شاعری

تم کہیں نہیں

کوئی بھی تو دن نہیں ایسا جب باتیں نہ کی ہوں تم سے کوئی بھی تو پل نہیں ایسا جب سوچا نہ ہو تمہیں کوئی ایک بھی تو دعا نہیں ایسی جس میں تم شامل نہیں اور کچھ بھی تو رہا نہیں ایسا جسے دل نے کہا اور دل نے سنا نہیں مانا کہ تم ساتھ ہو ہر دم اس دل کے بہت پاس ہو ہمدم مگر یوں ہی کبھی سوچتا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

جموں کشمیر بھارت

مرے اندر نہاں تم ہو مرے دل ہو کہ جاں تم ہو کہ میرے رازداں تم ہو مگر اندھیر مت کرنا کبھی تم دیر مت کرنا مری قسمت تمہیں تو ہو مری الفت تمہیں تو ہو مری چاہت تمہیں تو ہو مری عزت تمہیں تو ہو مری طاقت تمہیں تو ہو مری ہمت تمہیں تو ہو مجھے تم زیر مت کرنا کبھی تم دیر مت کرنا محبت کے گلستاں ...

مزید پڑھیے

بے یقینی

برسات کی تیز بارش سے کچھ مکانوں کو گرتے دیکھ کر فکر لاحق ہو گئی اپنے گھر کی آئے دن زلزلوں کے جھٹکوں سے جگہ جگہ دراڑیں پڑ چکی ہیں چھت بھی ٹپکے جا رہی ہے ستون بھلا کب تک سہارا دے سکتے ہیں ان گھروں کو جو گھر بنیاد سے ہی ہل گئے ہوں

مزید پڑھیے

جھٹکا

ایک ہی پل میں ٹوٹ کر ہو گیا چور چور وو میرے خوابوں کا تاج محل جب مجھے لگا جھٹکا

مزید پڑھیے

عورت

عورت کو سمجھو نہ جاگیر اپنی نہ یہ خواب اپنا نہ تعبیر اپنی الجھتی ہے خود سے یہ لاچار ہو کر ہر اک بات سمجھے یہ تقصیر اپنی یہ کرتی ہے ہر اک ستم کو گوارا بناتی ہے ایسے یہ تقدیر اپنی ستائے گا اس کو بتا کیا زمانہ سناں جس کی اپنی ہے شمشیر اپنی نوالے کی خاطر یہ حرمت نہ بیچے سنبھالے یہ ...

مزید پڑھیے

خواب

ٹوٹ جاتے ہیں جب تو کہاں جڑ پاتے ہیں کانچ کے کھلونوں کی طرح نازک ہوتے ہیں یہ خواب

مزید پڑھیے

لوٹ آ

دھیرے دھیرے یخ بستہ کشمیری سرد ہوائیں سفید برفیلی چٹانوں سے ٹکرا کے اپنے وجود کو گھاٹی میں مدغم کرتی شور مچاتی چوٹی پہ منقش میرے بنگلے سے لپٹ جاتیں شفاف برف پوش ہو گئی تھی راستے کی ہر لکیر ایسے میں وہ دیکھنے آیا تھا برفیلا کشمیر طویل مسافت طے کرنے کے بعد اس نے سن رکھا تھا بہت ...

مزید پڑھیے

کبھی تم دیر مت کرنا

میں روٹھوں تو منانے میں مجھے واپس بلانے میں چراغ دل جلانے میں اندھیروں کو مٹانے میں دیار دل بسانے میں کہ میرے پاس آنے میں کبھی تم دیر مت کرنا یقیں کی داستاں تم ہو کہ مثل کہکشاں تم ہو میں دل ہوں تو زباں تم ہو

مزید پڑھیے

اپنا سایہ

جسموں کے کھو جانے اور رویوں کے بدلنے کے کرب نے مجھے تمام عمر اندیشۂ ضیاع میں ہی مبتلا رکھا کل کے دن نے مجھ میں بسے سب خوف مار دئے چہرے سے نقاب اترا تو سچائی سینہ تانے میرے سامنے آ کھڑی ہوئی خود سے بچھڑی ہوئی تھی اب خود سے آ ملی ہوں میرا سایہ مجھ میں نو پھٹا ہو کر جاگ گیا ہے ...

مزید پڑھیے

کل ہی کی بات نہیں ہوتی

دہلیز پر جو خواب ٹوٹا ہے وہ کل کا تو نہیں تھا وہ تو نہ جانے کتنے سالوں سے نانیوں دادیوں نے الھڑ آنکھوں میں جگا رکھا تھا یہ جو دیوار پر لگی تصویر اچانک دھڑام سے نیچے گر گئی ہے یہ کل ہی تو نہیں ٹانگی گئی تھی یہ تو اس آئینے میں سالوں سے نظر آ رہی تھی جو لڑکیاں تکیے کے نیچے اس امید پر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 266 سے 960