شاعری

وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دو

وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دو ہوا ہے جو کچھ اسے بھلا دو میں ان سے کہہ دوں کہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہے وہ رنج ہستی کہ زہر بن کر مرے لہو میں سما چکا ہے مرے تصور میں بس چکا ہے وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دو ہوا ہے جو کچھ اسے بھلا دو میں رات دن کی ادھڑپن میں وہ کرچیاں بھی سمیٹ لوں گی جو میری ...

مزید پڑھیے

دیوار گریہ

ایک دیوار جو حائل ہے مری سوچوں میں کتنے پیچیدہ سوالوں سے مجھے روکتی ہے جب بھی میں رخت سفر باندھتی ہوں شانے پر اپنی جادو بھری ہستی سے مجھے ٹوکتی ہے یہ جو دیوار کہ رہتی ہے سیہ خانوں میں دن ڈھلے اپنے طلسمات کو دکھلاتی ہے مجھ کو محصور کیے رکھتی ہے انگاروں میں چار جانب رخ انوار سے ...

مزید پڑھیے

شہر آشوب

اے مرے دیس میں بستے ہوئے اچھے لوگو خود ہی سوچو کہ سزا جیسی یہ تنہائی ہے جس جگہ پھول مہکتے تھے وفاؤں کے کبھی ان فضاؤں میں اٹل رات کی گہرائی ہے ان اندھیروں سے پرے آج بھی اس دنیا میں لوگ خوش حال محبت سے رہا کرتے ہیں آج بھی شام ڈھلے سکھ کی حسیں وادی میں لوگ پیڑوں کے تلے روز ملا کرتے ...

مزید پڑھیے

کانچ کی گڑیا

کانچ نازک ہیں خواب نازک ہیں تم قدم سوچ کر ادھر رکھنا کھیلنے کا تجھے ہے شوق مگر ان چٹانوں پہ بھی نظر رکھنا تیرے دل میں ہے آرزو کی کرن تیری آنکھوں میں خواب ہیں کل کے تیرے ہاتھوں میں رنگ تتلی ہیں تیرے چہرے پہ عزم ہیں دہکے میرے آنگن کی کانچ کی گڑیا اپنی قسمت کا امتحان نہ لے میں تجھے ...

مزید پڑھیے

لفظ تو بانجھ ہیں

لفظ تو بانجھ ہیں جذبوں کی قدر کیا جانیں زندگی بار چکے ہوں تو قہر کیا جانیں اپنے معصوم گلابوں سے حسیں بچوں کی ایک کھوئی ہوئی مسکان پہ کچھ لکھنا ہے ان کی بے جان نگاہوں پہ مجھے کہنا ہے لفظ تو بانجھ ہیں قرطاس کے آئینے ہیں لفظ زیست کا عنوان ہیں سرمایہ ہیں پھر بھی جذبات کے عکاس نہیں ہو ...

مزید پڑھیے

صدیوں کا تغافل

مجھ کو حیرت ہے تمہیں یاد نہ آئی میری دور جاتے ہوئے اک بار نہ مڑ کر دیکھا کتنی صدیوں کے تغافل نے دیا تھا اک پل کیسے ممکن ہے گزر جائے وہ آہٹ کے بنا دل نے اک بار بھی کیوں دی نہ دہائی میری بار تم کو نہ لگا مجھ سے جدا ہو جانا میں یہ سمجھی تھی کہ میں رہ نہ سکوں گی تجھ بن تجھ سے دوری کا تصور ...

مزید پڑھیے

ہار جیت

زندگی کے منظر میں ہار جیت کا منظر کس قدر اداسی کا اور بے نوائی کا ایک منتظر منظر ڈوب کر ارادوں میں ٹوٹ کر سرابوں میں دشت بے اماں منظر ہار جیت کا منظر آج اپنے شاعر سے پوچھ لیں تو اچھا ہے کیا گنوا کے پایا ہے اور کیا جو کھویا ہے اعتبار کا منظر ہار جیت کا منظر آج تم سے کھیلی ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

نغمۂ جاں

پھر کوئی نغمۂ جاں چھیڑ کہ شب باقی ہے ان سنا گیت کوئی رقص گہہ انجم میں الجھے الجھے ہوئے بالوں سے الجھتا ہوا گیت مہکی مہکی ہوئی سانسوں میں سلگتا ہوا گیت پھر سجایا ہے ہتھیلی پہ ترے نام کا دیپ اور ہواؤں سے الجھتے ہیں سنبھل جاتے ہیں سلسلے خواب کے بد مست ہوا کے ساتھی دل میں اک جوت ...

مزید پڑھیے

آج لگتا ہے سمندر میں ہے طغیانی سی

آج لگتا ہے سمندر میں ہے طغیانی سی جانے کس دہر سے آیا ہے یہ طوفان بلا یہ جو طوفان کہ اس میں ہیں کھنڈر خوابوں کے ٹوٹتے خواب ہیں دھندلی سی گزر گاہوں کے ان کہی کوئی کہانی کوئی جلتا آنسو آ کے دامن پہ ٹھہرتا ہوا بے کل شکوہ چپ سی سادھی ہے مرے بت نے مگر آنکھوں میں میرے ہر تاج محل کی ہے ...

مزید پڑھیے

کوسا دودھ

تو یہ دودھ کوسا ہے! یہ دودھ ہے اور کوسا ہے جس سے بدن کی نسیں اونگھ جاتی ہیں جس سے مرے دل کی باقاعدہ دھڑکنوں میں اضافے کی صورت نہیں یہ وہی دودھ ہے جس کو فرہاد کی گرمیٔ شوق نے بیستوں کی سیہ چوٹیوں سے اتارا تو اس کے لہو کی حرارت کا جویا ہوا پھر بھی کوسا رہا یہ وہی دودھ ہے چاندنی بن کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 148 سے 960