شاعری

وصالیہ

سب بارشیں ہو کے تھم چکی تھیں روحوں میں دھنک اتر رہی تھی میں خواب میں بات کر رہا تھا وہ نیند میں پیار کر رہی تھی احوال ہی اور ہو رہے تھے لذت میں وصال رو رہے تھے بوسوں میں دھلے دھلائے دونوں نشے میں لپٹ کے سو رہے تھے چھوٹا سا حسین سا وہ کمرہ اک عالم خواب ہو رہا تھا خوشبو سے گلاب ہو ...

مزید پڑھیے

ساتھی سے

میں خود ہی اپنی بہار سے روٹھنے لگوں گر تو تم مجھے روٹھنے نہ دینا جو وار لمحے کا ہو وہ سہنا یہ سوچ لینا کہ ایک لمحہ گریز کا کیسے محبتوں کی اک عمر پامال کر کے گزر رہا ہے

مزید پڑھیے

آئینہ

میں آئینہ ہوں اور ہر آنے والے کو وہی چہرہ دکھاتا ہوں جو میرے سامنے لائے مگر اب تھک گیا ہوں چاہتا ہوں کوئی مجھ کو اس طرح دیکھے کہ چکنا چور ہو جاؤں

مزید پڑھیے

سچا جھوٹ

میں بھی جھوٹا تم بھی جھوٹے آؤ چلو تنہا ہو جائیں کون مریض اور کون مسیحا اس دکھ سے چھٹکارا پائیں آنکھیں اپنی خواب بھی اپنے اپنے خواب کسے دکھلائیں اپنی اپنی روحوں میں سب اپنے اپنے کوڑھ سجائیں اپنے اپنے کندھوں پر سب اپنی اپنی لاش اٹھائیں بیٹھ کے اپنے اپنے گھر میں اپنا اپنا جشن ...

مزید پڑھیے

آئیڈیل

میری آنکھوں میں کوئی چہرہ چراغ آرزو وہ میرا آئینہ جس سے خود جھلک جاؤں کبھی ایسا موسم جیسے مے پی کر چھلک جاؤں کبھی یا کوئی ہے خواب جو دیکھا تھا لیکن پھر مجھے یاد کرنے پر بھی یاد آیا نہ تھا دل یہ کہتا ہے وہی ہے ہو بہو جس کو دیکھا تھا کبھی اور سامنے پایا نہ تھا گفتگو اس سے ہے اور ہے ...

مزید پڑھیے

میں زندہ ہوں

آخری رات تھی وہ میں نے دل سے یہ کہا حرف جو لکھے گئے اور جو زباں بولی گئی سبھی بیکار گئے میں بھی اب ہار گیا یار بھی سب ہار گئے کوئی چارہ نہیں جز ترک تعلق اے دل اک صدا اور سہی آخری بار جسم سے چھیڑا اسے روح سے چھو لے اسے آخری بار بہے ساز بدن سے کوئی نغمہ کوئی لے آخری رات ہے یہ آخری بار ...

مزید پڑھیے

نمو

میں وہ شجر تھا کہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھی زمیں کی آنکھیں درازیٔ عمر کی دعاؤں میں رو رہی تھیں اور سورج کے ہاتھ تھکتے نہیں تھے مجھ کو سنوارنے میں کہ میں اک آواز کا سفر تھا عجب شجر تھا کہ اس مسافر کا منتظر تھا جو میرے سائے میں آ کے بیٹھے تو ...

مزید پڑھیے

چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

مرے خدایا میں زندگی کے عذاب لکھوں کہ خواب لکھوں یہ میرا چہرہ یہ میری آنکھیں بجھے ہوئے سے چراغ جیسے جو پھر سے چلنے کے منتظر ہوں وہ چاند چہرہ ستارہ آنکھیں وہ مہرباں سایہ دار زلفیں جنہوں نے پیماں کیے تھے مجھ سے رفاقتوں کے محبتوں کے کہا تھا مجھ سے کہ اے مسافر رہ وفا کے جہاں بھی جائے ...

مزید پڑھیے

محبت

میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے نہ خال و خد کا جمال اس میں نہ زندگی کا کمال کوئی جو کوئی اس میں ہنر بھی ہوگا تو مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے نہ جانے پھر کیوں! میں وقت کے دائروں سے باہر کسی تصور میں اڑ رہا ہوں خیال میں خواب و خلوت ذات و جلوت بزم میں شب و ...

مزید پڑھیے

کیتھارسس

مجھے خبر ہے تمہاری آنکھوں میں جو چھپا ہے تمہارے چہرے پہ جو لکھا ہے لہو جو ہر آن بولتا ہے مجھے بتا دو اور اپنے دکھ سے نجات پا لو

مزید پڑھیے
صفحہ 334 سے 960