شاعری

اب ڈر نہیں لگتا

ایک ڈر تھا تنہائی کا ایک ڈر تھا جدائی کا جو مسلسل میرے ساتھ رہتا تھا کل کا دن جو گزر گیا بہت بھاری لگتا تھا لگتا تھا کسی ایسے دن کا بوجھ اٹھا نہ پاؤں گی آدھے ادھورے راستے میں ہی مر جاؤں گی مگر کل کا دن بھی آ ہی گیا اور ریت کا وہ گھروندا ساتھ ہی بہا لے گیا جس میں رکھے تھے میں نے رنگ ...

مزید پڑھیے

کرتے ہیں مزدوری بچے جاتے نہیں اسکول

کرتے ہیں مزدوری بچے جاتے نہیں اسکول اس میں ان کی بھول نہیں ہے یہ ہے بڑوں کی بھول ان کی حالت دیکھ کے دل سے نکلتی ہے اب ہائے ننھے ہاتھوں سے گاہک کو جب وہ پلائیں چائے مزدوری میں ان کا بچپن یوں ہی بیتا جائے تازہ ہوا کی جگہ پہ وہ کھاتے ہیں گرد اور دھول کرتے ہیں مزدوری بچے جاتے نہیں ...

مزید پڑھیے

بڑھاپا

یوں گماں ہو رہا ہے میرے ندیم جیسے اب گلستاں میں رنگ نہیں جیسے اب دل میں کچھ امنگ نہیں آسمان بدلیوں کی زد میں ہے زرد آلود ہیں فضائیں بھی سرخ سورج کی کپکپاتی کرن چھو رہی ہے افق کے سائے کو پھیلتی جا رہی ہے شب کی لکیر صحن زنداں کے چار پایوں پر ڈوبتی میری خوابیدہ آنکھیں دیکھتی جاتی ...

مزید پڑھیے

شب کا سفر

آخرش آ گئی وہ شب اے دل صبح سے انتظار جس کا ہے میری تنہائی کی رفیق یہ شب کون کہتا ہے کہ تاریک ہے شب میرے ہر درد سے پیوند بنے آرزوؤں کی اک ردا ایسی جس کی زنبیل میں میں نے اپنے دل جگر ذہن بچھا رکھے ہوں اپنے معشوق کے اس آنچل میں کتنے ارمان چھپا رکھے ہیں کتنے احساس سجا رکھے ہیں میرے ...

مزید پڑھیے

خواب فروش

پھر اسی شہر میں آئے ہو پلٹ کر کہ جہاں چند ہوتے ہیں جو تم نے دکھائے تھے خواب چند دن ہوتے ہیں جب تم نے سجائے تھے گلاب جن میں خوشبو بھی تھی اور رنگ بھی مانند شہاب تم گئے خواب رہے اور زمانے کے عذاب ڈھونڈتے رہ گئے لب کتنے سوالوں کے جواب اب جو آئے ہو تو اتنا سا کرم کر جانا اب کے بیمار سے ...

مزید پڑھیے

جوگی

میں روح ہوں اس ویرانے کی جو خاک بگولہ پھرتی ہے اک چہرہ اس افسانے کا بیکار جو تڑپا کرتا ہے اک لاشہ ان ارمانوں کا بے دام جو بکتا رہتا ہے میں بستی بستی نگر نگر بیتاب تمنائیں لے کر خالی جھولی گدلا داماں ہر گلی گلی پھیلائے ہوئے بے خواب سی سونی آنکھوں کو کچھ خواب نئے دکھلاتا ہوں ٹوٹے ...

مزید پڑھیے

اے وطن اے وطن

اے وطن اے وطن ہم ترے پاسباں اے چمن اے چمن ہم ترے باغباں چاندنی دھوپ بادل برستی گھٹا ہر نظارہ حسیں ہر ادا دل ربا گل بداماں تری دل نشیں داریاں اے وطن اے وطن ہم ترے پاسباں تیری تہذیب گلدستۂ زندگی تیری تاریخ آئینۂ‌ زندگی ہر ورق آدمیت کی ہے داستاں اے وطن اے وطن ہم ترے پاسباں خون دل ...

مزید پڑھیے

امن کی منزل کے راہی

امن کی منزل کے راہی گیت گاتا چل زندگی کے پیار کی مشعل جلاتا چل عظمتیں تاریخ کی ہیں رہنما تیری برکتیں تہذیب کی ہیں ہم نوا تیری ہم قدم ہیں اہل دل نغمے سناتا چل امن کی منزل کے راہی گیت گاتا چل آدمی کے بھیس میں شیطان آئیں گے راستے میں سیکڑوں طوفان آئیں گے تو مگر ان مشکلوں پر مسکراتا ...

مزید پڑھیے

یہ سر زمین وطن

یہ سر زمین وطن یہ دیار اہل نظر یہ سر زمین وطن جلوہ گاہ ذات و صفات یہ سر زمین وطن آبروئے عالم خاک یہ سر زمین وطن گلشن بہار حیات یہ سر زمین وطن یہ دیار اہل نظر جبیں پہ جس کی روایات کی ہے تابانی رگوں میں جس کی رواں ہے لہو شہیدوں کا کہ جس پہ کرتے ہیں شمس و قمر گل افشانی یہ سر زمین کتاب ...

مزید پڑھیے

نجم سحر

وقت سحر، خاموش دھندلکا ناچ رہا ہے صحن جہاں میں تابندہ، پر نور ستارے، جگمگ جگمگ کرتے کرتے ہار چکے ہیں اپنی ہمت، ڈوب چکے ہیں بحر فلک میں تاریکی کے طوفانوں میں اپنی کشتی کھیتے کھیتے لیکن اک با ہمت تارا اب بھی آنکھیں کھول رہا ہے اب بھی جہاں کو دیکھ رہا ہے اپنی مستانہ نظروں سے جیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 267 سے 960