شاعری

نظم

میں گروی رکھی گئی آنکھوں میں بسا خواب ہوں لا محدود سمندر میں تیرتے جزیروں کا جہاں مہاجر پرندے گھڑی بھر بسیرا کرتے ہیں نیلگوں پانیوں کا ساحلوں کے کنارے چمکتی ریت کا وہ خواب جو بہہ نکلتا ہے نمکین قطرے کی صورت میں وہ آزاد روح ہوں جو غلام جسموں کے اندر تڑپتی ہے بھٹکتی پھرتی ہے درد ...

مزید پڑھیے

نظم

کئی بار لکھنا اتنا درد کیوں دیتا ہے حرف کیوں جڑتے ہیں لفظ کیوں بنتے ہیں اور اس بننے بگڑنے میں ہمارے وجود کے سنگریزے ریزہ ریزہ ہو کر کیوں شامل ہو جاتے ہیں کیا شہرت کی سرمستی اس درد کا مداوا کرتی ہے یا کسی کردار کے ہونٹوں پر آئی مسکان لبوں پہ دم توڑتی دعا مصنف کی ہم رکاب بنتی ہے حرف ...

مزید پڑھیے

خواب کی شیلف پر دھری نظم

اگر سمندر مجھے راستہ دیتا تو سفر کرتی اس قندیل کے ساتھ جو شام کا ملگجا پھیلتے ہی ساحل پر روشن ہو جاتی ہے اڑتی ققنس کے ہم رکاب افق کی مسافتوں میں تیرتی مچھلیوں کے سنگ کھوجتی ریگ زاروں میں نیلگوں پانیوں کو سرمئی پہاڑوں میں جادوئی سرنگوں کو لیکن میرے سرہانے آدھے پونے خواب پڑے ...

مزید پڑھیے

التجا

درخت کو جیسے دو لکڑہارے ایک آرے سے کاٹتے ہیں درخت چاہے گھنا ہو جتنا بڑا ہو جتنا مگر یہ دونوں بڑے ہی آرام سے اسے کاٹتے ہیں سوچو اگر یہ دو کی بجائے بس ایک ہو تو کیا ہو کہ ایک کے بس کی بات ہوگی درخت کو کاٹ کر گرانا نہیں یہ ممکن نہیں ہے ہرگز بہت سی دشواریوں سے اس کو گزرنا ہوگا اگر وہ ...

مزید پڑھیے

اداکار چہرے

یہاں ہر طرف ہیں اداکار چہرے میں روداد دل کی کسے کیا بتاؤں جو خواب مسلسل ہی ارماں ہے مرا وہی خواب ٹوٹا وہی پیار روٹھا مناظر نے رنگ اپنے سب کھو دئے ہیں وہ جب سے خفا ہے کسے کیا بتاؤں زباں چپ ہے لیکن سراپا بیاں ہوں یہ دل کی لگی ہے کسے کیا بتاؤں

مزید پڑھیے

بے خیالی میں تخلیق

خیالات و احساس جو بے ساختہ لکھ دیے ہیں نہ جانے وہ کب سے دل و جاں کے اندر چھپے تھے کسی راز جیسے قلم بند ہونے کو بے چین تھے کئی درد الجھے سوالات جو صفحے پہ سجنے کو بیتاب تھے وہ سب قلم سے مرے موتیوں کی طرح اب برسنے لگے ہیں سبھی رقص کرنے لگے ہیں مری چشم پر نم جو سیلاب روکے ہوئے ہے ستارے ...

مزید پڑھیے

ہم سفر ایسا ملے جو ہم نوا بھی ہو مرا

خوب صورت ہو اضافہ زیست کے اوراق میں ہم سفر ایسا ملے جو ہم نوا بھی ہو مرا روح کو سیراب کر دے ساتھ اس کا ایسا ہو شبنمی قطرات ہوں جیسے بیاباں کے لئے قربتیں ہوں اس کی مرہم غم کے درماں کے لئے مشکلیں آساں ہوں کچھ قلب پریشاں کے لئے یوں قدم باہم اٹھیں جیسے رہ منزل کی سمت ہم سفر ایسا ملے جو ...

مزید پڑھیے

بس انا کو بحال رکھنا ہے

اپنے اپنے ہی خول میں ہم تم کیسے خود کو چھپا کے بیٹھ گئے ہم کو اپنی انا کا پاس رہا اور سارے خیال بھول گئے خواب جو ہم نے ساتھ دیکھے تھے سارے وہ کیسے تار تار ہوئے سارے وعدے وفا کے ٹوٹ گئے اور ارمان سب ہی خاک ہوئے دیکھنے میں تو میں شگفتہ ہوں تم بھی شاداب سب کو لگتے ہو اک حقیقت مگر میں ...

مزید پڑھیے

اپنی محرومی کا دکھ

میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اے سر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کا منظروں کے لہو میں گھلتی غلیظ مٹی کی باتوں کا مرے وجود سیہ بختی میں اجڑے اشکوں کے گرد سائے قفس بنے میں میں دائروں کے مہین تاروں کی ناتمامی میں ریشہ ریشہ سمٹ گیا ہوں کہانیوں کے دبیز ...

مزید پڑھیے

مد و جزر

شام ہنگام تو ہم ہے تصور کے کھٹولوں پہ سجی اپنے اجداد کے ایام کی تصویریں دمک اٹھی ہیں ایسے لگتا ہے کہ ذروں سے نکلتے تھے قمر زندگی رقص کناں نازاں و شاداب ہوا کرتی تھی ندیاں دودھ کی بہتی تھیں معطر تھی ہوا محفل ہست میں ہر سو تھے رسیلے پنگھٹ سبز پیڑوں پہ کھلا کرتے تھے نغموں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 258 سے 960