توصیف
اس نے کہا تھا: بول رہٹ کے اور پنچھی کے سب الفاظ صدائیں ساری جو تحلیل ہوئیں نیلے گنبد میں جو تحریر ہوئیں لمحوں پر جو محسوب ہوئیں سانسوں سے نیل گگن میں صبح ازل سے تیر رہی ہیں آج بھی ان کو سن سکتے ہیں، پڑھ سکتے ہیں اس نے کہا تھا: شبد امر ہے.....
اس نے کہا تھا: بول رہٹ کے اور پنچھی کے سب الفاظ صدائیں ساری جو تحلیل ہوئیں نیلے گنبد میں جو تحریر ہوئیں لمحوں پر جو محسوب ہوئیں سانسوں سے نیل گگن میں صبح ازل سے تیر رہی ہیں آج بھی ان کو سن سکتے ہیں، پڑھ سکتے ہیں اس نے کہا تھا: شبد امر ہے.....
دائرے، کچھ نیم حلقے یہ ریاضی کے بکھیڑے جی کا اک جنجال ہیں باتیں زیاں کی سود کی میں مقید دائروں میں اس طرح کوسوں کو تکتا ہوں جیسے اک بیمار بچہ نقش و لفظ و صوت سے بیزار بستر پر کھلی کھڑکی سے رنگیں لال نیلے پیلے بیلونوں کو حسرت کی نگہ سے دیکھتا ہے جو معلق ہیں فضا میں
ایک حویلی ڈھا کر! تم نے اک اونچا ایوان بنایا سارے ساج فراہم کر کے خوب سنوارا خوب سجایا اور حویلی کے ملبے کو! ایسی جگہ پھنکوایا جہاں پر ایک گلاب کی شاخ نو پر ایک نویلا پھول کھلا تھا پھول بھی کیسا! جس سے سب کی روح معطر ہو جاتی تھی!
محبت اور ہوس گھر کے بدریا آئی کالی خوش خوش تھا دھرتی کا والی سوچ رہا تھا اب برسے گی اور برس کر پہنچائے گی ہجر آنکھوں کو ہریالی میری بگیا میں برسی تھی کالی گہری بوجھل بدلی کونپل کونپل پتہ پتہ پھوٹ رہا تھا خوب ہی تھا ساری دھرتی جاگ رہی تھی میں خوش تھا ہو بالک جیسے چھوڑ کے بارش کے ...
تنہائی کی خاموشی میں جی بے کار الجھتا ہے زار و پریشاں رہتا ہوں لیکن لوگوں کے جمگھٹ میں اک مہمل سے شور و غل میں شخصیت سمجھوتے کے تیزاب میں حل ہو جاتی ہے دل ہوتا ہے اور پشیماں تنہائی کی خاموشی میں بھوت شکست و ناکامی کے اک اک کر کے مجھ سے جب بھی محو تکلم ہوتے ہیں مجھ کو اپنا اونچا سا ...
میز کے اوپر رکھے تھے کانسے کے بندر کمرے میں تھا ایک دھندلکا ہلکا ہلکا میں نے دیکھا اک بندر تھا ہاتھ رکھے اپنی آنکھوں پر اک ہونٹوں پر اک کانوں پر ایک ہنسی ہونٹوں پر آئی گونج ابھی باقی تھی اس کی میں نے آنکھیں مل کر دیکھا آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹائے بندر مجھ کو گھور رہا ہے یوں گویا ...
کل شب جب سورج نے اپنی آنکھیں موندیں اپنا دامن کھینچا اور ہوا کا سرپٹ گھوڑا باندھ دیا اور فلک پر اک جانب سے چادر مٹیالی سی تانی پریاں ہلکے سیمیں ان کے پر رفتار خراماں اتریں دھیرے دھیرے جیسے پر ہوں دوش ہوا پر اتریں پریاں مل کر رقصاں رقص کی لے مدھم سی آہٹ روشن شبنم سی لے ہلکی سر ...
تم سے بچھڑے صدیاں بیتیں لیکن دل میں یاد تمہاری اب بھی ہے پر اس صورت سے جیسے تفتیدہ کاغذ پر حرف کسی افسانے کے ہوں
شہر کے باہر، ویرانے میں اک پگڈنڈی پر تنہا سا ننھا سا اک پیڑ کھڑا تھا شاخیں اس کی چھوٹی چھوٹی پتے کم کم پھل بھی تھوڑے اکا دکا جیسے کسی نے توڑ لیے ہوں لیکن سایہ گھنا گھنا تھا میں نے دیکھا ایک مسافر اس کی چھاؤں میں سستاتا تھا تھوڑی دیر میں وہ اٹھ بیٹھا ساماں اس نے سفر کا ...
راز کیا چاند نے تاروں سے کہا رات کا پچھلا پہر بھیگ گیا وقت کی آنکھ سے آنسو ٹپکا صبح جب آنکھ کھلی تو دیکھا اک نیا پھول تھا کھڑکی میں کھلا