شاعری

چرواہے کا خواب

چرواہا خواب دیکھتا ہے اس کی ایک بھیڑ گم ہو گئی صرف انچاس بھیڑیں باقی ہیں چرواہا خواب دیکھتا ہے اس کی تین بھیڑیں زخمی ہیں صرف چھیالس باقی ہیں چرواہا خواب دیکھتا ہے بھیڑیے نے اس کے گلے پر حملہ کر دیا بھاگتی منتشر ہوتی بھیڑوں میں سے پیچھے رہ جانے والی ایک بھیڑ اور کم ہو گئی پچاس ...

مزید پڑھیے

اے صبح وطن

اے صبح وطن اے صبح وطن اے روح بہار اے جان چمن اے مطرب یا اے ساقئ من اے صبح وطن اے صبح وطن لے جوش جنوں کی ضربوں نے زنجیر غلامی توڑ ہی دی جمہور کے سنگیں پنجے نے شاہی کی کلائی موڑ ہی دی تاریخ کے خونیں ہاتھوں سے چھینا ہے ترا سیمیں دامن اے صبح وطن اے صبح وطن پھر لوٹ کے آیا صدیوں میں ...

مزید پڑھیے

نمو

تمہیں خبر ہے مرے سرہانے کے بیل بوٹوں میں اک شگوفہ نیا کھلا ہے تمہیں خبر ہے کہ خشک سالی کے زرد موسم میں پھول کھلنا دلیل ہے کہ میں اپنے خوابوں کو رہن رکھ کر تمام شب اک اذیت سے کاٹتی ہوں روش روش کو سنوارتی ہوں مجھے یہ ڈر ہے تمہاری یادوں سے میرا رشتہ نہ ٹوٹ جائے کہیں یہ گلشن نہ سوکھ ...

مزید پڑھیے

مشورہ

نمی دے کر جو مٹی کو مسلسل گوندھتے ہو تم بتاؤ کیا بناؤ گے کوئی کوزہ کوئی مورت یا پھر محبوب کی صورت سخنور ہوں کہو تو مشورہ اک دوں یہ گھاٹے کا ہی سودا ہے یہاں مٹی کی مورت کی اگر آنکھیں بناؤ گے تمہیں آنکھیں دکھائے گی تراشو گے زبان اس کی تو ترشی جھیل پاؤ گے اگر جو دل بنایا تو ہزاروں ...

مزید پڑھیے

سوال

ہاتھ دیکھتے ہو تم اور مجھ سے کہتے ہو واہ کیا مقدر ہے اور عمر بھی لمبی بس ذرا خسارہ ہے نام تیرا لے کے میں خود سے پوچھتی ہوں یہ بعد تیرے جانے کے اور کیا خسارہ یہ عمر چاہے لمبی ہو موت کے لیے آخر سانس رکنا لازم ہے

مزید پڑھیے

میں عورت ذات ہوں مجھ کو وفا کرنے کی عادت ہے

میں عورت ذات ہوں مجھ کو وفا کرنے کی عادت ہے کبھی ریتوں رواجوں سے کبھی سوکھے گلابوں سے کبھی کچھ ایسے خوابوں سے کہ جن کی کرچیاں چن کر مری پوریں ہوئیں چھلنی کبھی اس آشیانے سے کہ جس کا ایک اک تنکا صبح سے شام ہونے تک وفا سے میں نے جوڑا ہو کبھی میں صورت حوا کبھی میں عکس مریم ہوں مثال ...

مزید پڑھیے

جھوٹ

ٹھہرو بارش رک جائے تو میں ہی تم کو چھوڑ آؤں گا تب تک کوئی شعر سنا دو یا پھر تار ہنسی کا چھیڑو دیکھو مجھ کو جانے دو جنگل سارا بھیگ گیا ہے اور بادل بھی غصے میں ہے پاگل ہو تم کیسی باتیں کرتی ہو میرے ہوتے بادل برسے یا پھر دھوپ اندھیرا چھائے کون تمہیں کچھ کہہ سکتا ہے

مزید پڑھیے

محبت

وہ پھول ہے کیسے مان لوں میں کہ پھول کا رنگ ہے رمیدہ غلط ہے اس کو بہار کہنا بہار تو ہے خزاں گزیدہ وہ کہکشاں ہے میں کیسے کہہ دوں کہ کہکشاں تو رہین شب ہے میں مطمئن چاند سے نہیں ہوں کہ چاند کو بھی دوام کب ہے ہے روز روشن بھی تیرہ قسمت یہ راز وقت غروب جانا میں کیسے سورج سمجھ لوں اس ...

مزید پڑھیے

نظم

صحرائے ہستی میں ایک چیز آوارہ بھٹکتی رہی مر گئی پیاس سے زرد رو چمن میں گرد و غبار انگڑائیاں لے رہا ہے خشک پتے منتظر ہیں جنبش یک تار نفس کے اور دیدہ نم ٹکٹکی باندھے راستہ تک رہے ہیں قاصد کا جانے کب رہائی کا پروانہ آئے گا گھٹائیں جھوم کے آتی ہیں گھر کے آنگن پر نہ پوچھو کیسے رستی ...

مزید پڑھیے

ایلورا کے غاروں میں

ایلورا کے غاروں میں میں سوچتی ہوں کون سی روحیں بھٹک رہی ہوں گی جسم تو پتھر پہ کھدے ہیں ان کی پتھرائی روحیں یوں لگتا ہے میرے پتھر دل میں پگھل رہی ہیں آنسو بن کر قطرہ قطرہ ٹپک رہی ہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 247 سے 960