شاعری

کرکٹ میچ

بیزار ہو گئے تھے جو شاعر حیات سے کرکٹ کا میچ کھیل لیا شاعرات سے واقف نہ تھے جو دوستو! عورت کی ذات سے چوکے لگا رہے تھے خیالوں میں رات سے آئی جو صبح شام کے نقشے بگڑ گئے سروں سے ہم غریبوں کے اسٹمپ اکھڑ گئے ناز و ادا و حسن نے جادو جگا دیے پہلے تو اوپنر کے ہی چھکے چھڑا دیے ون ڈاؤن پہ جو ...

مزید پڑھیے

ذرا سوچو تو کیا ہوگا

زمیں اڑتی پھرے گی آسماں نیچے بچھا ہوگا ذرا سوچو تو ایسا ہوگا دنیا میں تو کیا ہوگا ستاروں کو پکڑ کر لوگ کمروں میں سجائیں گے ہوا کو باندھ کر رکھیں گے گرمی میں چلائیں گے کبھی سورج نہیں نکلا تو سستی کی سزا دیں گے اٹھک بیٹھک کرائیں گے اسے مرغا بنا دیں گے کبھی کر دے منع جو چاند راتوں ...

مزید پڑھیے

ترانۂ قومی

مرحبا اے خاک پاک کشور ہندوستاں یادگار عہد ماضی ہے تو اے جان جہاں کیسے کیسے اولیا گزرے اور قطب زماں جن کے قدموں نے بنایا ہے تجھے جنت نشاں روشنی سے تیرے پھیلا ہے اجالا ہر طرف تیرا دنیا میں رہا ہے بول بالا ہر طرف کیوں نہ کہیے تجھ کو اک سرچشمۂ آب بقا ہیں یہ آثار قدیمہ تیرے گنج بے ...

مزید پڑھیے

رس

میری تخئیل تری ذات میں رس گھولتی ہے ایک مینار فلک بوس جفا جو سرکش گنگناتا تو نہیں حرف بنا لیتا ہے میرے دل میں کبھی دو حرف جھلک اٹھتے ہیں جیسے مضراب سے پھوٹ آتے ہیں سارنگی میں کون مضراب ہے وہ کون سی سارنگی ہے جو مری روح کے ہر تار میں رس گھولتی ہے گل مہک اٹھتے ہیں جب باد صبا ڈولتی ...

مزید پڑھیے

کیوں

اے خدا پھر سے ہمیں جہل کی دولت دے دے تو نے کیوں علم دیا اور جہالت چھینی تو نے کیوں جنت حمقا سے نکالا ہم کو ذہن کو کس لیے ہونے دیا بالغ تو نے آستینوں میں مرے پل کے سپنولے کی طرح ڈس لیے جس نے مرے سارے ہی اوہام کہن آنکھیں چہرے پہ کبھی کو ہیں ملیں کان بھی ہاتھ بھی پاؤں بھی پائے سب ...

مزید پڑھیے

جہات

کل کی یادیں مسجدیں موتی کی قلعے لعل کے مرمر کے تاج مورتیں مندر کلیسا ینتر منتر گرتی دیواریں چھتیں سائے میں ان کے دھندلکے دیمکیں جالے غبار آسماں چھوتی عمارت بلند بار دیگر بار دیگر بار بار سر اٹھاتے حادثات شفقتیں مہر و مروت ظلم بے مہری سوارتھ زندگی لیتی ہی رہتی ہے ہمارا ...

مزید پڑھیے

مکالمہ

دادو آپ کے بابا کہاں ہیں میرے بچے میرے بابا تو بہت مدت ہوئی اللہ میاں کے پاس ہیں اور آپ کی ماما کہاں ہیں میرے بچے وہ بھی ان کے ساتھ ہیں اللہ میاں کے پاس دادو آپ کے بابا بھی اور ماما بھی دونوں مر گئے کیسے مرے تھے کیا انہیں گولی لگی تھی بم پھٹا تھا یا کہیں وہ فیکٹری کی آگ میں جل کر مرے ...

مزید پڑھیے

اس سے بڑا دکھ کیا ہوگا

اس سے پہلے جتنی عیدیں گزری ہیں ہر عید سے پہلے میرے بچے اپنی نرم روپہلی بانہیں میری گردن میں جب ڈال کے کہتے تھے ہم عیدی لینے آئے ہیں وہ خوشیوں سے لبریز منور گھڑیاں کتنی اچھی لگتی تھیں جب بڑی بڑی رقموں کو وہ ٹھکراتے تھے اور بڑے بڑے تحفوں پر بھی وہ اپنے منہ لٹکاتے تھے وہ مجھ سے روٹھ ...

مزید پڑھیے

گم نام ساحل

ملو اک دن کسی گم نام ساحل پر وہاں پر ہم قدم ہو کر چلیں گے دور تک یوں ہی ہم اپنے بھیگے پیروں کے نشاں کو ریت کے دامن سے چن کر منزلوں کے ہاتھ میں دے کر کوئی وعدہ کریں گے نیا سپنا بنیں گے اٹھا کر کوئی ارماں ریگ ساحل سے ہم اک دن سیپیوں کے دل میں رکھ دیں گے تاکہ ابر نیساں جب بھی برسے سیپیاں ...

مزید پڑھیے

تیسری بیٹی

میں نے جب جنم لیا تو میری ماں مجھے چھاتی سے لگائے رو رہی تھی میری بھوک نے چلانا شروع کیا میں نے دودھ کی بجائے اپنی ماں کے آنسوؤں کا نمک چکھا پھر میں آنسو پیتے پیتے جوان ہو گئی اور آنسو پی کر جوان ہونے والی لڑکیوں کو اگر سانپ بھی کاٹ لے تو وہ مر جاتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 242 سے 960