شاعری

خامشی کی عادت ڈال لو

خامشی کی عادت ڈال لو سکون مل جائے گا بے آواز خامشی ایک بار الفاظ کو توڑ دو معنوں کے کرب سے نجات مل جائے گی ساری جنگیں آپ ہی آپ رک جائیں گی میرا المیہ یہ ہے میں نے الفاظ کو آخری سچائی جانا تھا میری آنکھوں سے اب بوندیں حرف حرف ٹپکتی ہیں

مزید پڑھیے

سارے جذبوں کا سحر بکھر گیا ہے

سارے جذبوں کا سحر بکھر گیا ہے سارے رشتوں کا بھرم ٹوٹ گیا ہے میں نے اپنی چاہت کے سوا کچھ بھی نہیں دیکھا کسی بے جان شے پر بھی نظر نہیں ڈالی تمہارے اندر جیتی رہی ہوں تم سے بے خبر ہو کر اپنے آپ سے بھی بے خبر ہو کر میں نے تم میں صرف اپنے آپ کو دیکھا یہ سارا عشق میرا خود اپنی ہی ذات سے ...

مزید پڑھیے

دوراہا

(خود کلامی) تم جھوٹ اور سچ کے دوراہے پر تھے گزرتے لمحوں کی آواز نے تم سے پوچھا کیا تم سچ کی راہ پر چل سکتے ہو تم چپ ہی رہے گزرتے لمحوں کی آواز نے تم سے پوچھا کیا تم جھوٹ کی راہ پہ چل سکتے ہو تم چپ ہی رہے اور ''ہاں'' کے سارے لمحے گزر گئے تم جانتے ہو ''ہاں'' کہنے کے تو سارے لمحے گزر گئے اب ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوا کرتا ہے جیسے لفظ کے سارے رشتے بے معنی ہیں لگتی ہے کانوں کو اکثر خاموشی آواز کے سناٹے سے بہتر سادہ کاغذ لکھے ہوئے کاغذ سے اچھا لگتا ہے خوابیدہ لفظوں کو آخر جاگتی آنکھوں کی تصویر دکھائیں کیسے پلکوں پر آواز سجائیں کیسے کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے تم میری ...

مزید پڑھیے

حساب شب

میں اپنے آپ گم صم اداس واماندہ یہ سوچتا ہوں کہ کیا حق ہے مجھ کو جینے کا نہ ماہتاب مرا ہے نہ آفتاب مرا نہ دن کے رنگ مرے ہیں نہ لطف خواب مرا کوئی قریب سے دیکھے تو میرے دامن میں شکایتیں بھی بہت ہیں محبتیں بھی بہت روایتیں بھی بہت ہیں بغاوتیں بھی بہت پھر اک سوال ہے بیدار شب کے آنگن ...

مزید پڑھیے

قابیل کا سایہ

خدا کے خوف سے اپنے گناہوں پر خجل ہو کر وہ پیہم گریہ کرتا تھا وہ اپنے بھائی کے لاشے پہ پیہم گریہ کرتا تھا لہو آواز دیتا تھا زمیں کی خاک رسوا سے خدا کا عرش کانپ اٹھتا تھا اس فریاد کو سن کر برادر کش سزا پاتے تھے پتھر بن کے جیتے تھے اور ان کے دل کی دھڑکن بند ہو جاتی تھی سینوں میں اور ان ...

مزید پڑھیے

الاؤ

ہم اجنبی تھے مسافر تھے خانہ ویراں تھے اور اس الاؤ کے رقصاں حنائی باتوں نے بلا لیا ہمیں اپنے حسیں اشاروں سے تو اس کی روشنیٔ احمریں کی تابش میں خود اپنے آپ کو اک دوسرے سے پہچانا کہ ہم وہ خانہ بدوشان زیست ہیں جن کو ازل سے اپنے ہی جیسے مسافروں کی تلاش کئے ہوئے ہے انہی دشت و در میں سر ...

مزید پڑھیے

جسم کی نس نس میں

جسم کی نس نس میں روایات کے اجلے سفید پر اگ آئے ہیں پھر پر جسم کو قد آدم آئینے میں دیکھنا بڑی جرأت چاہتا ہے پروں میں سر چھپا کر سو رہی ہوں سونے دو

مزید پڑھیے

سر راہ

لمحہ بھر کے لیے چلتے چلتے قدم رک گئے خون کے تازہ تازہ نشاں چھوڑ کر کھانستی زندگی دونوں ہاتوں سے سینے کو تھامے ہوئے جانے کس موڑ پر جا کے گم ہو گئی راستے کی سیاہی سے لپٹا رہا اک اثاثہ جسے اپنے وارث کی کوئی ضرورت نہ تھی ایک ٹوٹا ہوا آئنہ جس میں آئینہ گر کی بھی صورت نہ تھی میری آنکھوں ...

مزید پڑھیے

انتظار

رات بھر بارش دریچے کے قریب موتیے کی بیل سے لپٹی ہوئی قطرہ قطرہ زہر برساتی رہی میری آنکھوں کو ترے چہرے کی یاد آتی رہی صبح کو تھا فرش پر پتوں کا ڈھیر بے نمو مٹی کے چہرے کے نقاب انتقام انتظار آفتاب

مزید پڑھیے
صفحہ 248 سے 960