شاعری

مسکراتا ہے کنول

آج مانا درد دل بے حد بڑا ہے رات کو شکوہ ہے دن سے صبح کا غم بھی سوا ہے تم مگر اتنا تو سوچو زندگی کب ایک جیسے راستے پر چل سکی ہے جو چلے گی آب دیدہ منظروں سے قہقہے بھی پھوٹتے ہیں اور زمیں کو جھک کے اونچے آسماں بھی چومتے ہیں اک ذرا رک کر تو دیکھو حوصلہ کر کے تو دیکھو کس قدر کیچڑ میں رہ ...

مزید پڑھیے

ضد

عجب سی دیکھو فضا بنی ہے عداوتوں سے بھری ہے دنیا ہماری خوشیوں سے غم ہو تم کو خوشی ہو ہم کو جو غم ہو تم کو اندھیرے رستے میں ہم جو بھٹکیں سجاؤ محفل چراغوں سے تم ہوں نرم کرنیں عزیز تم کو جو صبح کی ہم پکاریں اس دم اجالا دن کا جلاتا آنکھیں فلک کے تاروں کا ذکر جب ہو تو اٹھ کے دیکھیں ...

مزید پڑھیے

گاندھی جی اب بھی کہتے ہیں

تتلی جگنو شبنم گل نظروں کے سب دھوکے ہیں جگ مگ کرتے موسم کے سارے منظر جھوٹے ہیں اندر سے سب ٹوٹے ہیں پگڈنڈی پر جیون کی رقص و سرود و نکہت بن کر خوشیوں کا کچھ غازہ مل کر ہنستا ہنستا چہرہ لے کر اک راہی جب چلتا ہے پل پل اپنے قدموں میں کنکر پتھر سہتا ہے کانٹوں کو گل کہتا ہے لیکن گاندھی جی ...

مزید پڑھیے

ہم لوگ

ہم لوگ اندھیروں کے عادی ہم لوگ سویروں سے خائف ہم اپنا درد سمجھتے ہیں لوگوں کے درد سے کب واقف اس ظلم کی ماری دھرتی میں دکھ درد کی فصلیں اگتی ہیں بیمار فضاؤں میں ہر سو دکھ درد کی نسلیں پلتی ہیں لیکن اونچے ایوانوں میں ان رنگ بھرے کاشانوں میں اک اور ہی خلقت پلتی ہے جو اپنی ذات میں ...

مزید پڑھیے

شکوہ

یہ ترے ہونٹ یہ رخسار یہ خاموش نظر جیسے مندر میں سجے بیٹھے ہوں پتھر کے صنم میں تو ہر روز نئے دیپ لئے آتی ہوں تو نے انجان بنے رہنے کی کھائی ہے قسم میں ہوں تصویر وفا مجھ سے گریزاں کیوں ہے عشق کی لوح پہ کیا میں ہوں کوئی حرف غلط تو نے کتنوں کو نوازا ہے کرم سے اپنے میں تو رہتی ہوں یہاں ...

مزید پڑھیے

میں اور تم

تم سورج میں رنگ کرن تم ساگر ہو میں موج مگن تم کھلا سمندر میں قطرہ تم سچ ہو اور میں افسانہ تم روشن دن میں شب زادی تم روشنیاں پھیلاتے ہو ذرہ ذرہ چمکاتے ہو میں ایک پجارن دیو داسی چپکے سے باہر آتی ہوں اور کرنوں کی اس برکھا میں اپنا تن من نہلاتی ہوں تم جیون جوت جگاتے ہو اور مجھ کو بھی ...

مزید پڑھیے

سیڑھیاں

سیڑھیاں سیڑھیاں اک ہتھیلی سے دیوار تک اور دیوار سے گیلے آکاش تک دیکھتے دیکھتے جم سے نعش تک اب تو اکتا گئیں ریڑھ کی ہڈیاں پھر بھی ان سیڑھیوں سے گزرتی چلی جا رہی ہیں کئی پیڑھیاں

مزید پڑھیے

زہر باد

ایشور کی ہتیا کرنے کے بعد ایک بے کوہان لنگڑے اونٹ پر ہر اجالا اور اندھیرا پھاندتا سور منڈل کے مروستھل میں ہراساں بھاگتا ہوں میرے پیچھے آنے والا چیختے چنگھاڑتے بچھڑے گجوں کا غول مجھ کو زد سے باہر دیکھ واپس جا رہا ہے اور مقتول ایشور کی آتما کی وش بجھی کچھ سوئیاں سی روم چھدروں میں ...

مزید پڑھیے

فرجام

تم مری کھوج میں یوں ہی تاریک غاروں مٹھوں معبدوں خانقاہوں میں گھٹ گھٹ کے مر جاؤ گے میں نہیں مل سکوں گا تمہیں اب کبھی دھرم میں سنگھ میں دھیان میں گیان میں نیلے ساگر کی تہہ میں اتر کر برازیل کے جنگلوں میں بھٹک کر ہمالہ کی چوٹی پہ چڑھ کر مجھے تم نہ آواز دو پاس کو تیاگ کر آس کے بام ...

مزید پڑھیے

ایک پرانی نظم

کچھ نہیں جانتا کس طرح آ گیا میں ہوا کے بھیانک طلسمات میں کوکھ سے جن کی تولید پاتے ہیں بالشتیے روز و شب ہر گھڑی مجھ میں در آتے ہیں بے اجازت کھلی دیکھ کر کھڑکیاں اور در موت اور زندگی ان کا ایک کھیل ہے کیونکہ ہر ایک بالشتیہ موت سے قبل جاں سونپ جاتا ہے اپنے کسی جانشیں (دوسرے) کو دوسرا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 251 سے 960