شاعری

کٹی پہاڑی

ہمارے شہر کی آبادی کے درمیان کسی بھی سمجھوتے کے امکان کو مسترد کرتے ہوے شہر کے شمال مغرب میں دور تک پھیلی ہوئی پہاڑی میں ایک شگاف ڈال دیا گیا ہے پہاڑی کو کاٹنے کا یہ اچھوتا خیال شہر کے کچھ معماروں کے ذہن میں کیا آیا شہر کے مکانوں کے در و دیوار اس نئی تفریق کے شور و شر سے تپ کر سرخ ...

مزید پڑھیے

الگ الگ اکائیاں

صبح سے میں اس گھڑی کی ٹک ٹک سن رہا ہوں جو دیوار سے اچانک غائب ہو گئی ہے لیکن ہر گھنٹے کے اختتام پر الارم دینے لگتی ہے اور پھر ٹک ٹک ٹک کبھی کبھی یہ ٹک ٹک مجھے اپنے سینے میں سنائی دیتی ہے کبھی کلائی کی نبض میں پھر تو جس چیز کو اٹھا کر کان سے لگاتا ہوں وہ ٹک ٹک کرنے اور الارم دینے لگتی ...

مزید پڑھیے

نظم

میں اسے بلاتا ہوں اور وہ آ جاتا ہے میری کتابوں کے ورق الٹ پلٹ کرتا ہے پھر وہ میری میز پر پاؤں رکھ کر اس کی ماں نے بھی اس کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا اور اس کی ماں کے ساتھ اور اس کی ماں نے بھی تو کیا تم نے اپنی ماں کو معاف کر دیا تھا؟ اور کیا لوٹ کے آنے والی ماں پہلے والی ماں ہی تھی؟ میرے ...

مزید پڑھیے

کہانیاں

یہاں ٹھیک اس جگہ جہاں ایک چٹان ایک گہری کھائی پر جھکی ہوئی ہے یہاں ایک چھتنار درخت تھا وہ پرندے یہاں آتے تھے جن کے بارے میں لوگوں میں عجیب عجیب کہانیاں مشہور ہیں اس چٹان کے پہلو میں ایک آتش کدہ ہے جس میں ہر وقت آگ روشن رہتی ہے جس سے اس کے چاروں اور بیٹھے لوگوں کے چہرے اس قدر روشن ...

مزید پڑھیے

آدمی کا نشہ

دو شرابی درخت اپنا بڑا سر ہلا ہلا کر جھوم رہے ہیں سورج کے جام سے آج انہوں نے کچھ زیادہ ہی چڑھا لی ہے اب وہ اپنی شاخوں میں بیٹھے پرندوں کی چہکار سے زیادہ سڑک پر چلتے ٹریفک کے شور کو انہماک سے سن رہے ہیں دونوں شرابی درخت جڑوں سمیت سڑک پر آ گرے ہیں ٹریفک جام ہو جاتا ہے بسیں، ...

مزید پڑھیے

نظم

ایک کے بعد ایک کئی موتیں مر کر اب میں زندہ ہو گیا ہوں ایک میں ہی نہیں یہاں میرے ارد گرد اور بہت سے کئی بار موت کا ذائقے چکھ چکے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو ایک بار مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہ ہو سکے کئی موتیں مرنے یا ہر بار جی اٹھنے پر ہم کیوں کر زندہ رہے اور ایک بار مرنے کے بعد کون سی ...

مزید پڑھیے

اندھا اور دوربین

جب اس نے پہاڑ کا نام لیا تو سب ہانپنے لگے جب اس نے غنیم کی نقل و حرکت بتائی تو وہ کانپنے لگے اس نے کہا اندھیرا تو سب ایک دوسرے کو ٹٹولنے لگے اس نے کہا دریا آبادی میں گھس آیا ہے تو سب خلا میں ہاتھ پیر مارنے اور ڈوبنے لگے تب وہ عیاری سے مسکرایا اور انہیں بالوں سے پکڑ کر خلا میں دو چار ...

مزید پڑھیے

اس میز پر سر جھکائے

ایک لڑکی مجھے اسکیچ کر رہی تھی لڑکی کی ڈرائنگ اگرچہ اچھی نہیں تھی لیکن اسے اس قدر منہمک دیکھ کر میں بہت متائثر ہوا مجھے خواہش ہوئی کہ میں اس لڑکی کا بوسہ ہی لے لوں مگر میرا دھڑ غائب تھا میری ڈرائنگ اس لڑکی سے کہیں زیادہ بہتر تھی اور میں اس کی چھاتیاں بنانا بھی چاہتا تھا جو اس کے ...

مزید پڑھیے

ریت

ریت پر سویا ہوا ہے آدمی اس میں سرے سے کوئی جنبش ہی نہیں مجھے ہول ہوتا ہے میں اس کے پاس جاتا ہوں وہاں ریت کا ایک ڈھیر ہوتا ہے میں اس ڈھیر کو ہاتھ سے چھوتا ہوں مرے پنجے کا نشان ریت پر بن جاتا ہے پھر یہ نشان پانی سے نکلی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپنے لگتا ہے اور کچھ دیر بعد ساکت ہو جاتا ...

مزید پڑھیے

نظم

''مشکیزے کا پانی اسی ریت پر ڈال دو اور ننگے پاؤں میرے پیچھے چلے آؤ'' میں نے سارا پانی ریت پر گرا دیا اور ننگے پاؤں اس کے پیچھے ہو لیا کئی صحرا ہم نے عبور کر ڈالے زہریلے کانٹوں اور زہریلے کیڑوں پر پاؤں رکھتے ہوئے ہم آگے بڑھتے رہے اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میں تو صحرا میں اکیلا ہی چلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 244 سے 960