شاعری

انصاف

میں نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو مجھے اک کٹہرا فراہم کر دیا گیا میں گواہ ہوں لیکن چشم دید نہیں مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ جو بھی کہوں گی سچ کہوں گی سچ کے سوا کچھ بھی نہیں میں نے قسم کھائی اور گواہی دی میری ہلاکت چشم دید نہ تھی سو قاتل آج بھی گھومتا ہے آزادانہ مگر میں قید ...

مزید پڑھیے

دم تحریر

دم تحریر جن ناپاک گندی عورتوں سے کوثر و تسنیم کترا کے گزریں گی جن پر دودھ اور شہد کے پیالے حرام کر دئے جائیں گے جن کو ملائک دزدیدہ نگاہوں سے بھی دیکھنا نہ چاہیں گے جن کا ٹھکانہ جہنم ہوگا جنہیں دوزخ کی آگ روز جلائے گی جن پر غیظ و غضب کے کوڑے ہر ساعت برسائے جائیں گے ان میں ایک میں ...

مزید پڑھیے

اگلی رت کی نماز

میں چاہتی ہوں کہ اگلی رت میں ملوں جو تم سے جنم جنم کی تھکاوٹوں کے خطوط چہرے سے مٹ چکے ہوں قدم قدم اک سفر کی پچھلی علامتیں سب گزر چکی ہوں ملال صحرا نوردی پاؤں کے آبلوں میں سمٹ چکا ہو مسافرت کی تمام رنجش مرے مساموں سے دھل چکی ہو کسی بھی پتھر کا کوئی دھبہ کسی بھی چوکھٹ کا کوئی ...

مزید پڑھیے

کولاژ

ساری چلمنیں تیلیوں کی شکل میں بکھر چکی ہیں کمزور دھاگے کہانیاں بننے سے عاری مومی شمعیں پگھل پگھل کر زمیں بوس پروانے راستہ بھٹک چکے ہیں بے رنگ اوس کے دھبے جا بجا آنگنوں میں پھیلے ہیں سورج نے آنکھیں نہیں کھولیں قطرہ قطرہ پی رہی ہے گھاس چاند کی جھوٹی شراب خاکستری یادوں کی بارہ دری ...

مزید پڑھیے

مینوپاز

ابل ابل کر دودھ کے سارے تال تلیاں سوکھ گئے ہمک ہمک کر کندن سی لوری کے بول بھی روٹھ گئے پینگیں لیتے لیتے خالی بانہیں تھک کر جھول گئیں کجلوٹی میں سارا کاجل جانے کب کا پگھل گیا کس میلے میں ڈھونڈوں اس کو ملا نہیں اور بچھڑ گیا

مزید پڑھیے

ناستلجیا

کئی گرہیں کہ جن کو کھولنے کی ضد میں اپنے ناخنوں کو ہم گنوا بیٹھے کئی باتیں کہ جن کو باندھنے کی کوششوں میں موچ آئی تھی کلائی میں کئی چہرے کہ جن کے خال و خط کو ہم مٹانے کے جتن میں دھوتے رہتے تھے برابر اپنے لوح چشم اب بھی گھیر لیتے ہیں گزرتے وقت نے ہر تجربے کو کہہ کے بچکانہ ہمیں قائل ...

مزید پڑھیے

ہم پتھر نہیں ہیں

جب وہ اپنے گھروں سے نکلے ان کے سروں پہ کفن بندھا تھا دلوں میں جوش آنکھوں میں بے خوفی قبیلے کی بزرگ ترین ہستی نے پکارنا چاہا اپنی تلواریں لیتے جاؤ لیکن ان کے پتھر ہونے کا ڈر تھا جب وہ اپنی بستیوں سے نکلے ان کے سینوں میں دبی ہوئی آہیں تھیں ہونٹوں پہ لرزشیں ہاتھ دعاؤں کے لیے دراز اس ...

مزید پڑھیے

نیند کی ماتی

وہ نیند کی ماتی جس کی آنکھیں شام ڈھلے نارنجی ہوتیں آتے جاتے خواب انوکھے پلکیں جس کی چھوتے رہتے جس کی کھڑکی کے پردوں پر چاند کا بھی نہ سایہ پڑتا جس کے کمرے سے بچ بچ کر سورج اپنا رستہ چلتا جس کے آنگن چنچل چڑیاں سرگوشی میں باتیں کرتیں جس کے ذہن میں سوچ کی گرہیں پڑتیں اور کھل جاتی ...

مزید پڑھیے

تاریخ کے مردہ خانے سے

ناری اور شودر کو سمان سمجھنے والے مہا پرش اتہاس کے پنوں میں کھو گئے ہیں ہونٹ آج بھی تھرتھراتے ہیں لفظ میلے نہ ہو جائیں زمین تھی تو پتھریلی لیکن اپنا کنواں کھودا تو پانی میٹھا نکلا پھنکارتے آبھوشن صندوقوں میں بند کر کے چابی بزرگوں کے حوالے کر دی گئی اڑتے ہوئے لفظوں کو مٹھیوں میں ...

مزید پڑھیے

مسکن

آ کہ اس دل میں تیرے لیے ہے بہت سی جگہ یہ تو دونوں کو معلوم ہے آرزوؤں کی کثرت سے تنگی کا مارا ہوا حسرتوں سے پریشان ہے اس کی بوسیدگی کے گواہ محبت وفا دشمنی بغض کینہ حسد یہ جہاں مختصر اور تو عز و جل پھر بھی اتنا یقیں کر ہی سکتا ہے تو یہ وہ گھر ہے کہ جس میں اگر تو براجے یہ تیرا بنے اور تب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 164 سے 960