شاعری

ہم ذات سے ہم کلامی اور فراق

سچے خواب اور جھوٹی آنکھیں اندھے رستوں کی ہم راہی انجان تحیر کا پانی اور استفہامی لہجوں کی دو دھاری تلواریں تیری قرب سرائے سے یہ زاد سفر ساتھ لیا ہے رخصت کے رخساروں پر آنسو بن کر گرتے لمحے کے ہاتھوں میں اپنے ہونے کا آئینہ دے میں اس کانچ بدن سے بے نام اندیشوں کا زنگار کھرچ ...

مزید پڑھیے

سفر لا سفر

وقت کی زنجیر تو کٹ نہیں سکتی مگر کھول گھڑی دو گھڑی قفل در ذات کا آئینۂ ضبط کو سنگ تمنا سے توڑ اور خوشی سے بہا دل میں رکا سیل درد سوچ ذرا دیر کو گوشت کے ملبوس میں پنجرہ ہیں یہ پسلیاں جس کے عجب سحر میں قید تری روح کا طائر خوش رنگ ہے آنکھ اٹھا کر تو دیکھ بازو کشادہ کیے وہ شجر شش ...

مزید پڑھیے

چتا میں بیٹھی خواہش

کہ جلتے بدن کی سرائے سے کچھ فاصلے پر اگر آنکھ میں ایک آنسو لیے تم یہ سوچو کہ دشت تمنا میں جلتا ہوا یہ پڑاؤ تمہاری تھکن کا پڑاؤ ہے شاید تو ہونے کی ہونی سے پوچھوں بتا اب تری خاک کے نم میں زر خیزیاں کس قدر ہیں

مزید پڑھیے

بد گمان

تمہارے گلے میں نئے خواب کے موتیوں کی سنہری سی مالا ہماری نہیں ہے سمندر وہ جس پر تمہارے قدم کشتیاں ہوں ہمیں صرف درس فنا ہے ہمارے لیے تو کسی اجنبی سی صدا کے بھنور سے نکلنا بھی ممکن نہیں ہے ہمیں آشنا سی نگاہوں سے سبزے میں لپٹی ہوا نے بلایا تو ہم گر پڑیں گے خزاں کے شجر سے کوئی آخری ...

مزید پڑھیے

اور دیا جلتا ہے خواب میں

وہی کائنات کی پھیلتی ہوئی ظلمتیں وہی سورجوں کی ہے بے بسی یہی ایک منظر رو برو (مرے شش جہات کی داستاں) مجھے لمحہ لمحہ نگل رہا ہے مگر کہیں مری خواب رات کے آسمان پہ کوئی ہالۂ نور ہے جو ازل سے تا بہ ابد فضائے فنا میں درج ہے ایسی سطر دوام کی جسے مسجدوں کے اجاڑ طاق ترس گئے جسے ڈھونڈتے کئی ...

مزید پڑھیے

جب بینائی ساون نے چرائی ہو

خستگی شہر تمنا کی نہ پوچھ جس کی بنیادوں میں زلزلے موج تہہ آب سے ہیں دیکھ امید کے نشے سے یہ بوجھل آنکھیں دیکھ سکتی ہیں جو آئندہ کا سورج زندہ دھوپ کے پیالے میں زیست کی ہریالی زرد چہرے پہ یہ کیسا ہے پریشان لکیروں کا ہجوم اور کیوں خوف کی بد شکل پچھل پائی کوئی تجھے باہوں میں جکڑنے کو ...

مزید پڑھیے

ذات کی کال کوٹھڑی سے آخری نشریہ

اب کوئی صحرا نہ اونٹوں کی قطاریں گھنٹیاں سی جگمگاتی خواہشوں کی دھیان کے کہرے میں لپٹی گنگناتی ہیں مگر مضراب آئندہ سفر کے راستوں کے ساز سے ناراض ہیں میں اسی اندھی گلی کی قبر میں مرنے لگا بھاگ نکلی تھی جہاں سے زیست پیدائش کے دکھ دے کر مجھے آنکھ سے چپکے نظاروں کے ہزاروں داغ ...

مزید پڑھیے

نصف ہجر کے دیار سے

ہوا کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر جدائیوں کے سفر پہ نکلے تھے تم مگر کیوں رکے ہوئے ہو یقین خفتہ گمان پختہ کے پانیوں پر جہاں پہ اول محبتوں کے کنول کھلے تھے ابھی وہیں ہو! جدائیوں کے سفر پہ جا کر بھی اب تلک تم گئے نہیں ہو! چلے بھی جاؤ چلے بھی جاؤ کہ گمشدہ ذات کے خزینے کی کنجیاں ڈھونڈنی ہیں ...

مزید پڑھیے

جگنو

جب سورج اپنی کرنوں کی چادر کو سمیٹے دور افق کے پار کہیں چھپ جاتا ہے اور چاند ستارے آوارہ بادل کے ٹکڑوں کے ہم راہ جب آنکھ مچولی کھیلتے ہیں تب دل کے گھور اندھیروں میں کہیں دور کسی گہرائی میں تری یادوں کے ننھے جگنو مرے دل کے اس اندھیارے کو اجلانے کی کوشش کرتے ہیں

مزید پڑھیے

فاصلے

قربتوں کے فاصلے جو تھے وہ کم نہیں ہوئے دلوں میں ہیں جو رنجشیں وہ برسہا برس سے ہیں اسی طرح سے موجزن محبتوں کی ڈالیاں کبھی کی خشک ہو چکیں منافقت کی چادریں دلوں پہ ہیں چڑھی ہوئیں یہ الفتوں کی رہ گزر ہے سونی آج کس قدر ہیں ساتھ سب بظاہر اب مگر وہ پیار کی شمع جو روشنی کا تھی سبب وہ بجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 250 سے 960