تلخ و ترش
کیوں مری تلخ نوائی سے خفا ہوتے ہو زہر ہی مجھ کو ملا زہر پیا ہے میں نے کوئی اس دشت جنوں میں مری وحشت دیکھے اپنے ہی چاک گریباں کو سیا ہے میں نے دیر و کعبہ میں جلائے مری وحشت نے چراغ میری محراب تمنا میں اندھیرا ہی رہا رخ تاریخ پہ ہے میرے لہو کا غازہ پھر بھی حالات کی آنکھوں میں کھٹکتا ...