظاہر وہ دکھائی دیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

مسیحا

تجربے گرچہ یہ بتاتے ہیں وقت بے رحم اک سپاہی ہے جس کا مضبوط و آہنی پنجہ دل کا آئینہ توڑ دیتا ہے دشت ہستی میں آبلہ پا کو ہمہ دم راہ غم دکھاتا ہے نو بہ نو انتشار لاتا ہے زندگی کو دکھی بناتا ہے لیکن اے ہم سفر ٹھہر تو سہی تجربے یہ بھی تو بتاتے ہیں وقت اک نرم دل مسیحا ہے جس کے نازک حسین ...

مزید پڑھیے

تہ خنجر

اقلیت کہیں کی ہو تہ خنجر ہی رہتی ہے ہلاکت خیز ہاتھوں کے ہزاروں جبر سہتی ہے خس و خاشاک کی مانند سیل غم میں بہتی ہے نہ کوئی خواب آنکھوں میں نہ دل میں آسرا کوئی نہ جوئے خوں سے بچنے کا نظر میں راستہ کوئی نہ مستقبل کی آوازیں نہ منزل کی صدا کوئی خود اپنی ہی فضا میں خوف کا احساس ہر ...

مزید پڑھیے

حق اور گھر

کبھی ان چڑیوں سے بھی پوچھنا ہے تمہارا گھر کہاں ہے یہ گھر ہے کیا یہ گھر ہے کب ہوا کرتا ہے کس کا یے رٹائر ہو چکا ہوں میں جو کہتے ہیں وو کالج تھا غلط ہیں وو ہے کب پہچان رشتوں کی ہے کب پہچان جگہوں کی وو میرا گھر تھا میری جان وہی ہر روز کا جانا قطاریں کمروں کی ہوتیں بڑے کچھ اور کچھ ...

مزید پڑھیے

آزادی کا حق

یہ سچ ہے اب آزاد ہیں ہم مٹی سے سگندھ یہ آتی ہے اے جان سے پیارے ہم وطنو ابھی کام بہت کچھ باقی ہے آزادی پہلی منزل تھی تھا حوصلہ سب نے ساتھ دیا کانٹوں سے بھرے ان رستوں کو زخمی پیروں سے پار کیا آگے دیکھا محبوب نظر بیٹھا وو ہمارا ساقی ہے اے جان سے پیارے ہم وطنو ابھی کام بہت کچھ باقی ...

مزید پڑھیے

پت جھڑ

یہ رقص آفرینش ہے کہ شور مرگ ہے اے دل ہوا کچھ اس طرح پیڑوں سے مل مل کر گزرتی ہے کہ جیسے آخری بوسہ ہو یہ پہلی محبت بھی ہر اک سو مرگ آرا ہے عدم انگیزیٔ فطرت مگر شاید نگاہوں میں ابھی کچھ ذوق باقی ہے کہ میں اس کرب میں بھی کیف پاتا ہوں جہاں تک دیکھ پاتا ہوں زمیں پر تابش زر ہے فضائے نیلگوں ...

مزید پڑھیے

درد کی آواز

اڑتی دیش میں گرد نہیں ہے تمہیں ذرا بھی درد نہیں ہے دیش ہے اپنا مانتے ہو نا دکھ جتنے ہیں جانتے ہو نا پیڑ ہے ایک پر ڈالیں بہت ہیں ڈالوں پر ٹہنیاں بہت ہیں پتے ہیں روزانہ اگتے پیلے لیکن گرتے رہتے تم ہو مالی نظر کہاں ہے چمن کی سوچو دھیان کہاں ہے کیا تم سے ہر فرد نہیں ہے تمہیں ذرا بھی ...

مزید پڑھیے

میٹرو شہر کی ایک عام لڑکی

کان پک جاتے ہیں دنیا کی شکایت سن کر کس نے جانا ہے تمہیں کس کا یقیں کر لوں میں وو جو کہتے ہیں کے تم عام سی لڑکی ہو جسے فکر اپنی ہے کسی اور سے مطلب ہی نہیں اپنی روزانہ کی روٹین میں میں جکڑی جکڑی وہ ہی میٹرو کی سواری وہ ہی آپا دھاپی تل نہ دھرنے کی جگہ پھر بھی پہنچنا ہے جسے اپنی ہر چیز ...

مزید پڑھیے

ایک گزارش

شکستہ ہوں مگر دولت بھی ہے حاصل ہوئی ہم کو گزارے ساتھ جو پل قدر اس کی ہو نہیں کس کو بنے سرمایہ ہیں وہ زندگی کا پیار سے رکھنا خودارا یادیں مت لینا یہی یادیں ہیں لے جائیں گی ہم کو آخری دم تک نہ کوئی ہم سفر ہوگا نہ جائے گا کوئی گھر تک یہ گھر احساس کا ہوگا میرا احساس مت لینا خودارا ...

مزید پڑھیے

محسوس کرنا

مجھے حسرت ہے میرا نظم کردہ فلسفہ تم کو سمجھ آئے تمہیں یہ فلسفہ باور کرانے کے لیے میرے سوا افلاک سے اب کوئی بھی آدم نہیں گرنا تمہارے جسم سے مجھ تک جو دوری ہے تمہیں معلوم ہو یہ ایک تھیوری ہے آدم نام کا دھبا زمین و آسماں کا فاصلہ طے کر کے تم کو صرف اتنا بولنے آیا ہوں سن لو مجھے آنکھوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 332 سے 960