شاعری

ابھی نخل امید سرسبز ہے

کانچ کے خواب جیسی وادیاں تھرتھرائی ہوئی دفعتاً موت کی وادیوں میں بدلتی گئیں کچھ نہیں بچ سکا زخم ہی زخم ہیں خون ہی خون ہے سنگ و آہن خس و خاک کے ڈھیر میں زندگی نیم مدفون ہے کوئی چارہ نہیں راہ مسدود ہے ہاں مگر بے بسی کے اندھیروں سے لڑتی ہوئی ایک ننھی کرن آنسوؤں کی لڑی میں چمکتی ...

مزید پڑھیے

پیکار

بدن میں میٹھے میٹھے درد کی خوشبو بسی ہے تھکن چادر بنی لپٹی ہوئی ہے سنہری شہد جیسی نیند پلکوں کو بہم جوڑے ہوئے خوابوں کے جھولے میں ابھی کچھ اور پینگیں چاہتی ہے نیم تاریکی کھنچے پردوں سے لگ کر اونگھتی ہے کرن دہلیز پر ٹھہری ہوئی ہے ملائم سا اجالا ضد میں آ کر کھڑکیوں پر دستکیں دیتا ...

مزید پڑھیے

میرے ہاتھوں کی لکیریں

قسمت کی ریکھائیں نہیں ان لمحوں کے جگنوں ہیں جو تمہارے سنگ گزارے ہیں شب تنہائی میں جب کبھی نیند رستہ بھول جاتی ہے ان جگنوؤں سے ہی خواب اپنی منزل پاتے ہیں

مزید پڑھیے

اے میرے ارض وطن

اے میرے پاک وطن دیکھے تھے کئی خواب تمہاری خاطر سینچے تھے کئی گلاب تمہاری خاطر تیری مٹی کی خوشبو کی قسم کھائی تھی تب کہیں جا کے گل لالہ مسکرائی تھی اے میرے ارض وطن اے میرے خوشبو کے چمن مٹی کو تیری رنگا تھا لہوں سے اپنے اقبالؔ نے چاہا تجھے فکر سے اپنے قوم مسلم کا بس تو ہی اک ٹھکانہ ...

مزید پڑھیے

تم مجھے یاد آؤگی

بچھڑتے وقت اس نے کہا تھا سنو تم مجھے یاد آؤگی جب کبھی ساحل سمندر پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے سمندر کی آغوش میں ڈوبتے سورج کے منظر کا پیلا پن آنکھوں میں اترے گا تم مجھے یاد آؤگی جب کبھی برساتوں کی اندھیری راتوں میں دل کے کسی گوشے میں اک ہلکی سی آہٹ پا کر یادیں گہری نیند سے جاگیں گی تم ...

مزید پڑھیے

صنف نازک کہا گیا مجھ کو

رنگ کائنات کہا گیا مجھ کو آنکھوں میں بسے خوابوں سے پھر مبرا کیا گیا مجھ کو زندگی بھر کی جو کمائی تھی کچھ جو عزت کہیں بنائی تھی چند لفظوں سے کچھ حقارت سے تہی دامن کیا گیا مجھ کو کاری کر کے سب زمانے میں کھلے سر برہنہ کیا گیا مجھ کو حسن زن سے جو زندگی ہے حسین رنگوں سے کھلی دل کشی ہے ...

مزید پڑھیے

عورت

تابش خورشید نور ماہ پانی کی جھلک خندۂ قلقل صدا کوئل کی غنچوں کی چٹک لرزش سیماب بجلی کی تڑپ شاخوں کا لوچ عقل کی تیزی طبیعت کی اپچ شاعر کا سوچ اضطراب موج کانٹوں کی خلش ناگن کے بل تیر کی سرعت کماں کا عجز شمشیروں کے پھل آب موتی کی چمک کندن کی ہیرے کی دمک اشرفی کا روپ ٹکسالی محاصل ...

مزید پڑھیے

پرانے کوٹ

ہاتھی کان گلا ہے جس کا استر ادھڑا دامن کھسکا آخر تم کیا دو گے اس کا اتنے کم سلوائی دے دو پانچ نہیں تو ڈھائی دے دو فی سلوٹ نو پائی دے دو یہ لو گھنڈی کیسے والا آگے پیچھے گڑبڑ جھالا جاہل ہے نا ہندی کالا بڈھا تو کیا سوچ رہا ہے مونچھوں کو کیوں نوچ رہا ہے شاید جاڑا کوچ رہا ہے آ سردی سے ...

مزید پڑھیے

ہم سب کے دکھ سانجھے ہیں

جیراں تو ہر وقت یہ کچی چھت کا کیا رونا روتی ہے برساتیں جاڑے پالے گرم ہوا اور دھوپ سلگتی موسم کی ہر سختی تجھ کو سہنا ہی ہے پکی چھت کو دیکھ کے ٹھنڈی آہ نہ بھر میرے جیسی بن جانے کی چاہ نہ کر جو کچھ تو دیکھا کرتی ہے سب آنکھوں کا دھوکا ہے دکھ کے موسم تجھ سے زیادہ میرے دل نے جھیلے ہیں ہم ...

مزید پڑھیے

رہائی کب ملے گی

مرا دل ایک ننھا سا قفس ہے یوں تو اس میں چار خانے ہیں لہو میں تر بہت سے شاخسانے ہیں فسانے ہیں خزانے ہیں یہاں رنگیں پرندوں کی طرح نازک بہت سے لفظ قیدی ہیں نڈھال افسردہ پژمردہ مگر اب بھی رخ قرطاس کی تزئین و آرائش سماعت کی فضاؤں میں بکھر جانے کی خواہش زندگی کی دستکوں میں تلملاتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 180 سے 960