ابھی نخل امید سرسبز ہے
کانچ کے خواب جیسی وادیاں تھرتھرائی ہوئی دفعتاً موت کی وادیوں میں بدلتی گئیں کچھ نہیں بچ سکا زخم ہی زخم ہیں خون ہی خون ہے سنگ و آہن خس و خاک کے ڈھیر میں زندگی نیم مدفون ہے کوئی چارہ نہیں راہ مسدود ہے ہاں مگر بے بسی کے اندھیروں سے لڑتی ہوئی ایک ننھی کرن آنسوؤں کی لڑی میں چمکتی ...