کار بیہودہ
اپنے ہونے اور نہ ہونے میں خوشی کی غم کی اطمینان کی تحقیق بے مصرف ہے اور اک سعئ لا حاصل کے سوا کچھ بھی نہیں یہ زندگی اک جنگ تحمیلی ہے اور میں بے نتیجہ جنگ کا سر باز ہوں کوئی جو بیہودہ سوالوں سے ازل سے بر سر پیکار ابد آثار نا پیدا مائل تار ابریشم وجود اک کرم کی مانند غائب ہو رہا ہے ...