شاعری

مجھے بتا تو سہی

مجھے بتا تو سہی اے حبیب کم عمری وہی ہیں لب وہی گفتار اور وہی انداز پس وجود وہ کیا تھا جو اب نہیں ہوتا مری نظر میں کوئی ایسی روشنی تھی بھلا جو بجلیوں سی اتر کر ترے سراپے میں تجھے ہجوم دلآرام سے سوا کرتی وہی ادا وہی انداز خد و خال مگر لگاؤ دل کا یوں ہی بے سبب نہیں ہوتا اب اس مقام پہ ہے ...

مزید پڑھیے

تو نے پوچھا ہے مرے دوست!

تو نے پوچھا ہے مرے دوست تو میں سوچتی ہوں وہ جو اک چیز ہے دنیا جسے غم کہتی ہے مجھے تسلیم، مرا اس سے علاقہ نہ رہا زندگی گویا کوئی سیج رہی پھولوں کی پھر وہ کیا ہے کہ جو کانٹوں سی چبھا کرتی ہے میں نے دیکھی ہیں وہ بے مہر نگاہیں اے دوست جن کی بے گانگی دل چیر دیا کرتی ہے میں نے گھومے ہیں وہ ...

مزید پڑھیے

کلیہ

ایک انداز سے دیکھوں تو ہمایوں تم ہو اور اک طرز کی بابر میں ہوں روز و شب درد کے پھیروں میں رہیں بار غم خود پہ اٹھانے کی دعاؤں کے سوا مستجابی کا کوئی ڈھنگ نہ ہو تندرستی بھی کوئی طاق عدد ہو جیسے دو پہ تقسیم نہیں ہو سکتی میرے آزار میں جتنا بھی اضافہ ہوگا اس قدر تم کو شفا پہنچے گی

مزید پڑھیے

بے ساختہ دل یہ چاہتا ہے

ہنگامۂ روز و شب سے ہٹ کر کچھ دیر کو ذات سے نکل کر احساس ملے جو ماورائی بے ساختہ دل یہ چاہتا ہے وہ ہاتھ جو لکھ رہا ہے سب کچھ تقدیر کا کھول کر نوشتہ جب اپنے ہی دھیان میں مگن ہو چپکے سے اٹھا کے ایڑیوں کو ہولے سے ورق الٹ کے دیکھوں اس وقت میں جو ہے آنے والا جاں لیوا مسافتوں کے رستوں پر ...

مزید پڑھیے

سانس خوشبو سے لدی جاتی ہے

جب اداسی در و دیوار پہ چھا جاتی ہے دل کے تاروں میں کہیں سات سروں کی مالا ایک خاموش چھناکے سے بکھر جاتی ہے جب میں حالات کے بخشے ہوئے مایوس اندھیروں میں کہیں دور بھٹک جاتی ہوں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دینے لگتا دل کسی زرد ستارے کا سوالی بن کر گھپ اندھیرے میں کسی راہ کی ناکام طلب ...

مزید پڑھیے

کہنا یہ تھا

جانے کہاں ہو دفتر کے مردہ ماحول میں دوغلے لوگوں کے جھرمٹ میں شہر کی باہوں کے ظالم حلقے سے باہر چوڑی شہ راہوں کے تپتے سینے پر چپ چاپ رواں ہو یا کسی تہہ خانے کی ٹھنڈک کے مہماں ہو موبائل کا صاف جواب ہے آپ کے مطلوبہ نمبر سے کوئی جواب نہیں ملتا ہے کہنا یہ تھا یہ کمپیوٹر آج مری خواری پر ...

مزید پڑھیے

ری سائیکلبن

لفظ واپس نہیں ہوا کرتے تلخیوں میں گھلے ہوئے لہجے ظرف کے ہاتھ کیا ہی ماہر ہوں پھول بن کر نہیں کھلا کرتے حذف کرنے کا آسرا لے کر کوئی تحریر لکھ نہیں دینا بھول جانے کی التجا لے کر مت کہو کوئی حرف نا بینا کل جو خالی گیا تھا وار کوئی کارگر آج ہو بھی سکتا ہے بھولی بسری گواہیوں کا ...

مزید پڑھیے

مبارک باد

زمانے! تہنیت تجھ کو کہ پھر میدان مارا ہے مگر اب کے جو ہارا ہے بڑا ہی سخت جاں نکلا مقابل تیرے آنے کو بہت تیار پھرتا تھا لیے ہتھیار پھرتا تھا وفا کے، ظرف کے آنکھوں میں روشن خوش گمانی کے لبوں پر کھیلتی خواہش، سخن میں ناچتی اک حوصلہ مندی رگوں میں دوڑتا سیال ارادہ تھا بدن پر خواب کی ...

مزید پڑھیے

پنکچویشن

تمہیں بھیجوں کتاب زندگی اپنی ذرا ترتیب دے دینا جہاں پر بات مبہم ہے جسے تفصیل لازم ہے وہاں پر حاشیہ دینا کہیں گر دو مکمل لفظ اکٹھے ہو گئے ہوں تو یہ قربت غیر فطری ہے ضروری ہے مناسب فاصلہ دینا جہاں پر ختم ہوتا ہو کوئی درد آشنا جملہ فراموشی کا نقطہ ثبت کر دینا وہیں پر ختم کر دینا نئے ...

مزید پڑھیے

اپنا گھر

گھر کی ساری چیزوں کو بے رخی سے یوں دیکھا جیسے اک تعلق ہو پھر نہ جانے کیا سوچا احتیاط سے ٹانگے پائنچے ارادوں کے اشتیاق سے الٹی آستین ہمت کی ایک ایک گوشے سے اوڑھنی کے پلو نے گرد غیریت جھاڑی تھام کر ہر اک شے کو اپنی آنکھ سے دیکھا اپنی سوچ سے چھو کر اپنے ہاتھ سے رکھا سارا گھر چمک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 235 سے 960