شاعری

مزدور

اسے کیا فرق پڑتا ہے دسمبر بیت جانے سے یکم تاریخ آنے سے کسی بھی سال نو کے خیر مقدم پر خوشی کے شادیانے سے سرور و کیف و مستی میں محبت کے ترانے سے کلب اور ہوٹلوں میں وحشیانہ رقص پر سودائیوں کے تھرتھرانے سے اسے کیا فرق پڑتا ہے اسے تو ہر گزرتا سال اک جیسا ہی لگتا ہے وہ اک مزدور ہے جس ...

مزید پڑھیے

ماں ترے جانے کے بعد

بجھ گیا روشن سویرا ماں ترے جانے کے بعد چھا گیا ہر سو اندھیرا ماں ترے جانے کے بعد غم کا بادل ہے گھنیرا ماں ترے جانے کے بعد دم گھٹا جاتا ہے میرا ماں ترے جانے کے بعد کس کے چہرے میں تلاشوں تیرے چہرے کی جھلک کس کے آنچل میں ملے گی تیری ممتا کی مہک کس کی باتوں میں سنوں گی تیرے لہجے کی ...

مزید پڑھیے

مڈرز ڈے پر

اسم اعظم بہت اچھا ہوا تھا ماں نے مری سکھلا دیے تھے اسم سارے مجھ کو بچپن میں تمام آیات قرآنی وظیفے اور مناجاتیں کہ جن کے ورد سے ساری بلائیں دور رہتی ہیں حصار ان کا ہر آفت اور مصیبت سے بچاتا ہے انہی کے حفظ سے ہوتی رہی مشکل کشائی اور مسیحائی مگر جب وجود اس کا مجسم اجنبی بن کر گریزاں ...

مزید پڑھیے

تمہاری وجہ سے

اگرچہ یہ سچ ہے کئی بار دل میرا بے حد دکھا ہے تمہاری وجہ سے کئی بار پلکوں پہ آئے ہیں آنسو تمہاری وجہ سے کئی بار سہنی پڑی سخت لہجے کی تیزی و تندی تمہاری وجہ سے کئی مرتبہ نا مناسب رویہ بھی جھیلا ہے میں نے تمہاری وجہ سے کئی بار بے بات غصہ کی زد پر بھی آنا پڑا ہے تمہاری وجہ سے کئی مرتبہ ...

مزید پڑھیے

سرحدیں

کوئی تو ہو اس جہاں میں ایسا کہ جس کے بس میں ہو ساری دنیا کی سرحدوں کی سبھی لکیریں جہاں کے نقشے سے ایک پل میں کسی جتن سے مٹا کے رکھ دے یہ آہنی خار دار تاریں زمین کے ساتھ دل کے رشتے بھی بانٹتی ہیں کئی دلوں میں طویل عرصے سے چبھ رہی ہیں کوئی تو ان کو اکھاڑ پھینکے کوئی تو ہو جو تمام ...

مزید پڑھیے

بہانہ

سنو تم کیوں نہیں کہتے مرے آنسو تمہیں تکلیف دیتے ہیں مرے دکھ سن کے تم بھی بے بسی محسوس کرتے ہو میری آواز کی لرزش تمہیں بھی خوں رلاتی ہے میرے لہجے کی نمناکی تمہیں بے چین رکھتی ہے مجھے معلوم ہے لیکن یہ سب تم کہہ نہیں سکتے اسی لمحہ تمہیں یاد آنے لگتے ہیں کئی بے حد ضروری کام اور پھر ...

مزید پڑھیے

پھر وہی رات

پھر وہی رات ہے ویرانئ دل ہے میں ہوں تم نہ مل کر جو بچھڑتیں تو بہت آساں تھا زیست کے اجنبی رستوں سے گزرنا میرا تم نے بدلا جو نہ ہوتا مرا معیار نظر کوئی مشکل نہ تھا دنیا میں بہلنا میرا اپنی تنہائی کا درد آج کہاں سے لاؤں کس سے فریاد کروں کس سے مداوا چاہوں بھول تک بھی نہ سکوں جس کو ...

مزید پڑھیے

افق پہ

وہ ایک میں ہی نہیں ہوں نہ جانے کتنے ہیں جو سوچتے ہیں سمجھتے ہیں چاہتے بھی ہیں کہ پھوٹتی ہوئی پہلی کرن سے بھی پہلے افق پہ وقت کے چمکیں نیا سا رنگ بھریں جو صبح ہو تو نسیم سحر کا ساتھ دھریں سمیر بن کے بہیں رنگ و بو کی دھرتی پر گلوں سے بات کریں ہر گلی سے کھل کھلیں مگر یہ وقت یہ سہما ہوا ...

مزید پڑھیے

اپنے بد گماں سے

اپنے بد گماں سے تم سمجھتی ہو کہ میں سر خوش توفیق نشاط آج ویسا ہی بلا کوش ہوں جیسے کبھی تھا تم نے شاید یہ سنا ہے کہ اس اندھیری میں بھی میں اسی طرح جلائے ہوں امنگوں کا دیا اے مری جان وفا رنج کو راحت نہ کہو ایک افسانۂ سادہ کو حقیقت نہ کہو تم نے طنزاً یہ کہا ہے کہ مرا شغل ادب مری تسکیں ...

مزید پڑھیے

دوام

مجھے آج محسوس یوں ہو رہا ہے کہ میں مر گیا ہوں مرا نام کچھ بھی ہو میں عام سا آدمی اس سے کچھ فرق پڑتا نہیں ایک احساس کے مختلف نام ہیں ساری دنیا میں جو شخص دنیا سے اٹھا ہے وہ میں ہوں میں جس نے دیکھا ہے ہر شخص میں خود کو مرتے ہوئے مجھ کو جس طرح چاہو پکارو کہ وہ مرنے والا تو میں ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 168 سے 960