شاعری

جب لال پری

جب بھی آتی لال پری خوشیاں لاتی لال پری رنگ برنگے سپنے دے کر دل بہلاتی لال پری صبح سویرے پیار سے آ کر مجھے اٹھاتی لال پری لڈو پیڑے بالوشاہی خوب کھلاتی لال پری جب بھولوں میں اپنا سبق یاد کراتی لال پری پنکھ پہ اپنے مجھے بٹھا کر سیر کراتی لال پری

مزید پڑھیے

خزاں کے گیت

اٹھاؤ ساز کہ ابر بہار باقی ہے ابھی تو بزم میں کیف و خمار باقی ہے ابھی ابھی تو فضا مسکرا کے جاگی ہے ابھی تو شوق دل بادہ خوار باقی ہے ابھی نہ جاؤ بہاریں بھی لوٹ جائیں گی ابھی تو صحن چمن کا نکھار باقی ہے ابھی تو انجمن مہر و ماہ بکنے دو ابھی نقاب رخ حسن یار باقی ہے ابھی نہ شمع بجھاؤ مرے ...

مزید پڑھیے

سر رہگزر

اک موہوم سا کاشانہ نظر آتا ہے ایک مغموم سا غم خانہ نظر آتا ہے اپنی منزل ہی مجھے کھینچ رہی ہے شاید ہم سفر پر مجھے بیگانہ نظر آتا ہے دیکھ اے جوش جنوں بادیہ پیمائی کو نقش پا بھی مجھے دیوانہ نظر آتا ہے داستاں پھیلی ہوئی ہے مری صحراؤں میں ہم زبان آج یہ ویرانہ نظر آتا ہے خاک اڑاتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

اندیشہ ہائے دور دراز

تری خواہش نے کس تشکیک کا ملبوس پہنا ہے تری بابت کسی سے پوچھنے میں خوف آتا ہے وہ جانے کیا ہے ترے بارے میں کوئی بات بھی کرتا ہوں تو ڈرتا ہوں جانے گفتگو کیا رنگ پکڑے تری بابت کسی سے کوئی رائے بھی طلب کرتے لرزتا ہوں وہ جانے تجھ کو کیسا نام دے مرے احساس کو کس شک نے جکڑا ہے یہی کیوں ...

مزید پڑھیے

حسین دنیا اجڑ گئی تو

حسین دنیا اجڑ گئی تو اگر کہیں یہ بگڑ گئی تو گماں سے آگے نکل گئی تو گماں سے آگے گمان کر لو اٹھاؤ پردہ اور دیکھ لو خود زمیں فروشی کے روپ کتنے نقاب پوشوں کی بھیڑ میں سب ہمارے کل کے یہ سوداگر ہیں ان ہی کی حرص و ہوس کے باعث ہماری دنیا اجڑ رہی ہے گرم ہواؤں میں گھر رہی ہے بدلتے موسم کا ...

مزید پڑھیے

تم اندھیاروں کی بات کرو

تم اندھیاروں کی بات کرو ہم دیپ جلاتے جائیں گے تم تعبیریں تسخیر کرو ہم خواب جگاتے جائیں گے تم تشنہ لبی کو عام کرو ہم پیاس بجھاتے جائیں گے تم مایوسی کی شام کرو ہم آس بڑھاتے جائیں گے تم زنجیریں نیلام کرو ہم ہار بناتے جائیں گے بارود کے بدلے پھولوں کے انبار لگاتے جائیں گے تم ...

مزید پڑھیے

کیا لکھوں

اکثر لکھتے ہوئے آتا ہے دل میں یہ سوال کیا لکھوں اوس اجلے سویرے کو جو لاتا ہے اپنے ساتھ ڈھیروں امیدیں یا لکھوں رات کے اس اندھیرے کو جو دے جاتا ہے آنکھوں میں ہزاروں سپنے کیا لکھوں ان مہکتی ہواؤں کو جو ہر پل احساس دلاتی ہیں کہ زندہ ہو تم یا لکھوں ان ان گنت دعاؤں کو جن میں ہوں میں صرف ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

کبھی کبھی لگتا ہے جیسے زندگی کان میں آ کر کہہ رہی ہو یار میرے ساتھ کر کیا رہے ہو ویسے سچ میں ہمیں کرنا کیا تھا اور ہم کر کیا رہیں ہیں ہمیں بننا کیا تھا اور ہم بن کیا گئے ہیں رونا چاہیں تو کھل کر روتے نہیں ہیں ہنسنا چاہیں تو کھل کر ہنستے نہیں ہیں خوابوں میں یوں بہتے ہیں اکثر حقیقت ...

مزید پڑھیے

خواہش

خواہشیں کم نہیں ہوں گی جو تم چاہو تو آزما لو سانسیں تھمتی نہیں ہیں خوابوں کی چاہے جہاں بھی دفنا لو میں تجھ میں تجھ سا ہی ہوں کہیں ذرا ڈھونڈھو ذرا جانو پھر تم فیصلہ لینا کہ چھوڑو گے یا اپنا لو کہو گے کچھ نہ تم ہم سے چلو اس بات کو مانا پر خود سے تو نہ یوں روٹھو یا سیکھو بھی ...

مزید پڑھیے

خواب

کتنے خوب صورت ہوتے ہیں نا اور تھوڑے سرپھرے بھی یہ چلنا نہیں چاہتے بس اڑنا چاہتے ہیں بھرنا چاہتے ہیں ایک ایسی اڑان جہاں زمین کی حقیقت ہو اور آسماں کے پار کی کلپنا بھی جہاں وقت سا ٹھہرنا ہو اور خوشبو سا بکھرنا بھی یہ سجنا چاہتے ہیں سنورنا چاہتے ہیں خود میں بھرتے ہیں رنگ لے کر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 273 سے 960