شاعری

تاج محل بنائیں گے

چاند ستاروں کی دنیا میں اک دن ہم بھی جائیں گے ننھی منی پیار کی دنیا مل کر وہاں بسائیں گے سونے چاندی کی اینٹوں کو ڈھونڈ کے لائیں گے تاج محل بنوایں گے چندا ماما کی نگری میں پھول کہاں سے آئے گا رونق اپنے تاج محل کی آخر کون بڑھائے گا اپنے دیس سے ہم پھولوں کو چن چن کر لے جائیں گے تاج ...

مزید پڑھیے

باتونی میاں

رہتے ہیں قصبے میں میرے ایک باتونی میاں روکنے سے بھی نہیں رکتی کبھی ان کی زباں دھن یہی ہر دم ہے ان کی قوم کا لیڈر بنوں قوم پیچھے ہو مرے میں قوم کے آگے رہوں فرق کچھ تذکیر اور تانیث میں کرتے نہیں گفتگو میں پھر بھی وہ لاتے ہیں الفاظ حسیں ایک دن بولے کہ میں جاتا ہوں پڑھنے کے لئے گھومتی ...

مزید پڑھیے

اپنے گاؤں میں

جب کسی فرصت میں ہم آتے ہیں اپنے گاؤں میں کیا بتائیں کیا خوشی پاتے ہیں اپنے گاؤں میں روز گھر سے ہم نکلتے ہیں ٹہلنے کے لئے ساتھ ہو جاتے ہیں کچھ بچے بھی چلنے کے لئے کب کمی ہوتی ہے کچھ بھی دل بہلنے کے لئے پیار کے جب گیت ہم گاتے ہیں اپنے گاؤں میں کیا بتائیں کیا خوشی پاتے ہیں اپنے گاؤں ...

مزید پڑھیے

روپ نگر کی سیر

ننھے منے دو بچوں کی ہے دلچسپ کہانی روپ نگر کی سیر کریں گے بات جو دل میں ٹھانی لاکھ منایا ماں نے لیکن بات نہ اس کی مانی صبح سویرے گھر سے نکلے گھر والوں سے چھپ کے چلتے چلتے دونوں بچے اک جنگل میں پہنچے شدت کی گرمی تھی اس پہ دونوں ہی تھے بھوکے تھوڑی دیر چلے جنگل میں دیکھا باغ ...

مزید پڑھیے

ڈوبتی کرنیں

وہ پیوستہ نگاہیں اپنے سینے میں اتر جائیں ترستی آتما کو لمحہ بھر تو چین آ جائے بکھرتی ساعتیں پھر ایک نقطہ میں سمٹ جائیں مچلتی چاندی کہسار کے دامن پہ لہرائے فلک کے نیلگوں ساگر سراپا نور بن جائیں مگر میں نے سنا ہے چاندنی جب یوں اترتی ہے تو نیلے پانیوں میں گونجتی موجیں الجھتی ...

مزید پڑھیے

دائروں کی فصیلوں سے ڈرتے ہو

دائرے سے ٹوٹ کر گر پڑیں گے ابھی اور ہم اپنے ہونے کی پاداش میں بوڑھی صدیوں کی ٹوٹی ہوئی قوس پر ایک تاریک نقطے میں کھو جائیں گے دائروں کے مقابر میں سو جائیں گے دائرے خواہشوں کے مقابر سہی دائرے آرزو کے مینار ہیں دائرے بے ثباتی کے مرقد نہیں دائرے گزرے وقتوں کے آثار ہیں دائروں کی ...

مزید پڑھیے

حسرت تعمیر

یہ دنیا پھول پتھر آگ مٹی ریت کے تودوں کا مسکن ہے پہاڑوں کی چٹانوں اور ڈھلانوں تیز رو دریاؤں اور چشموں کا منظر ہے یہ دنیا ننھے منے چاند تاروں کا ہے گہوارہ جو مستقبل کی نورانی فضاؤں کی امانت ہیں یہ دنیا علم و فن سائنس اور تہذیب کی عظمت کا مظہر ہے یہ دنیا خوب صورت ہے بہت ہی خوب صورت ...

مزید پڑھیے

دھوپ نگر

دھوپ نگر کے باسی ہیں ہم دھوپ کی پہرے داری ہے دھوپ نگر میں دھوپ کے خیمے دھوپ کی ہی گل کاری ہے دھوپ فلک پر دھوپ فضا میں دھوپ زمیں پر رقصاں ہے دھوپ ہواؤں کا پیراہن ہر سو دھوپ پرافشاں ہے دھوپ کی شاخیں دھوپ کے پتے دھوپ کی کلیاں دھوپ کے پھول دھوپ کی یہ نگری ہے انوکھی دھوپ زدہ ہیں اس کے ...

مزید پڑھیے

کبھی کبھی

اپنا آپ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے دور ساحل پر بیٹھی ایک تنہا لڑکی جو اپنے تمام خوابوں کو پیارے پیارے سندر سندر جذبوں کو اپنی مٹھی میں قید کر لینا چاہتی ہو مگر پھر جب اس کے بند ہاتھوں سے ریت دھیرے دھیرے سے سمندر کی طرف واپس لوٹ جاتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس کے سارے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 179 سے 960