شاعری

جب تیز بھوک لگی ہو

جب تیز بھوک لگی ہو میں اپنے جسم سے کھیلنا شروع کر دیتا ہوں بہت سادہ سا کھیل ہے یہ اس کھیل میں ہمارا دل بڑی آسانی سے ایک پھولی ہوئی چپاتی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ہمارا جسم نوکیلے دانتوں کی ایک قطار میں شاید آپ کبھی اس تجربے سے نہیں گزرے شاید کبھی آپ کی آنتیں اینٹھ کر دوہری نہیں ...

مزید پڑھیے

چاقو کا دستہ

میں ابھی چھوٹا تھا کسی نے میرے ہاتھ میں چاقو تھما دیا میں نے اپنی عمر کی لکیر کو چھ جگہ سے کاٹ ڈالا اور محبت کی لکیر چاقو کی نوک سے کھرچ دی چاقو کا دستہ مجھے کچھ بے ہنگم سا محسوس ہوا اسے میں نے ہتھوڑے کی ضرب سے چاقو سے علاحدہ کر دیا ذرا سی دھار لگانے کے بعد اب اسے دونوں طرف سے ...

مزید پڑھیے

چیونٹیاں

چیونٹیاں زمین پر کتنے کوس چلتی ہوں گی اور کتنی ہمارے پیروں تلے آ کر مسل جاتی ہوں گی اس کا شمار نہیں لیکن جب یہ ہمارے بدن پر چلتی ہیں تو ہم انہیں گن سکتے ہیں ان کی مسافت کا اندازہ لگا سکتے ہیں تم اپنے بدن پر کاٹتی چیونٹی کو کیسے الگ کرتے ہو یہ چیونٹی بتا سکتی ہے یا اس کے ٹوٹے ہوئے ...

مزید پڑھیے

خوبصورت موزے

تم نے میرے پہنچنے سے پہلے اپنے خوبصورت موزے دھو کر اپنی بالکنی میں بالکنی پر سوکھنے کے لیے ڈال دیے تھے ایک پیاسی چڑیا بالکنی پر بیٹھی اس کے قطروں کو زمیں پر گرنے سے پہلے ہی اچک لیتی تھی میری آہٹ پر وہ پھر سے اڑ گئی تم نے بالکنی میں کھلنے والا دروازہ بند کر دیا موزوں سے ٹپکنے والی ...

مزید پڑھیے

لوہے کا لباس

میں اپنے آپ کو ایک لوہے کے لباس میں پاتا ہوں شاید کبھی یہ کوئی زرہ رہی ہو لیکن اب یہ میری قبر ہے میں اپنے تحفظ کے معاملے میں بہت محتاط رہا ہوں اور اب ایک لوہے کے لباس میں گھٹ کر مر رہا ہوں یہ لباس مجھے بہت سے ہتھیاروں کی مار سے محفوظ رکھتا ہے یہ میرے بدن پر نہ تنگ ہے نہ ڈھیلا البتہ ...

مزید پڑھیے

ٹریپ

سانپ کا زہر ہمارے جسم میں داخل ہو کر مستی میں نعرہ لگاتا ہے خون کی ہر بوند میں اترتے ہوئے لطف و انبساط سے ناچنے لگتا ہے ہمارا بدن اس کے لیے تمام شریانوں کے در کھول دیتا ہے مدافعت کے لیے بنائے گئے تمام مورچے منہدم ہو جاتے ہیں چند گھنٹوں میں سارا جسم تاراج ہو جاتا ہے تھکن سے چور ...

مزید پڑھیے

پنگھٹ کی رانی

آئی وہ پنگھٹ کی دیوی، وہ پنگھٹ کی رانی دنیا ہے متوالی جس کی اور فطرت دیوانی ماتھے پر سیندوری ٹیکا رنگین و نورانی سورج ہے آکاش میں جس کی ضو سے پانی پانی چھم چھم اس کے بچھوے بولیں جیسے گائے پانی آئی وہ پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی کانوں میں بیلے کے جھمکے آنکھیں مے کے کٹورے گورے ...

مزید پڑھیے

ہولی

فصل بہار آئی ہے ہولی کے روپ میں سولہ سنگھار لائی ہے ہولی کے روپ میں راہیں پٹی ہوئی ہیں عبیر و گلال سے حق کی سواری آئی ہے ہولی کے روپ میں پچکاریاں لیے ہوئے دیوی نشاط کی ہر گھر میں آج آئی ہے ہولی کے روپ میں سیندور ہے اک ہات میں اک ہات میں گلال تقدیر مسکرائی ہے ہولی کے روپ میں وہ ہم سے ...

مزید پڑھیے

گاندھی جی کی شہادت پر خراج عقیدت

روشنی بہہ گئی چاندنی ڈھل گئی زندگی لٹ گئی شانتی مٹ گئی روشنی بہہ گئی روشنی ہے امر روشنی ہے امر روشنی ہے امر ہر طرف اس کی مسکان بکھری ہوئی ہر طرف اس کا سنگیت پھیلا ہوا ہر طرف اس کے الفاظ گونجے ہوئے ہر طرف اس کے سپنے ہیں بکھرے ہوئے ہر طرف اس کی یادوں کی پرچھائیاں ہر طرف اس کی ...

مزید پڑھیے

شفق

ہو گئی شام اور سورج ڈوبا پچھم میں ہے آگ کا گولا رنگ شفق سے ایسا برسا سرخ ہوئے جنگل اور دریا رنگ ترا ہے شام کا دامن پھول بنا ہے شام کا دامن واہ شفق کیا رنگ بھری ہے سرخ پری ہے سرخ پری ہے شام کی گودی میں بیٹھی ہے لال چندریا اوڑھ رہی ہے اس کو اپنے پاس بلا لوں اپنی سہیلی اس کو بنا لوں آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 246 سے 960