شاعری

شہر انا میں

یہ تیز دھوپ یہ کاندھوں پہ جاگتا سورج زمیں بلند ہے اتنی کہ آسماں کی رقیب وہ روشنی ہے وہ بیداریاں کہ سائے نہ خواب بس ایک ہوش بس اک آگہی بس اک احساس اور ان کے نور سے جلتے بدن پگھلتے بدن بدن ہیں کھولتے سیال آئینے ہر سو ہر آن بہتے سدا رہتیں بدلتے بدن دماغ دور سے ان کا نظارہ کرتا ہے اور ...

مزید پڑھیے

میں

کس قدر روشن ہیں اب ارض و سما نور ہی نور آسماں تا آسماں میرے اندر ڈوبتے چڑھتے ہوئے سورج کئی جسم میرا روشنی ہی روشنی پانو میرے نور کے پاتال میں ہاتھ میرے جگمگاتے آسمانوں کو سنبھالے سر مرا کاندھوں پہ اک سورج کہ نادیدہ خلاؤں سے پرے ابھرا ہوا اور زمیں کے روز و شب سے چھوٹ کر آگہی کی تیز ...

مزید پڑھیے

تسخیر فطرت کے بعد

ہوا اے ہوا میں ترا ایک ایک انگ لہرا تھا صدیوں ترے ساتھ دشت و دمن کوہ و صحرا میں آزاد و سرشار پھرتا رہا ہوں سمندر کی چھاتی پہ صدیوں ترے ساتھ بد مست و بے فکر چلتا رہا ہوں انوکھی زمینوں طلسمی جزیروں کو دریافت کرتا رہا ہوں مجھے تو نے فطرت کے معبد صنم خانۂ کائنات، آذری کے طلسمات سے آ ...

مزید پڑھیے

تسخیر فطرت کے بعد

تسخیر فطرت کے بعد ہوا اے ہوا میں ترا ایک انگ ایک لہرا تھا صدیوں ترے ساتھ دشت دامن‌ کوہ صحرا میں آزاد و سرشار پھرتا رہا ہوں سمندر کی چھاتی پہ صدیوں ترے ساتھ بے فکر و بے دست چلتا رہا ہوں انوکھی زمینوں طلسمی جزیروں کو دریافت کرتا رہا ہوں مجھے تو نے فطرت کے بعد صنم خانۂ کائنات آزری ...

مزید پڑھیے

سورج کا شہر

''نہیں یہ سورج کے شہر کا آدمی نہیں ہے کہ یہ تو مرنے کے بعد فٹ پاتھ پر پڑا ہے یہ لاش ہم سب کی طرح سورج کے ساتھ گردش میں کیوں نہیں ہے؟ پڑھو تو اس ڈائری میں کیا ہے؟'' نچے کھچے اک ورق پہ کچھ یوں لکھا ہوا تھا ''میں اپنی دنیائے فکر و فن تج کے آج بن باس میں پڑا ہوں ضرورتوں میں گھرا ہوا ...

مزید پڑھیے

تلاش

رستہ یہ جانا پہچانا ہے کبھی کبھی یہ اپنا ہوتا تھا برسوں برس تک ان پتھ پر پیار ہمارا سنجوتا تھا سانجھ سویرے ان دیکھی برکھا سے نم رہتی تھی خاک شام کا غنچہ صبح کا سورج، شبنم سے منہ دھوتا تھا خاک سے تیرے بدن کی خوشبو ڈالی ڈالی اڑتی تھی دھیان کا بھونرا پھول کی بکھری پنکھڑیوں کو پروتا ...

مزید پڑھیے

شہر انا میں

یہ تیز دھوپ یہ کاندھوں پہ جاگتا سورج زمیں بلند ہے اتنی کہ آسماں کی رقیب وہ روشنی ہے وہ بیداریاں کہ سائے نہ خواب بس ایک ہوش بس اک آگہی بس اک احساس اور ان کے نور سے جلتے بدن پگھلتے بدن بدن ہیں کھولتے سیال آئینے ہر سو ہر آن بہتے سدا ہیئتیں بدلتے بدن دماغ دور سے ان کا نظارہ کرتا ہے اور ...

مزید پڑھیے

میرا شہر

جہاں میں رہتا ہوں وہاں سب رہتے ہیں میرے گھر کے قریب ہی ایک گدھا رہتا ہے جو بڑے خلوص سے ملتا ہے وہیں پہ ایک لومڑی بھی رہتی ہے جس کے ہر بول میں مکاری ہے وہیں پہ رہتے ہیں کوے گدھ الو سیار لکڑ بگھے اور پھاڑ کھانے والے شہر بھی اب میں سوچتا ہوں میں ان لوگوں کے بیچ رہتا ہوں یا یہ لوگ میرے ...

مزید پڑھیے

میری شاعری

ایک دفعہ جب راشن ختم ہوا تھا تو ردی نکالی تھی گھر سے کہ بیچ آئیں ہنس کے کہا تھا تم نے تب کہو تمہاری نظمیں بھی کیا ڈال دوں ان میں ان سے وزن بڑھ جائے گا میں نے کہا تھا کل جو وقت کرے گا وہ مت آج کرو آنکھیں تمہاری بھر آئیں ہوئی اور تم نے کہا تھا میں تو کہا وہ وقت بھی نہ کر پائے گا

مزید پڑھیے

سمندر کا راستہ

جھیل جہاں سے میں لوٹا تھا صدی پہلے وہاں واپس پہنچنا چاہتا ہوں جھیل میں جانتا ہوں تم سمندر نہیں ہو میں کہ بس نہیں ہوں مجھے تمہارے سوا کوئی اور راستہ نہیں معلوم دنیا کے گھمسان میں کھویا رہا ہوں اب اچھا نہیں لگتا کچھ بھی صدی کے بعد لوٹا ہوں میں اپنی ذات میں واپس لوٹنا چاہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 169 سے 960