شاعری

طوفانی رات کی آواز

اے رونے والے بادل چپ ہو جا دستک دینے والے جھینگر باہر آ کوئل مجھ میں کوک رہی ہے ڈالی مجھ میں سوکھ رہی ہے خزاں کا سورج نکل رہا ہے میں بھی چپ ہوں تو بھی چپ ہو جا میں بھی سونے والا ہوں تو بھی کسی دہقان کے گھر سو جا اے رونے والے بادل چپ ہو جا

مزید پڑھیے

درویش

میں ایک بوڑھے برگد کا درخت ہوں جس کی شاخیں کٹ چکی ہیں اور پتے بکھر چکے ہیں میرے سینے میں ایک خلا ہے جس میں ایک دن ایک بوڑھے بندر نے پناہ لی تھی نہیں اے بوڑھے برگد تم اس گنبد والی عمارت سے بہتر ہو جس میں ایک ظالم بادشاہ کی قبر ہے نہیں تم نہیں جانتے اس گنبد کے پیچھے جھونپڑیوں میں کچھ ...

مزید پڑھیے

ملاقات

بھولی بسری یادیں اب بھی کانوں میں رس گھولتی ہیں مجھ سے کیسی کیسی باتیں تنہائی میں بولتی ہیں جادو کیسے کیسے جادو چلتے ہیں گلزاروں سے گیسو کیسے کیسے گیسو اڑتے ہیں رخساروں سے شمعیں کیسی کیسی شمعیں جلتی ہیں دیواروں پر پردے کیسے کیسے پردے گرتے ہیں نظاروں پر نیند کے ماتے اندھیاروں ...

مزید پڑھیے

قصۂ چہار خواب

اول حلقۂ یاراں میں کنعاں رات کے پچھلے پہر بستیوں سے دور نہروں کے کنارے خیمہ زن وہ درختوں کی ہواؤں میں ستارے خیمہ زن بستیوں سے دور صحرا کے نظارے خیمہ زن حلقۂ یاراں میں کتنے نازنیں نازک کمر دوم رقص کے ہنگام کتنے بازوؤں کا پیچ و خم دیکھنے والوں کی نظروں میں اتر آنے کو ہے یہ بدن کا ...

مزید پڑھیے

کپاس کا پھول

تم مجھے قتل نہ کرو میں خود کئی ٹکڑوں میں بٹ جاؤں گا میرا ایک ٹکڑا کپاس کا پھول بن جائے گا اور دوسرا وہ آگ جو کپاس کے پھول سے روشن ہوتی ہے تم مجھے قتل نہ کرو میں خود کئی ٹکڑوں میں بٹ جاؤں گا میرا ایک ٹکڑا دریا بن جائے گا اور دوسرا وہ چاند جو اس دریا میں ڈوب جاتا ہے ہاں مجھے قتل نہ ...

مزید پڑھیے

رات کا تاج

شہر کی گلیوں کے روشن زاویے رات کی تنہائیوں کے ہم سفر آسماں کے نیلے نیلے حاشیے چاند کی رعنائیوں کے نوحہ گر تیرگی لپٹی ہوئی دیوار سے صبح کی تابانیوں کی منتظر راستوں کے پیچ و خم بازار سے لوٹ کر آئے ہوں جیسے بار بار ایک ویرانی ہے میری غم گسار کچھ سیہ کچھ سرخ کچھ خاکستری رنگ کے کتوں پہ ...

مزید پڑھیے

سرخ گلاب

خوابوں کی افسردہ ہوا میں رہنے والے سرخ گلاب جنگل کی تاریک فضا میں لے کے نکل آتے ہیں چراغ رات گئے جب چاند کا چہرہ دیکھتے ہیں شرماتے ہیں اور کسی غمگین شجر کے سائے میں سو جاتے ہیں دیکھو اپنے دل کی لگن میں بہنے والے سرخ گلاب آخر اپنے دل کی لگن میں اپنا پا جاتے ہیں سراغ یعنی خواب میں ...

مزید پڑھیے

دجلہ کے خواب

یہ ادائیں رقص کے ہنگام کتنی رقص خیز وہ جوانان قبیلہ ہوش سے باہر چلے کاکلوں کے سنبلستاں عارضوں پر عکس ریز جیسے ساحل کا نظارا آب دریا پر چلے اک تأثر ہے کہ رقصاں ہو رہا ہے ہر طرف شمعیں روشن ہیں چراغاں ہو رہا ہے ہر طرف آگ کے اطراف روشن جیسے اک فانوس رقص رقص کرتی لڑکیاں کچھ آگ کے ...

مزید پڑھیے

میں اکثر سرد راتوں میں

میں اکثر سرد راتوں میں زمین خانۂ دل پر اکیلے بیٹھ جاتا ہوں پھر اپنا سر جھکا کر یاد عہد رفتگاں دل میں سجاتا ہوں خیال ماضیٔ دوراں مرے اس جسم کے اندر عجب طوفاں اٹھاتا ہے ہزاروں میل کا لمبا سفر پیدل کراتا ہے میں یادوں کے دھندلکوں میں تمہارے نقش پا کو ڈھونڈنے جب بھی نکلتا ہوں تو اک ...

مزید پڑھیے

آرام ہے ہمارا

نہ رکھ نیام میں رہنے دے بے نیام ابھی تو اس کو ہاتھ میں کچھ دیر اور تھام ابھی کچھ اور لینا ہے خنجر سے تجھ کو کام ابھی عدو کا کام ہوا ہے کہاں تمام ابھی محافظ وطن آرام ہے حرام ابھی ابھی تو چھائی ہوئی ہے افق پہ غم کی گھٹا ابھی تو شعلہ فشاں ہے ہمالیہ کی فضا ابھی تو چلتی ہے سرحد پر تند و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 315 سے 960