شاعری

آخری پڑاؤ

شاید میری زمین اپنے سفر کے آخری پڑاؤ سے آگے نکل چکی ہے منزل پر جلتے ہوئے فلک بوس الاؤ کی حدت کچھ اتنی تیز ہے کہ درختوں کے جڑوں سے لے کر شاخوں کے سروں پر آنے والا بور تک پسینے اور گرمی سے ہانپ رہا ہے وقت کی کٹھالی میں ابلتے ہوئے حالات کے ساتھ اب کے کسی عقل مند نے ہوا کے ہاتھ پر رکھے ...

مزید پڑھیے

مشورہ

تو چھن گیا تو لگا جیسے لکیریں میری ہتھیلی کے کاغذ سے گر گئی ہیں اور ہاتھ کفن سے زیادہ سفید ہو گئے ہیں اب جانے کون سے لمحے کی پر کار لائینوں کی عبارت دوبارہ لکھے میں نے جیت ادھار تو نہیں مانگی تھی ہجر کسی ظالم چودھری کی طرح تمام وصل کا اناج اٹھا کر لے گیا ہے اور بھوک جسم پہ بالوں کی ...

مزید پڑھیے

گرہستی

اک تذبذب کی سرائے ساعتوں کے میل سے بوجھل مگر روشن چھتیں دیوار و در اور راہدری میں ابھرتی اجنبی قدموں کی ہلکی تیز چاپ اور خاموشی کا لمس جیسے سائبہ پھر صحن میں آ کر اترتے قافلوں کی فاصلوں سے چور آوازیں سفر میں یوں اچانک آنے والے اس پڑاؤ کی لپٹتی میزباں ٹھنڈک سے سحر آگیں طراوت پا ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں سے کم

ہونٹوں سے کم گرم مہکتی سانسوں سے نم آنکھوں سے تم نے پوچھا کیا ہم سے محبت کرتے ہو بس ایک حرف منہ سے نکلا ہاں کتنا معمولی چھوٹا سا یہ نا مکمل لفظ ہے کیسے دکھلائیں تم کو اس پوشیدہ خوابیدہ وادی کو جس میں نور کی بارش ہوتی ہے جھرنے بہتے ہیں نغموں کے اور بسے قد آور پیڑ چنار کے اپنے جھل مل ...

مزید پڑھیے

باڑھ

ندی کی لہریں سوتے سوتے جیسے ایک دم جاگ پڑیں اور جھپٹ پڑیں ان گیلے گیلے مٹی بالو کنکر پتھر اور سیمنٹ کے پشتوں پر جن سے ان کو باندھ کے سب نے رکھ چھوڑا تھا لہک لہک کر ناچ ناچ کر شور مچاتی چاروں اور گلی گلی کوچے کوچے میں گھروں میں صحنوں میں کمروں باغوں میں کونے کونے میں وہ جھٹ پٹ گھس ...

مزید پڑھیے

پرانا باغ

کیسا سناٹا ہے یا رب اور کیسی تلملاتی مضطرب تنہائی ہے آوازیں آتی ہیں لیکن ملی جلی اونچی نیچی معنی مطلب کو صرف ذرا سا چھوکر ادھر ادھر بہہ جاتی ہیں اک یاد کی خوشبو آتی ہے رنگین منقش تتلی کے تھرتھراتے پر جیسے لیکن وہ بھی اک جھونکا لے کر اڑ جاتی ہے

مزید پڑھیے

کھوئی کھوئی رات

نگاہوں سے اوجھل رہو تم ہزاروں پردوں کے پیچھے غائب ہو جاؤ اور دل میں ایسا سناٹا چھا جائے جیسا جنازہ نکلنے کے بعد کسی گھر میں ہوتا ہے لیکن نہ جانے کیا ہے کہ جب خواب اور بیداری کے درمیان کھوئی کھوئی سی الم ناک بوجھل رات ختم ہونے کے قریب آتی ہے اور بے چینی خود تھکی ہاری بے ہوشی کے گلے ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

کبھی کبھی بے حد ڈر لگتا ہے کہ دوستی کے سب روپہلے رشتے پیار کے سارے سنہرے بندھن سوکھی ٹہنیوں کی طرح چٹخ کر ٹوٹ نہ جائیں آنکھیں کھلیں، بند ہوں دیکھیں لیکن باتیں کرنا چھوڑ دیں ہاتھ کام کریں انگلیاں دنیا بھر کے قضیے لکھیں مگر پھول جیسے بچوں کے ڈگمگاتے چھوٹے چھوٹے پیروں کو سہارا ...

مزید پڑھیے

تمہاری آنکھیں

تمہاری آنکھیں تمہاری کالی چمکتی آنکھیں زمانے کے ساگر میں دو آبنوسی کشتیاں جن کی تہہ میں تارے جڑے ہوئے ہیں پلکوں کے مستول تھرتھراتے ہیں ہر گھڑی ہر دم ہلتی ڈولتی بہتی چلی جا رہی ہیں مت روکو ان کو انہیں لمبے دور دراز سفر کرنے دو دکھ کی تلملاتی لہروں آنسوؤں کے بھنور میں پھنسنے دو ان ...

مزید پڑھیے

پرانی دیوار

پرانی بہت پرانی کائی لگی دیوار لکھوری اینٹوں کی اتہاس نے اپنے لمبے لمبے ہاتھوں سے جوڑوں کو جس کے باندھا ہے اور گلابی بھورے سبز ملے جلے دھبوں سے جس پر لاکھ کہانی لکھ ڈالی ہے البیلی کرنیں روز صبح چپکے سے اس پر چڑھ جاتی ہیں ادھر ادھر پھر جھانکتی ہیں اور ایک ایک کرکے دبے پاؤں کونوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 213 سے 960