شاعری

نیک پروین

یہ ضروری نہیں تم جس پروین کی تلاش میں ہو وہ نیک بھی ہو اکثر زندگی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے والی لڑکیاں پیچھے رہ جاتی ہیں اور چھپکلی اور کاکروچ سے ڈرنے والی لڑکیاں محبت کی دوڑ میں اول آ جاتی ہیں عجیب شہر ہے دشمن تو ہنس کے ملتا ہے یہ مرے دوست ہیں جو بے رخی سے ملتے ہیں تمہارے ...

مزید پڑھیے

خیال

تم ایک خوب صورت خیال ہو جسے میں ہمیشہ سنبھال کر رکھتی ہوں اور اکثر تنہائی میں تھک کر تمہارے خیال سے سراپا سوال بن کر لپٹ جاتی ہوں

مزید پڑھیے

لمس اپنی کہانی نہیں بھولتا

دل نہیں مانتا مجھ کو سچ سچ بتا آج بھی تیرے کمرے کی کوری مہک ڈھونڈھتی ہے مجھے تیرے سونے دریچے کی بیکل ہوا جس نے پکڑا تھا اک روز دامن مرا جب ترے پاس آئی وہ جان وفا تجھ سے پوچھا مرا شیلف میں رکھی ساری کتابوں کے اوپر جمی دھول میں ان میں رکھے ہوئے کاسنی پھول میں تیرے معمول میں اب بھی ...

مزید پڑھیے

حوصلہ

یوں ہی گم صم کھڑی تھی میں اسے اذن سفر دے کر ہزاروں بار خود سے ہی لڑی تھی میں کسی کو لوٹ جانے کی خبر دے کر فقط اک پل لگا اس کو مری دہلیز کی حد پار کرنے میں مجھے صدیاں لگیں خود کو مگر تیار کرنے میں

مزید پڑھیے

نظم گنتی

جاتی ہوئی محبت آتی ہوئی موت کی طرح لگتی ہے جاتی ہوئی محبت نے گھر کو مکان میں تبدیل کر دیا ہے گھر میں آدمی سانسیں جیتا ہے مکان میں آدمی سانسیں گنتا ہے یوں سانسوں کی گنتی میں آخر کار گنتی کی سانسیں رہ جاتی ہیں

مزید پڑھیے

راستہ

میں جانتی ہوں کہ موت کے کئی راستے ہیں جیسے ریل کی پٹری سمندر اور تیری بدلی ہوئی جھیل سی آنکھیں مگر زندگی کا ایک ہی راستہ ہے خاموشی فاصلہ ضروری ہے میں روزانہ دفتر میں تاخیر سے پہنچتی ہوں اور اپنی زنجیر پہن کر بیٹھ جاتی ہوں میں ٹائپ رائیٹر پر ہاتھوں کا غلط استعمال نہیں کرتی چھ ...

مزید پڑھیے

کٹھ پتلی

جیتی جاگتی عورت کو کٹھ پتلی بنانے میں تمہیں کافی وقت لگ گیا لیکن تمہاری محنت رائیگاں نہیں گئی اب وہ تمہارے تھپڑ نہیں گنتی مگر تم اس کی روٹیاں گنتے ہو اب وہ تمہارے ہونٹوں کی جنبش تمہارے انکھوں کے اشارے پہ رہتی ہے اور تمہاری خاموشی میں اپنا ڈر بناتی رہتی ہے اور تمہیں لگتا ہے کہ وہ ...

مزید پڑھیے

معصومیت

ہمارے یہاں بچے کو جو ابھی پوری طرح کھڑا ہونا بھی نہ سیکھا ہو پستول ہاتھ میں دے دی جاتی ہے دو چار بار اسے زمین پر گرا کر اسے پستول سنبھالنا اور پھر ہات کو ذرا سی جنبش سے اسے انگلیوں کے درمیان پھر کی کی طرح بھی آ جاتا ہے لڑکپن پھلانگنے سے پہلے اسے دو ایک آدمی گرانا ہوتے ہیں بڑے ہونے ...

مزید پڑھیے

درباری مغنی

میں ایک دھتکارا ہوا درباری مغنی ہوں دربار سے دھتکار دئے جانے سے پہلے میرے حلق میں سیندور کی ایک پوری شیشی الٹ دی گئی ہے اب میرا گلا محض غذا کی نالی بن کر رہ گیا ہے مجھے اپنے گلے کے سوز و ساز سے محروم کیے جانے سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ میں اپنے معدے میں اتری ہوئی ...

مزید پڑھیے

تنکا

یہ چھوٹی سی ندی تو محض ندی کی ہلکی سی جھلک ہے ندی کا پورا پاٹ دیکھنا ہو تو میرے دل میں اتر کر دیکھو جہاں سے اس کے سوتے پھوٹتے ہیں لیکن میرے دل سے ایک نہیں کئی ندیوں کے سوتے پھوٹتے ہیں کبھی کبھی یہ سوتے خشک بھی ہو جاتے ہیں اور دل میں دھول سی اڑنے لگتی ہے دل ایک ریت کے ٹیلے کی طرح ...

مزید پڑھیے
صفحہ 243 سے 960