شاعری

ہو رہا ہے ذکر پیہم آم کا

ہو رہا ہے ذکر پیہم آم کا آ رہا ہے پھر سے موسم آم کا نظم لکھ کر اس کے استقبال میں کر رہا ہوں خیر مقدم آم کا ان سے ہم رکھیں زیادہ ربط کیوں شوق جو رکھتے ہیں کم کم آم کا تب کہیں آتا ہے میرے دم میں دم نام جب لیتا ہوں ہمدم آم کا شوق سے پڑھتے ہیں اس کو خاص و عام جب قصیدہ لکھتے ہیں ہم آم ...

مزید پڑھیے

چلا آتا ہے خود انجام سے انجان ہے بکرا

چلا آتا ہے خود انجام سے انجان ہے بکرا نہیں ہرگز نہیں کس نے کہا نادان ہے بکرا جو سچ پوچھو تو اس رخ سے وہ ہم لوگوں سے بہتر ہے کہ اپنے خالق و مالک پہ خود قربان ہے بکرا حقیقت میں وہی بکرا ہے اچھا دیکھ کر جس کو قصائی کہ اٹھے فربہ ہے عالی شان ہے بکرا بھلا تجھ تک پہنچ سکتے ہیں ہم انسان ...

مزید پڑھیے

ضرورت کیا ہے

اس قدر ہم سے گریزاں کیوں ہو کچھ نہیں ہم ہیں فقط عکس خیال ایک تصویر کا دھندلا سا نشاں حرف و معنی کے پر اسرار تسلسل میں کہیں ان کہی بات کا احساس زیاں اجنبی شہر میں چلتے چلتے راستہ ہاتھ پکڑ لے تو رکو جس طرح تیز ہوا آ کے دریچے پہ کبھی دستکیں دیتی ہے چپ چاپ پلٹ جاتی ہے اور گزر گاہ سماعت ...

مزید پڑھیے

کابوس

رات کے پہلو میں بیٹھا ہے سنہری اژدہا احمریں پھنکار کے مدھم سروں کا شور ہے اس گھڑی لگتا ہے وہ کچھ اور ہے بند ہوتے اور کھلتے دائروں کے درمیاں آپ اپنی ذات کے گرداب میں جیسے کوئی دیوتا محراب میں وقت کے اس نقشۂ مبہم پہ کون اس کے مسکن کا لگائے گا سراغ کون رکھے گا ہتھیلی پر چراغ اس کے نیش ...

مزید پڑھیے

مفاہمت

ہم کہ عریاں بہت ہیں تماشا نہ بن اپنی ضد چھوڑ دے میں تجھے اوڑھ لوں تو مجھے اوڑھ لے

مزید پڑھیے

یہ ہم کون ہیں

یہ ہم کون ہیں وقت کی شاہراہوں پہ ننگے قدم تیز تیز دھوپ میں بے ردا بے اماں راستے میں کوئی میل پتھر نہیں اور ہوائے مسافت گزرتے ہوئے رک کے کہتی ہے یہ کوئی منزل تمہارا مقدر نہیں یہ ہم کون ہیں بے یقینی کے ساحل پہ تنہا کھڑے آنکھ کی کشتیاں پانیوں کے سفر پر روانہ ہوئیں دور تک نیلگوں سبز ...

مزید پڑھیے

ہجرت کی نظم

پلک کے جھپکتے کئی سال بیتے میں واپس جو لوٹی تو میں نے یہ دیکھا مرے گھر کی ہر چھت ٹپکنے لگی تھی در و بام کا رنگ مدھم پڑا تھا وہ آنگن کہ جس میں مہکتی تھی چمپا اس آنگن کا ہر پھول مرجھا گیا تھا فقط ایک برگد کہ تنہا کھڑا تھا وہ تنہا تھا اور جانے کیا سوچتا تھا خزاؤں نے ہر سو بسیرا کیا ...

مزید پڑھیے

اگنی پریکشا

کھلی ہوا اور گھٹن کے وقفے طویل تر تھے تو پھر بھی اتنے گراں نہیں تھے مگر گزشتہ کئی دنوں سے یہ وقفے گویا سمٹ چکے ہیں ابھی میں جی بھر کے لے نہ پاتی ہوں چند سانسیں حسیں فضا میں کہ پھر اسی وقفۂ گھٹن کی ثقیل دستک سماعتوں کو فگار کرتی پیام لاتی ہے موسم حبس اور گھٹن کے میں اس تسلسل سے تھک ...

مزید پڑھیے

تذبذب

مفاہمت کی حدوں سے آگے مہیب اندھیروں کے قافلے ہیں طویل وحشت کے سلسلے ہیں جو معرکہ دل نے سر کیا گر تو تیرگی دائمی مقدر خرد نے جیتا تو قطرہ قطرہ یہ زہر خود میں اتارنا ہے کہ تیسری کوئی رہ نہیں ہے سو منتظر ہوں کہ آگے قسمت میں کیا لکھا ہے مہیب اندھیرے کہ زہر خوانی

مزید پڑھیے

مجبوری

سمجھنا چاہیے مجبوریاں اہل چمن کو سبز بیلوں کی نمو محتاج ہے جن کی ہمیشہ اک سہارے کی درختوں کے تنے دیوار پھاٹک یا منڈیریں ہوں پنپتی ہیں سہاروں پر تو یہ سرسبز رہتی ہیں سہارے چھوٹ جائیں گر تو پھر جینے کی مجبوری کسی نعم البدل کو ڈھونڈ لیتی ہے وگرنہ ان کی شادابی خزاں کی نذر ہوتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 167 سے 960