شاعری

ویڈیو گیم

بٹن آغاز کا دبتے ہی میں نے راستوں میں جا بہ جا بکھری ہوئی قوت ہر اک انداز سے خود میں انڈیلی تھی کتابیں اور سکھیاں خواب اور منظر صحیفوں کے سنہرے حرف سب جھولی میں ڈالے تھے خبر تھی جس مہم جوئی پہ نکلی ہوں یہاں چلنا مسلسل راہ دلدل اور توانائی مرا واحد حوالہ ہے بڑی مدت ہوئی چلتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

دل کی آخری تہہ میں

بے کلی نہ بے زاری نے کوئی اداسی ہے دیکھنے کو لہجے میں خفگیاں نہیں ملتیں ایک چپ سی ہے لیکن گفتگو کے زمزم کو روک روک دیتی ہے ہر ادائے بے پروا تھام تھام لیتی ہے بولنے سے پہلے جو سوچنے کو کہتی ہے ہر سخن مکمل ہے پھر بھی حرف کہتے ہیں بات نا مکمل ہے قربتوں کی بارش میں اک گریز کا لمحہ اب ...

مزید پڑھیے

رہنے دو

جو لمحے بیت گئے جاناں کیوں کر وہ لوٹ کے آئیں گے وہ دل جو ٹوٹ گئے ہمدم آخر کیسے جڑ پائیں گے اب ساری کوشش رہنے دو اور مختاری کے صحرا میں اک ہجر کی بندش رہنے دو جو نقش ہوا کے ہاتھ لگے ڈھونڈو تو کہاں تک جاؤ گے جاؤ بھی اگر کیا پاؤ گے بس ایک تمہی تھک جاؤ گے ہاتھوں کی لکیروں کی میرے خوابوں ...

مزید پڑھیے

نظم

ہر زخم ہنر سے ہر دیدۂ تر سے خاموش سفینوں کے لہو رنگ سفر سے انصاف جو ہوگا تو وطن زندہ رہے گا

مزید پڑھیے

پچھلی باتیں یاد آتی ہیں

زخمی تن ہے من بے کل ہے پچھلی باتیں یاد آتی ہیں ملتے رستے جن پہ ہم تم ہنستے گاتے دوڑ رہے تھے دل میں کوئی خوف نہیں تھا پھول کھلے تھے رستے رستے برکھا کتنی البیلی تھی بھولے بھالے وہ سپنے تھے میری امی میرے ابا میری بہنیں میرے بھیا ہم سب کتنے خوش خوش سے تھے اب کچھ ایسی بات ہوئی ہے گھر ...

مزید پڑھیے

تمہاری آواز آ رہی ہے

میں اپنے گھر کے خموش در پہ کھڑی ہوئی ہوں میں ایک کمرے سے دوسرے کو لرزتے قدموں سے بڑھ رہی ہوں میں چھت کے زینے پہ چڑھ رہی ہوں تمہاری آواز آ رہی ہے گلی گلی کے تمام چہرے مشین دفتر لباس سارے دکاں مکاں اور مکین سارے بسوں کے اٹھتے دھوئیں میں تحلیل ہو رہے ہیں تمہاری آواز آ رہی ہے ہوا کی ...

مزید پڑھیے

آس

بیت چکا ہے وہ پل جس پل اس کو میرے گھر آنا تھا بیت چکے ہیں ایسے پل بھی جن سے میرا ساتھ نہیں تھا شام ہوئی ہے آس کو اب تک لازم تھا یہ ٹوٹ ہی جاتی لیکن میں تو آتی جاتی ہر رکشا کو دیکھ رہی ہوں

مزید پڑھیے

میرے شاعر زندہ رہنا

مرا دل کچھ ڈوب رہا ہے جب سے میں نے نم پلکوں کی اوس میں ڈوبی ڈوبی سی اک نظم پڑھی ہے چپ چپ بیٹھی سوچ رہی ہوں تم نے آخر یہ کیوں سوچا تم تنہا ہو میری آنکھ کا سارا افسوں میرا کومل کومل سایہ نرم ہوا میں شامل ہو کے پاس تمہارے نہ آیا کیا چپ چپ بیٹھی سوچ رہی ہوں تم نے آخر یہ کیا لکھا ٹوٹا ...

مزید پڑھیے

نیا جنم

تمام معصوم آرزوئیں جو میرے بچپن کی ہم سفر تھیں اب اک نیا رنگ روپ لے کر مرے لبوں پر مچل رہی ہیں دعا کی صورت ابھر رہی ہیں

مزید پڑھیے

نظم

سورج کتنا پیارا ہے بادل کتنے اجلے ہیں چاروں اور دمکتے چہرے کومل کلیاں ننھے پودے نرم ہوائیں بہتا پانی روتی ہنستی ساری آنکھیں رنگ برنگے سارے نغمے کتنا من کو بھاتے ہیں سچ مچ دیکھو زندہ رہنا کتنا اچھا لگتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 236 سے 960