شاعری

تعبیر

صبح دم آج مری نیند بھری آنکھ گئی شب کے حسیں خواب کی ہلکی سی جھلک لے کے اٹھی دور وادی میں کہیں ناچتے گاتے بچے پھول چہروں پہ سجی کھیلتی ہنستی آنکھیں کھلکھلاتی ہوئی شاموں میں جوانی کی مہک رقص کرتی ہوئی راتوں میں حنا کے صد رنگ لہلہاتے ہوئے کھیتوں میں نئی فصل کی بھینی خوشبو زندگی ...

مزید پڑھیے

یہ وہ بستی ہی نہیں

زندگی تو مجھے کس موڑ پہ لے آئی ہے خواب کھلتے تھے جہاں برف وہاں چھائی ہے سو دریچے ہیں مگر شمع کسی پر بھی نہیں چاند نکلے مری راتوں کا مقدر بھی نہیں کیا کروں کیا نہ کروں ہاتھ میں پتھر بھی نہیں شیش محلوں کو کوئی غم بھی نہیں ڈر بھی نہیں لوگ گونگے ہیں بیاباں میں اذاں کیسے ہو لوگ قاتل ...

مزید پڑھیے

نیلی جلد کی کتاب

میرے گھر میں جھونج بنائے گوریا کا جوڑا چونچ میں لے کر آئے جائے بھوسہ تھوڑا تھوڑا بھوسے میں کچھ تنکے بھی ہیں کچھ مٹیالے پر نیلے پیلے اجلے میلے بھورے کالے پر باغوں باغوں ہو کر آئے اپنا گھر نہ بھولے پہلے وہ رسی پر بیٹھے پل بھر جھولا جھولے پھر الماری میں اڑ کر جائے سیدھے اپنے ...

مزید پڑھیے

قصر ویراں

میں اس کو تکتا رہتا ہوں جو فرخ زاد کی غزلوں کی صورت خوب صورت ہے کہ جس کے پھول سے تن کو کسی رنگین تتلی کے رسیلے معتبر ہونٹوں کے بوسوں کی ضرورت ہے وہ اک شہکار ہے شاید خدائے پاک کے فن کا کہ جس کی سادگی میں بھی ہے رقصاں حسن کا جادو کمر سینہ ہو گردن ہو کہ اس کے دست اور بازو تراشیں سب کی ...

مزید پڑھیے

حسرت

جب شام کے سائے ڈھل جائیں جب شمعیں فلک کی جل جائیں جب رات درخشاں ہو جائے پر نور شبستاں ہو جائے تب ساتھ مرے تم سو جانا اور خواب زریں میں کھو جانا

مزید پڑھیے

گل بہ نوک خار

مری زلفیں نہیں کالی گھٹا ہیں مری پیشانی ہے مہتاب جیسی مری آنکھیں کنول کی پنکھڑی ہیں مرے لب ہیں گلابوں سے مشابہ مرے گالوں میں ہے لالی شفق کی مری گردن صراحی دار دیکھو مری باہیں ہیں مثل شاخ صندل بدن میرا ہے لالہ زار دیکھو اداؤں میں مری جادوگری ہے مری ہستی مکمل شاعری ہے ہوس کے مارو ...

مزید پڑھیے

سفر صحرا

کیا کہوں زخم کتنا گہرا ہے دور تک صرف محض صحرا ہے ہر قدم پر بگولے رقصاں ہیں راہ میں ہر سو شعلے رقصاں ہیں نہ شجر ہے نہ کوئی سایہ ہے کوئی چشمہ نہ کوئی دریا ہے دھوپ سر پر برستی رہتی ہے پیاس لب پر لرزتی رہتی ہے تیرگی چشم تر پہ طاری ہے اور سفر ہے کہ پھر بھی جاری ہے

مزید پڑھیے

عذاب ہجر

یہ تیرے ہجر کی آندھی کہاں لے آئی ہے مجھ کو یہاں ہر سمت اک سورج سوا نیزے پہ جلتا ہے نہ سر سے دھوپ اترتی ہے نہ سایہ کوئی ڈھلتا ہے ہوائے شام چلتی ہے نہ کوئی شمع جلتی ہے فلک پر نجم آتے ہیں نہ تو مہتاب آتا ہے کسی کی آنکھ سوتی ہے نہ کوئی خواب آتا ہے

مزید پڑھیے

فریاد (فریادی آشنا ہے)

کہاں ہو غالبوؔ، میروؔ نظیروؔ کہاں ہو میری زلفوں کے اسیرو میری صہبا کے پیمانو، کہاں ہو کہاں ہو میرے دیوانو کہاں ہو کہاں ہو عالمو مسند نشینو مرے خوان عطا کے ریزہ چینو! صلہ کچھ تو وفا کا دو کہاں ہو کہاں ہو میرے شہزادو کہاں ہو کہاں ہو اے مرے در کے گداؤ کم از کم اپنی صورت تو دکھاؤ کہ ...

مزید پڑھیے

سورج سے آگے اک جنگل ہے

سورج سے آگے اک جنگل ہے میں اس جنگل کا دیا ہوں چاند سے آگے میرا گھر ہے میں اس گھر کا دیا ہوں سورج سے آگے اک جنگل ہے میں اس جنگل کا دیا ہوں میں کیا جانوں کس جنگل میں میرا گھر ہے سوئی ہوئی چڑیا سے پوچھو رات کی کتنی گھڑیاں باقی ہیں میں کیا جانوں کس جنگل میں میرا گھر ہے سورج سے آگے اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 313 سے 960