شاعری

سگریٹ

میں کہ اک اور گزرتے ہوئے پل کے ہم راہ اپنی خوشبو میں بسا آپ ہی آپ سلگتا ہوا کاغذ کا وجود ہاتھ پھیلا کے کسی راکھ سے اٹتے ہوئے برتن میں مسل دیتا ہوں راکھ کے ڈھیر پہ کچھ دیر کو رکتا ہے دھواں وہ سیہ پوش وجود مجھ سے کہتا ہے کے تم وقت کا انداز لیے ہو لیکن وقت جو روز نہ جانے کتنے دھیمے ...

مزید پڑھیے

لیکن

پہلی بارش جیسا تیرا چہرہ تھا دل پتھر کی ہر ہر درز میں کوئی کونپل پھوٹ گئی تھی اک اک ریکھ کا ہاتھ پکڑ کے تیری یاد کی بیل بدن پر پھیل رہی تھی اور پھوار پڑی پھر اک دن تن چنری کی سلوٹ سلوٹ زہر اور نمو کی کاہی رنگت رچی ہوئی تھی نخل دار پہ بور آنے کا موسم بھی تھا دلی کی گلیوں میں اس ...

مزید پڑھیے

ساون سے وہ پیار کرے

اور خود بھی ہے آوارہ بادل کبھی تو بن برسے اڑ جائے اور کبھی تن من جل تھل اس کے پیار کی برکھا رت میں یوں بھیگوں میں دن رات بال بال سے موتی ٹپکیں امڈے آنکھوں سے برسات

مزید پڑھیے

جدائی کے چار موسم

پہلا موسم جلدی آنا دیکھ بہاریں آنے کو ہیں کلی کلی مسکانے کو ہے دوسرا موسم آ بھی جا نا کہیں بہاریں بیت نہ جائیں پھر یہ جدائیاں جیت نہ جائیں تیسرا موسم اب جو آنا ساتھ میں اک چنگاری لانا ڈھیر ہے اک سوکھے پتوں کا آخری موسم اب نہ آنا پتا پتا بکھر چکا ہے

مزید پڑھیے

نظم

میرے ہم راہ دکھوں کا یہ جھمیلا کیوں ہے زندگی تو ہی بتا تیرا رویہ مجھ سے اس قدر روٹھا ہوا اتنا سوتیلا کیوں ہے

مزید پڑھیے

نظم

میں پونم کا چاند ہوں جسے جبر کے گہن نے کھا لیا میرے حسین و جمیل اللہ حسین ہر معاملہ میرا کر دے شکستہ دل ہوں شکستہ پر ہوں شکستگی کو شگفتہ کر دے

مزید پڑھیے

بچپن

بچپن کے دکھ کتنے اچھے ہوتے تھے تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے وہ خوشیاں بھی جانے کیسی خوشیاں تھیں تتلی کے پر نوچ کے ناچا کرتے تھے پاؤں مار کے خود بارش کے پانی میں اپنی ناؤ آپ ڈبویا کرتے تھے چھوٹے تھے تو مکر و فریب بھی چھوٹے تھے دانہ ڈال کے چڑیا پکڑا کرتے تھے اپنے جل جانے کا بھی ...

مزید پڑھیے

میں رات حوا

تم سے صرف ایک بار جنمی گئی ہوں مگر تم تو آج تک مجھ سے جنم لے رہے ہو پھر میں محض اک سایا بن کر کیوں رہ گئی وجود کیوں نہیں بنی میرا پڑاؤ ہمیشہ تمہارے انگوٹھے کے نیچے کیوں رکھا گیا ہے میں تمہارے نام کی سل اپنے بدن سے ہٹا کر کھلی ہوا میں منہ بھر کر سانس لینا چاہتی ہوں باپ بھائی شوہر اور ...

مزید پڑھیے

بس لوٹ آنا

سچائیاں اپنے وقت میں کبھی جی نہیں پاتیں سو آنکھوں نے ہمیشہ لمحوں سے دھوکے کھائے تمہیں کیسے رخصت کروں کہ یہ بات امام ضامن اور دعا سے بہت آگے بہت آگے ہے ہتھیلیوں کے گرداب پھسلتے پھسلتے بینائی کی دہلیز پہ آ بیٹھے ہیں انگلیاں کانوں کو کہاں تک دستک سے دور رکھیں گی دعاؤں کی چھتری میں ...

مزید پڑھیے

زمیں دار

جنون حاکمیت خود پسندی کا یہ لاوا کیوں ابلتا اور بہتا جا رہا ہے ساری دھرتی پر کہاں سے حکم آتا ہے یہ کیسی سوچ کے پیرائے میں تم ڈھالے جاتے ہو کہ نفرت اور گہری ہو رہی ہے زمیں زادو بدن دھرتی میں بونے سے فقط قبریں ہی اگتی ہیں لہو بہتا رہا تو مہر و وفا احساس کے سب بہتے دریا سوکھ جائیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 212 سے 960