شاعری

ایک مشورہ

مرے گرد اب لال پیلی دواؤں کی ان شیشیوں سے نہ دیوار چننے کی کوشش کرو تم حصار دعا میں مجھے قید کرنے کی ضد چھوڑ دو اب مرے زخم خوردہ بدن کی نہ تم سوئیوں سے طبیبوں کی پیوند کاری کرو اپنی پہچان کی شکل بگڑی ہوئی لگ رہی ہو تو میری اک اچھی سی تصویر کمرے میں تم ٹانگ لو مجھ کو گھر کے کسی اندھے ...

مزید پڑھیے

درس عمل

اٹھو قدم قدم سے ملاتے چلے چلو سب مل کے ایک راہ بناتے چلے چلو منزل کی دھن میں جھومتے گاتے چلے چلو ہر مرحلے کو سہل بناتے چلے چلو بن کر گھٹا فضاؤں پہ چھاتے چلے چلو ہر ہر قدم پہ دھوم مچاتے چلے چلو تفریق رنگ و نسل مٹاتے چلے چلو انسانیت کی شان دکھاتے چلے چلو آگے بڑھو رکو نہ کسی رہ گزار ...

مزید پڑھیے

سورج جاگا

ٹوٹیں ظلم کی قیدیں ٹوٹیں پھوٹیں امن کی کرنیں پھوٹیں لوٹیں دل نے خوشیاں لوٹیں تارے سوئے سورج جاگا بھاگا گھور اندھیرا بھاگا سخت گھڑی جو تھی بیت گئی ہے ہاری بازی جیت گئی ہے خاک میں غم کی ریت گئی ہے تارے سوئے سورج جاگا بھاگا گھور اندھیرا بھاگا آئے خوشی کے دن یوں وطن میں پھولوں کی رت ...

مزید پڑھیے

ہندوستانی لڑکوں کا ترانہ

ہم سے ہی پھولوں کی پھبن ہے ہم سے ہی شاداب چمن ہے جوش و خروش گنگ و جمن ہے شان وطن ہے حسن وطن ہے ہم کیا ہیں تقدیر وطن ہیں مصروف تعمیر وطن ہیں عظمت ماضی رفعت فردا رونق محفل زینت دنیا شام کا منظر صبح کا جلوا گلشن گلشن صحرا صحرا گل یہ کھلے ہیں فکر و نظر کے سینچا ہے ہم نے خون جگر سے مسجد ...

مزید پڑھیے

ترنگا

لہرا ترنگے لہرا ہوا میں بھر دے رنگ و نور فضا میں پیارے ترنگے تیری لالی خون شہیداں کی ہے سرخی آزادی کی ایک نشانی آزادی ہے جان وطن کی لہرا ترنگے لہرا ہوا میں بھر دے رنگ و نور فضا میں پیارے ترنگے تیری سفیدی ایک علامت امن و اماں کی امن و اماں ہے بستی بستی قصبہ قصبہ نگری نگری لہرا ...

مزید پڑھیے

آشیاں ڈھونڈھتی ہے

تھکی ہاری چڑیوں کے اک غول کی طرح جب شام اتری گھنے برگدوں پر میری کلپناؤں کے پنچھی لئے اپنی چونچوں میں تنکے اڑے ان پر اسرار اندھی دشاؤں کی جانب جہاں آگ کے جنگلوں میں مری آتما کتنی صدیوں سے بیاکل کوئی آشیاں ڈھونڈھتی ہے

مزید پڑھیے

آئینے کا آدمی

صبح کے زعفرانی لبوں پر جو شفقت کی ہلکی سی مسکان تھی ایک ٹھٹھری ہوئی رات کی دھند میں کھو چکی ہے مرے چھوٹے بھائی نے مجھ کو لکھا ہے کہ آنگن میں جو نیم کا پیڑ تھا اب کے طوفان میں گر چکا ہے وہاں ٹھنڈی چھاؤں نہیں دھوپ کا سلسلہ مگر کھوج میں نان و نفقہ کی نکلا ہوں ایک کمزور سا آدمی اپنے ...

مزید پڑھیے

قطرہ قطرہ تشنگی

کنوارے کھیت میری خواہشوں کے تشنگی کی دھوپ میں جلتے ہیں سیم اور تھور مایوسی کے کالے قہر کی صورت لہو کا ایک اک قطرہ رگوں سے چوستے جاتے ہیں پیلے موسموں کی چپ بنی ہے بھاگ کی ریکھا کہ صدیوں سے پڑا ہے قحط گیتوں کا جو فصل کٹتے وقت گاتی ہیں تھرکتی ناچتی بستی کی بالائیں یہاں صدیوں سے ...

مزید پڑھیے

نظم

دھول مٹی بارود کی مہک بے گور و کفن لاشوں کی بساند میں پتھروں کے ملبے تلے اجڑے باغوں میں خون آشام شکاری اپنی فتح کے جھنڈے گاڑیں گے جہاں نہ کوئی ان پر پھول برسانے والا ہوگا اور نہ کوئی دست دعا اٹھے گا

مزید پڑھیے

کی بورڈ ایکٹیوسٹ

جنگوں خون آشامیوں کی گرد چہروں پر اوڑھے حیراں لب بستہ بچو ساحل پر سیپ کی مانند اوندھے منہ بکھرے موتی جیسے بچو بے لباس سڑکوں پر بھاگتے دہشت زدہ سوکھے بچو خدا کو اس دنیا کی شکایت لگانے والے روتے بلکتے جاں سے گزرتے بچو تار تار پیراہن جسم دریدہ روح راکھ بدن عظیم انسانی تہذیب کے ملبے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 257 سے 960