شہر انا میں
یہ تیز دھوپ یہ کاندھوں پہ جاگتا سورج زمیں بلند ہے اتنی کہ آسماں کی رقیب وہ روشنی ہے وہ بیداریاں کہ سائے نہ خواب بس ایک ہوش بس اک آگہی بس اک احساس اور ان کے نور سے جلتے بدن پگھلتے بدن بدن ہیں کھولتے سیال آئینے ہر سو ہر آن بہتے سدا رہتیں بدلتے بدن دماغ دور سے ان کا نظارہ کرتا ہے اور ...