شاعری

ویرانی

شہر کی گلیاں گھوم رہی ہیں میرے قدم کے ساتھ ایسے سفر میں اتنی تھکن میں کیسے کٹے گی رات خواب میں جیسے گھر سے نکل کے گھوم رہا ہو کوئی رات میں اکثر یوں بھی پھری ہے تیرے لیے اک ذات چند بگولے خشک زمیں پر اور ہوائیں تیز اس صحرا میں کیسی بہاریں کیسی بھری برسات دھوم مچائیں بستی بستی سوچ ...

مزید پڑھیے

بن مانس

بن مانس کے کالے بدن پر ہیرے چمکتے ہیں بن مانس کی اجلی ہنسی سے بچے ڈرتے ہیں بن مانس مجھ پر چھلکے پھینکتا رہتا ہے برکھا آتی ہے اور دانے بوتی ہے جب برکھا آتی ہے اور دانے بوتی ہے میں اپنے دھیان کے جنگل میں چھپ جاتا ہوں بن مانس کے کالے بدن پر ہیرے چمکتے ہیں بن مانس کی اجلی ہنسی سے بچے ...

مزید پڑھیے

المیہ کھیل کا ایک کردار

جب میں بچہ تھا راوی کے گالوں سے ڈرتا تھا اب دشمن کی چالوں سے ڈرتا ہوں میرے بچپن میں آگ کی اطراف دراوڑ لڑکیاں گیت گاتی تھی اور اب میں ایک ہوٹل میں بینڈ بجاتا ہوں اور لومڑی کی کھال سے اپنا لباس سیتا ہوں

مزید پڑھیے

شہزادے کی موت

یہ سماں اور رات کی جادوگری چاند کا لے کر چلی ہاتھوں میں تاج کچھ طلسمی لوگ پتھرائے ہوئے کچھ طلسمی لڑکیاں جیسے تمناؤں کے مور جن سے آ کر کھیلتی ہے رات کی نیلم پری اور جا کر ناچتی ہے شام تک ہر قدم پر ایک شہزادے کی موت

مزید پڑھیے

میں بلندیوں پر جل رہا ہوں

میں اپنے گھر میں دیئے کی طرح جلنا چاہتا تھا مگر اب ایک فلیٹ میں بلب کی صورت جل رہا ہوں اگر کوئی مجھے بجھانا چاہتا ہے تو میرے بچے پھر مجھے جلا دیتے ہیں

مزید پڑھیے

پہاڑی کی آخری شام

ایشیا کی اس ویران پہاڑی پر موت ایک خانہ بدوش لڑکی کی طرح گھوم رہی ہے میری روشنی اور انار کے درختوں میں قزاقوں کے چاقو چمکتے ہیں اور سر پر وہ چاند ہے جو اس پہاڑی کا پہلا پیغمبر ہے اس پہاڑی پر فاطمہ رہتی ہے اس کے کپڑوں میں وہ کبوتر ہیں جو کبھی اڑ نہیں سکتے خدا نے ہمیں ایک غار میں بند ...

مزید پڑھیے

میری محبت چاہتی ہے

میری محبت چاہتی ہے مینارے گھر کے شوالوں کے کچھ باتیں مکے والوں کی کچھ قصے بنارس والوں کے میری تمنا سورج بن کے چمکتی ہے گلزاروں پر میری محبت سایہ بن کے ٹھہرتی ہے دل داروں پر روشنی میری بلندی بن کے چمکی چاند ستاروں میں میں نے گلاب کی آنکھیں دیکھیں اپنے گھر کی بہاروں میں میرے لیے ...

مزید پڑھیے

منصور حلاج

میری آنکھیں میری جان تیرا عبادت خانہ اور اپنے لیے اک نار جحیم میرا دل ہرنوں کے لیے میدان عظیم اور اپنے لیے اک خانۂ بیم دیکھ ذرا حلاج کا رقص جس نے اپنی مٹی اپنا خون نہ سمجھا اپنا خون جس کے لیے لایا ہے کوئی ایک وصال دوام ایک چراغ مبین

مزید پڑھیے

مائیکل اینجلو کی ایک رات

آدم کی پہلی آواز ان پتھروں میں اب بھی چمک رہی ہے جنہیں پہلی بار میں نے اپنی اپنی زمیں میں دیکھا میری سر زمیں ان برفاب جسموں سے آباد ہے جن جسموں میں خوبصورت آنکھیں نئی جنت کی سفیر ہیں فیڈیاس میں تجھے ایک نئے انسان کا چہرا دکھاتا ہوں اس چہرے پر انسانیت کا گریس ہے اور عظمت آدم کی وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 314 سے 960