کشمکش
چاروں سمت سے طوفاں امڈیں اور میں اکیلا تنہا جان درد کی راہوں میں ہلکان کیا کروں جب اپنے ہی پر اپنے پیروں زمیں پہ آن دھنسے ہوں سوچتا ہوں اب پروں سے ناطہ توڑ لوں یا پاؤں یہیں پر چھوڑ دوں
چاروں سمت سے طوفاں امڈیں اور میں اکیلا تنہا جان درد کی راہوں میں ہلکان کیا کروں جب اپنے ہی پر اپنے پیروں زمیں پہ آن دھنسے ہوں سوچتا ہوں اب پروں سے ناطہ توڑ لوں یا پاؤں یہیں پر چھوڑ دوں
جس کے جھوٹے پیار پہ ہم نے سچائی کے سارے نغمے سارے قصے اس کے پاؤں پہ لا رکھے لیکن اس کی فطرت کے ہرجائی پن سے جو کچھ ہمیں میسر آیا اس کا کیا احوال سنائیں کیسے ماہ و سال بتائیں خود سے ہی شرمندہ ہیں سارے سپنے ٹوٹ گئے دیکھو پھر بھی زندہ ہیں
کسی گم شدہ رہ رائیگانی کی ساعتوں کے غبار میں میں چھپا رہا کسی دیدۂ اشک بار میں میرا عکس شامل نہ ہو سکا کسی گوہر آب دار میں مری خواب خواب سی خواہشیں مرے خار خار سے رت جگے مرے آئنوں کی شکستگی مری بے بسی رہی ایک لمحے کی منتظر جو نہ آ سکا جو نہ آئے گا یوں ہی عمر بھر جو رلائے گا یوں ہی ...
مجھے شک کی نظروں سے کیوں دیکھتے ہو مری بات سچ ہے مری بات سچ ہے میں کل رات ناگوں سے لڑتا رہا ہوں کنہیا نہیں میں جو ناگوں کو نتھ لوں میں ایسا بڑا کوئی انسان کب ہوں جو حرف شکایت بھی لب پر نہ لائے نہ جو یہ کہے میں تو بس باز آیا وہ گوریلا فوجیں ہیں یا ناگ کالے نکلتے ہی دن کے وہ جاتے کہاں ...
تنہا لمحوں نے آ آ کر کان میں سرگوشی کی اکثر پوچھا ساتھی یہ تو بتاؤ زہر کے کتنے جام پیے ہیں جھوٹوں کو کیا مکاروں کو پھٹکارا للکارا بھی ہے دار کے گہرے سائے میں کیا جھنڈا حق کا لہرایا ہے پیار کو اک آدرش بنا کر کب قصد تصلیب کیا ہے جب جب بزم میں آئے ہو تم گم سم چپ چپ سر لٹکائے طوق گلے میں ...
میں اکثر سوچا کرتا ہوں کاش میں نٹ کھٹ بالک ہوتا اور پٹک دیتا اک پل میں خواہش کے اونچے گنبد سے جیون کا بے رنگ کھلونا اور کہیں جا کر سو جاتا لوگ ٹھٹک جاتے پل بھر کو لمبی آہیں بھرتے کہتے! کیسا کھلونا! ٹوٹ گیا ہے! کام میں پھر وہ یوں کھو جاتے جیسے اندھی شب میں دھوئیں کے سانپ فلک کی جانب ...
میرے گھر کے آنگن میں یہ پیڑ گھنیرا کیسا ہے اس کی شاخوں سے ہر لمحہ زہر ٹپکتا رہتا ہے خون جگر سے ننھی ننھی کلیاں جب سبھی آتی ہیں ان کا خوں ہو جاتا ہے پل بھر میں مرجھا جاتی ہیں اس کی شاخوں سے ہر لمحہ زہر ٹپکتا رہتا ہے سخت پریشاں حیراں ہوں اس کروٹ کے دیکھ چکا ہوں یہ ویسے کا ویسا ہے میرے ...
میں نے جب بھی پلٹ کے دیکھا ہے دھند کچھ آئینے سے چھوٹی ہے عکس کچھ آئنے میں ابھرے ہیں میں نے دیکھا ہے اک شکستہ پر زندگی سے تمام تر عاری جیسے ماضی ہو! عہد رفتہ ہو ایک نا سفتہ گوہر شفاف جیسے اک آفتاب تازہ ہو روز آئندہ، روز فردا ہو ایک شاہین ماورا سے پرے ایک نکھری ہوئی فضائے بسیط حال ...
کھیت کے چاروں سمت لگائی میں نے باڑھ گھنے تھوہر کی سوچا سمجھا اب کے مویشی روند نہ پائیں گے فصلوں کو کھیتی اب تاراج نہ ہوگی دھرتی اب سونا اگلے گی بنتے بنتے بات بنی تھی بگڑ گئی لیکن پل بھر میں کاٹ کے میں نے باڑ کا تھوہر اپنی انگلی خود کاٹی تھی کھیت کے رکھوالے تھوہر نے ہائے یہ ہاتھ ...
کمرے کی خاموش فضا میں اک مانوس سی خوشبو تھی مہکی سانسوں کا سرگم تھا کنچن کا یا قرب کی حدت سے نکھری تھی سورج کی ایک ایک کرن اجلی تھی پلکیں بوجھل، آنکھیں بند، حواس مسخر چڑھتی دھوپ میں اک نشہ تھا اس کا فسانہ اک لکھنا تھا کمرے کی خاموش فضا خالی تھی قرب کی خوشبو کنچن کایا سانس کے ...