شاعری

دور افتادگی

نغمگی گیت حرف و نوا نالۂ شوق صوت و صدا ایک بہری سیاست کے دربار میں سرنگوں پا بہ زنجیر لائے گئے سارا سیماب نقد و نظر سب طلسمات حرف و ہنر پردۂ سحر و اسرار سے ٹوٹ کر مقتل آرزو بن گئے وہ طرب زار دل قصر غم رات بھر جاگتی آگہی یعنی اقلیم جاں مشینوں کے کھنڈرات میں کھو گئے وہ جو آہنگ عالم ...

مزید پڑھیے

وہ خواب معدوم ہو گئے ہیں

عظیم تر تھی نظر کی دنیا حسین تھیں آرزو کی راہیں علامت زندگی تھی خوابوں کی کہکشاں زاد راہ تھیں حیرتیں وفائیں لرزتے احساس کانپتا ذہن فکر فردا کی جوت سے مضطرب نگاہیں وہ رنگ و صوت و صدا کے وقفے وہ جان و تن کی حکایتیں قلب و روح کے دل کشا مناظر وہ سب جو اک عمر کی کمائی تھے کیسے اک بے ...

مزید پڑھیے

فقیری میں

فقیری میں بھی خوش وقتی کے کچھ سامان فراہم تھے خیالوں کے بگولے مضطرب جذبوں کے ہنگامے، تلاطم بحر ہستی میں تموج روح کے بن میں، عجب افتاں و خیزاں مرحلے پہنائی شب کے، تڑپ غم ہائے ہجراں کی لرزتی آرزو دیدار جاناں کی عدم آباد کے صحرا میں ایک ذرہ کہ مثل قطرۂ سیماب لرزیدہ صدف میں ذہن کے ...

مزید پڑھیے

تخلیق شعر

بہت دنوں سے اداس نظروں کی رہ گزر تھی پڑی تھیں سونی افق کی راہیں کہ دل کی محفل میں نغمہ و نالہ و نوا کی عجب سی شورش نہیں ہوئی تھی نظر اٹھائی تو دور دھندلی فضاؤں میں روشنی کا اک دائرہ سا دیکھا لرز کے ٹھہرا جو دل تخیل نے اپنے شہپر فضا میں کھولے کہ جیسے پرواز کا صحیفہ کھلے تو نیلے ...

مزید پڑھیے

نذر غالبؔ

کیف جاں نور بصر یاد آیا عرصۂ حرف و ہنر یاد آیا دشت امکان کی پہنائی میں خاک بر سر تھے کہ گھر یاد آیا لٹتے لٹتے بھی دل محزوں کو درد کا رخت سفر یاد آیا جب گنوا آئے متاع ہستی تب ہمیں جاں کا ضرر یاد آیا بزم جاناں ہی سہی بزم خیال دل کا سناٹا مگر یاد آیا شب مہجوری میں ہنگام نزاع مطلع ...

مزید پڑھیے

نقش فریادی

نقش فریادی بنا پھرتا ہوں میں بازار میں کاغذی اک پیرہن بس ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں پر وہ ملتا ہی نہیں کس طرح اپنی شکایت کے لئے پہنچوں بادشاہ وقت کے دربار میں بادشاہ بد بخت ہے ہر وقت رہتا ہے مدرا میں اسیر یہ مدرا وہ ہے اس کے ذہن میں ہے جو بھری اس مدرا کے ہی کارن اس نے اپنے دیس کے لوگوں ...

مزید پڑھیے

کاو کاو سخت جانی

کاو کاو سخت جانی اور ایسی تنہائی جذبۂ بے اختیاری اور ایسی تنہائی آتش خاموش میں جلتا رہا اور کوئی وصل کو آیا نہیں وحشت ایسی تھی کہ صحرا بھی جلا وہ بھی جلا تھی وہ داغوں کی بہار تھا چراغاں رات میں اور قیس تھا تصویر میں پھر بھی عریاں ہی تھا وہ اس نے کبھی کپڑے نہ پہنے خوشبو بھرے خوشیاں ...

مزید پڑھیے

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ

آندھیاں ہوتی ہیں کیا، طوفان کہتے ہیں کسے! پہلے تو مٹی کی اک ہستی بنا، پھر مجھ سے پوچھا بارشیں ہوتی ہیں کیا، سیلاب کہتے ہیں کسے! پہلے تو کاغذ کی اک کشتی بنا، پھر مجھ سے پوچھا پوچھتا کیا ہے بتا! اے خواب، میرے خیال سے ٹوٹ جاتی ہیں میری نیندیں، ترے سنگار سے دیکھ کر یہ جذبہ بے اختیاری، ...

مزید پڑھیے

حادثہ

شخصیت ہاتھوں میں کانپی ہونٹ ناری بن گئے آسماں ٹوٹا زمیں پگھلی بدن کی چاندنی صوفے پہ اوندھی گر پڑی اک کرن جانے کہاں سے روشنی کی نہر میں آ کر گری دیوتا قامت بدن تحلیل ہو کر جام میں ان گنت رتیلے خوابوں کا خدا بن ہی گیا اور شہر سنگ میں پھر موم کا جادو چلا چاقو چلا

مزید پڑھیے

رات

اندھ سے بھرے بستر پر اپنے بے ترتیب کپڑوں میں چھپی اور ناچھپی بکھری ہوئی سہمی ہوئی میری آنکھوں میں خدا کو پڑھ رہی ہے اور ابھی کچھ دیر پہلے گھر کی ساری روشنی اس کی آنکھوں میں غروب ہو گئی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 218 سے 960