غلط فہمی
انصاف کے ہتھوڑے میں ذرا بھی جان ہوتی لوگوں کے منہ پر برس جاتا ہوا میں معلق بے بسی محسوس کرتے ہوئے اپنی پیشانی لکڑی کی میز پر پٹکتا ہے
انصاف کے ہتھوڑے میں ذرا بھی جان ہوتی لوگوں کے منہ پر برس جاتا ہوا میں معلق بے بسی محسوس کرتے ہوئے اپنی پیشانی لکڑی کی میز پر پٹکتا ہے
سنو کثرت خاک میں بسنے والو سنو توسن برق رفتار پر کاٹھیاں کسنے والو یہ پھر کون سے معرکے کا ارادہ تمہاری نسوں میں یہ کس خواب فاتح کا پھر باب وحشت کھلا ہے فصیلوں پہ اک پرچم خوں چکاں گاڑ دینے کی نیت کئی لاکھ مفتوح جسموں کو پھر حالت سینہ کوبی میں روتے ہوئے دیکھنے کی تمنا یہ کس آب ...
اسی آگ میں مجھے جھونک دو وہی آگ جس نے بلایا تھا مجھے ایک دن دم شعلگی دم شعلگی مرا انتظار کیا بہت کئی خشک لکڑیوں شاخچوں، کے حصار میں جہاں برگ و بار کا ڈھیر تھا دم شعلگی مجھے ایک پتے نے یہ کہا تھا گھمنڈ سے ادھر آ کے دیکھ کہ اس تپیدہ خمار میں ہمیں ہم ہیں لکڑیوں شاخچوں کے حصار میں یہاں ...
بڑا پر ہول رستہ تھا بدن کے جوہر خفتہ میں کوئی قوت لاہوت مدغم تھی کسی غول بیابانی کی گردش میرے دست و پا کی محرم تھی دہان جاں سے خارج ہونے والی بھاپ میں تھے سالمات درد روشن گزر گاہوں کے سب نا معتبر پتھر خلا میں اڑنے والی پست مٹی کے سیہ ذرے پہاڑ اور آئنے سائے کرے پیڑوں کے پتے پانیوں ...
بیج اندر ہے لیکن میں باہر ہوں اپنی زمیں سے فقط مشت دو مشت اوپر خلا میں اگا ہوں مری کوئی جڑ ہی نہیں ہے نہیں علم تالیف کی روشنی نے ہوا اور پانی نے کس طرح سینچا نمی کیسے میرے مساموں میں آئی جدائی سہی میں نے کیسے مقرر جو ازلوں سے تھا بیچ کا فاصلہ وسط نا وسط کا مرحلہ میں نے کیسے گوارا ...
ستارے مجھے اپنا جلوہ دکھا وقت کے کس خلا میں مظاہر کی کس کہکشاں میں زمانے کے کس دب اکبر میں تیرا ٹھکانہ ہے لاکھوں برس سے تجھے دیکھنے کی طلب میں جوں ہی شام ڈھلتی ہے میں خود بہ خود کھنچتا آتا ہوں اس غار شب میں! عجب غار ہے ایک بازار ہے سیل لمعات کا آئنے نصب ہیں رنگ اڑتے ہیں شیشوں کے ...
اے ہوا پھر سے مجھے چھو کر قسم کھا صحن میں کس نے قدم رکھا تھا چپکے سے یہاں سے کون مٹی لے گیا تھا وقت کی تھالی میں کس نے لا کے رکھ دی جھلملاتی لو کے آگے رقص کرتی یہ سجیلی مورتی جس کے نقوش جسم روشن ہو رہے ہیں ویشیا کے ہونٹ فربہ پاؤں جیسے اک گرھستن کے خمیری پیٹ میں مخمل کی لہریں نوری و ...
برادہ اڑ رہا ہے ترمرے سے ناچتے ہیں دیدۂ نمناک میں براق سائے رینگتے ہیں راہداری میں برادہ اڑ رہا ہے ناک کے نتھنے میں نلکی آکسیجن کی لگی ہے گوشۂ لب رال سے لتھڑا ہے ہچکی سی بندھی ہے اک غشی ہے میرا حاضر میرے غائب سے جدا ہے کیا بتاؤں ماجرا کیا ہے! زمانوں قبل ہم دونوں کا رستہ پوٹلی میں ...
میں نے آواز دی اور حصار رفاقت میں اس کو بلایا مگر وہ نہ آیا گل خواب کی پتیاں دھوپ کی گرم راحت میں گم تھیں مرے جسم پر نرم بارش کی بوندیں بھی گھوڑے کا سم تھیں زمیں ایک انبوہ ہجراں میں اس چاپ کی منتظر تھی جو لا علم پھیلاؤ میں منتشر تھی پرندے سبک ریشمیں ٹہنیاں اپنی منقار میں تھام کر اڑ ...
کسی دن آ پرانی کھائیوں کو پار کر کے دلدلوں میں پاؤں رکھیں نرسلوں کو کاٹ ڈالیں پیش منظر کے لیے رستہ بنائیں آ کسی دن دھند میں جکڑی ہوئی کانٹوں بھری یہ باڑ جس میں وقت کی بجلی رواں ہے جو زمیں و آسماں کو کاٹتی ہے بیچ سے اس کو ہٹائیں آ کسی دن جھولتے پل سے اتر کر نقشۂ تقویم میں پر پیچ ...