شاعری

سیفٹی والو

غضب کی تپش ہے گھٹن اس قدر دل میں بہتے لہو کی جگہ آگ پھنکنے لگی ہے سو رگ رگ میں چنگاریاں ہیں سلگتی ہوئی سرخ آنکھوں میں آنسو نہیں ہلکا ہلکا دھواں ہے کسی نیم خوابیدہ آتش فشاں کے دہانے سے لاوا ابلنے کو بے چین ہے شہر کا شہر لقمہ بنے آگ کا ڈھیر ہو راکھ کا اس سے پہلے اگر میرا اک ...

مزید پڑھیے

پہاڑوں پر میں ننگے پاؤں چلنا چاہتی ہوں

حدود شہر سے باہر کڑکتی دھوپ میں چٹئیل پہاڑوں پر میں ننگے پاؤں چلنا چاہتی ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے ہوا صحرا میں تنہائی کا نوحہ پڑھ رہی ہے چٹانوں کے بدن میرے گلابی نرم تلووں سے کچل جانے کی حسرت میں سلگتے ہیں دہکتے پتھروں کے ہونٹ میری انگلیوں کے لمس کی چاہت میں جلتے ہیں کسی ذی روح کے ...

مزید پڑھیے

شوفر

کھٹ۔۔۔ کھٹ۔۔۔ کون؟ صبیحہ! کیسے؟ یوں ہی، کوئی کام نہیں پچھلی رات۔۔ بھیانک گیرج۔۔ کیا کچھ ہو انجام۔۔ نہیں میرا ذمہ۔۔ میں بھگتوں گی۔۔ تم پر کچھ الزام۔۔۔ نہیں ہم ہیں اس اخلاق کے پیرو، ہم ہیں اس تہذیب کے لوگ جس میں عفت اک ''مفروضہ'' عصمت جس میں ''ذہنی روگ'' جذبوں پر پہرے بٹھلانا کیا ...

مزید پڑھیے

دیوالی

ہو رہے ہیں رات کے دیوں کے ہر سو اہتمام صبح سے جلوہ نما ہے آج دیوالی کی شام ہو چکی گھر گھر سپیدی دھل رہی ہیں نالیاں پھرتی ہیں کوچوں میں مٹی کے کھلونے والیاں بھولی بھالی بچیاں چنڈول پاپا کر مگن اپنی گڑیوں کے گھروندوں میں سجی ہے انجمن رسم کی ان حکمتوں کو کون کہہ دے گا فضول رکھ دیے ...

مزید پڑھیے

رابطہ

جانتے تو ہو گے تم اتنی تیز بارش میں رابطے نہیں رہتے نیٹ ورک نئیں ملتا فون کی بھی لائنیں بارشوں کے پانی سے ایسے ٹوٹ جاتی ہیں جس طرح محبت میں بے وفا کی باتوں سے دل ہی ٹوٹ جائے تو رابطے نہیں رہتے

مزید پڑھیے

یہ دسمبر ہے

سنو میں جانتی ہوں یہ دسمبر ہے وہاں سردی بہت ہوگی اکیلے شام کو جب تم تھکے قدموں سے لوٹو گے تو گھر میں کوئی بھی لڑکی سلگتی مسکراہٹ سے تمہاری اس تھکاوٹ کو تمہارے کوٹ پر ٹھہری ہوئی بارش کی بوندوں کو سمیٹے گی نہ جھاڑے گی نہ تم سے کوٹ لے کر وہ کسی کرسی کے ہتھے پر اسے لٹکا کے اپنے نرم ...

مزید پڑھیے

شکایت

مجھے تم سے شکایت ہے کہ تم نے عمر بھر مجھ کو خبر یہ بھی نہ ہونے دی تمہیں مجھ سے محبت تھی

مزید پڑھیے

ڈک لائن

میں جینے کی تمنا لے کے اٹھتی ہوں مگر جب دن گزرتا ہے سنہری دھوپ کی کرنیں کسی دریا کنارے پر اترتی شام کے بکھرے ہوئے چمکیلے بالوں سے لپٹ کر سونے لگتی ہیں ہوا بیزار ہو کر پھر تھکے پنچھی کی بانہوں میں سمٹ کر بیٹھ جاتی ہے زمیں کا شور بھی تب رفتہ رفتہ ماند پڑتا ہے فلک کے آخری کونے پہ جس ...

مزید پڑھیے

اثاثہ

میں اپنی قیمتی چیزیں بھی اکثر بھول جاتی ہوں کہیں بھی جا کے ٹھہروں میں کسی کے پاس بھی جاؤں کبھی ٹیرس کبھی آنگن کبھی کمرے میں بھی اکثر کچھ اپنی پچھلی یادوں کو کبھی کچھ چاند راتوں کو اور اکثر ادھ بنے سے کچھ ادھورے خواب کے گچھے وہیں پر چھوڑ آتی ہوں میں اکثر بھول جاتی ہوں وہ جو میں ...

مزید پڑھیے

بادل

چلو اتنا تو ہو پایا کہ تم نے بادلوں کے چند ٹکڑوں کو ہمارے پاس بھیجا ہے ہماری پیاس کی خاطر ذرا سی آس بھیجی ہے چٹختے اور پیاسے نیلے ہونٹوں کو تصور میں خیالوں میں کسی بے وصل اور بے موسمی غم کی نمی کا نرم گیلا اور گلابی سا کوئی احساس تو ہوگا جسے میں نے دعا کی شاخ سے باندھا ہوا ہے اب بدن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 181 سے 960