وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دو
وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دو ہوا ہے جو کچھ اسے بھلا دو میں ان سے کہہ دوں کہ اب یہ ممکن نہیں رہا ہے وہ رنج ہستی کہ زہر بن کر مرے لہو میں سما چکا ہے مرے تصور میں بس چکا ہے وہ مجھ سے کہتے ہیں مسکرا دو ہوا ہے جو کچھ اسے بھلا دو میں رات دن کی ادھڑپن میں وہ کرچیاں بھی سمیٹ لوں گی جو میری ...