شاعری

برادران وطن سے

ملک کی حالت پہ سینوں سے دھواں اٹھتا نہیں ساز دل خاموش ہیں شور فغاں اٹھتا نہیں کس لئے آنکھوں سے طوفان نہاں اٹھتا نہیں پھول روندے جا رہے ہیں باغباں اٹھتا نہیں بے حسی کی انتہا ہے ہوش میں آتے نہیں ذلتوں پر ذلتیں ہوتی ہیں شرماتے نہیں شعلۂ احساس بجھتا ہے ہوا دے دو اسے قومیت دم توڑتی ...

مزید پڑھیے

انقلاب فلسطین

دیکھتا ہے کون صحرا کے بگولوں کی طرف جو نظر اٹھتی ہے بس جاتی ہے پھولوں کی طرف عیش میں رہ کر ہمیں کچھ بھی خیال غم نہیں مسکراہٹ لب پہ ہے آنکھیں مگر پر نم نہیں دیکھتا اس کے کرشمے کس کو اتنا ہوش تھا پتی پتی دم بخود تھی گل چمن خاموش تھا محو نظارہ تھیں آنکھیں دل میں طاری بے خودی مجھ کو ...

مزید پڑھیے

تم اپنی سبز آنکھیں بند کر لو

بدلتی رت مرے ماتھے پہ جو لکھے گی وہ سب جانتا ہوں میں کہ میں نے اپنے والد کی جوانی کی وہ تصویریں بہت ہی غور سے دیکھی ہیں جن میں وہ کسی کی یاد کی پرچھائیوں کو اپنی آنکھوں میں چھپائے آسماں کو تک رہے ہیں اب وہ آنکھیں میری آنکھیں ہیں تم اپنی سبز آنکھیں بند کر لو

مزید پڑھیے

کار جہاں دراز ہے

کوئی ایسا شغل تو ہو زیست کرنے کا جسے واجب سا کوئی نام دے دیں خواہ اس میں قصۂ رنگ پریدہ کی کوئی تمثیل ڈھونڈیں یا کسی اک یاد کو وہ اسم دے دیں جو گزرتے وقت کا کوئی بھلا عنوان طے پائے کوئی مصرع کہیں تازہ جو اپنے آپ میں کامل نظر آئے اگر ایسا نہیں ممکن تو کوئی قہقہہ لمبا سا پورا قہقہہ ...

مزید پڑھیے

اپنا اپنا دکھ

بچپن سے اماں سے سنا کرتے تھے 'پانچوں انگلیاں ایک برابر نہیں ہوتیں' لیکن پچھلے کچھ برسوں سے اماں منجھلی انگلی کو کھینچ رہی ہیں کہتی ہیں: 'اس کو کیسے چھوڑوں پیچھے رہ جائے گی' منجھلی انگلی بھی تو آخر جانتی ہوگی 'پانچوں انگلیاں ایک برابر نہیں ہوتیں' پیچھے رہ جانے کا دکھ تو منجھلی ...

مزید پڑھیے

میں واپس آؤں گا

غار حرائے شاعری میں بیٹھنے جاتا ہوں میں اور میں حصار ذات بھی کر کے رکھوں گا اس حصار ذات کے باہر کوئی بھی داشتہ شہرت کی شہر نو لگا بیٹھے نہ اپنا دیکھتے رہنا نہ کرنا انتظار اس کا کہ میں تازہ صحیفہ لانے والا ہوں کہ ہر تازہ صحیفہ ایک دن منسوخ ہونا ہے اسے وہ معنی و مفہوم کھونا ہے جو اصل ...

مزید پڑھیے

پتنگ اڑانے سے پہلے

پتنگ اڑانے سے پہلے یہ جان لینا تھا کہ اس کی اصل ہے کیا اور ماہیت کیا ہے بہت نحیف سی دو بانس کی کھپنچیں ہیں اور ان سے لپٹا مربعے میں ناتواں کاغذ یہ جس کے دم پہ ہوا میں کلیلیں بھرتی ہے ذرا سی ضرب سے وہ ڈور ٹوٹ جاتی ہے پتنگ کٹ گئی تو اس کا اتنا غم کیوں ہے پتنگ اڑانے سے پہلے یہ جان لینا ...

مزید پڑھیے

جب تم مجھ سے ملنے آؤ

تمہاری اپنی دنیا ہے تمہارے روز و شب شام و سحر اپنے تم اک آزاد پنچھی ہو مری جاگیر کا حصہ نہیں ہو تم مگر کل شام جب تم مجھ سے ملنے آؤ (جیسا تم نے لکھا ہے) تو آنکھوں میں ذرا کاجل لگا آنا

مزید پڑھیے

ایسا ہو کہ نا موعود ہو

وہ غنی ساعت کہ ہم شاکی نہ ہوں یا یوں کہیں خاکی نہ ہوں صد حیف افلاکی نہ ہوں کاش اس غنی ساعت میں اک کار غنیمت ایسا ہو مٹی بدن کی روح کی تہذیب سے ہموار ہو بے دار ہو یہ نقش پائے رفتگاں روشن مثال کہکشاں سب روح کی تہذیب سے بے دار مٹی کی نمو ہے عکس ہو ہے روح کی تہذیب یا اک سلسلہ جس میں عدم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 149 سے 960