شاعری

ثریا کی گڑیا

سنو اک مزے کی کہانی سنو کہانی ہماری زبانی سنو ثریا کی گڑیا تھی چھوٹی بہت نہ دبلی بہت اور نہ موٹی بہت جو دیکھو تو ننھی سی گڑیا تھی وہ مگر اک شرارت کی پڑیا تھی وہ جو سوتی تو دن رات سوتی تھی وہ جو روتی تو دن رات روتی تھی وہ نہ امی کے ساتھ اور نہ بھیا کے ساتھ وہ ہر وقت رہتی ثریا کے ...

مزید پڑھیے

رات دن

کیسے اللہ نے بنائے رات دن کیسی حکمت سے سجائے رات دن صبح آئی تو اجالا آ گیا شام آئی تو اندھیر چھا گیا دن ہوا تو لوگ سارے جاگ اٹھے رات آئی چاند تارے جاگ اٹھے دن بنا ہے کام کرنے کے لیے رات ہے آرام کرنے کے لیے کوئی ہو انسان یا حیوان ہو جانور ہو یا کوئی بے جان ہو رات ان کے ڈھنگ ہی ...

مزید پڑھیے

کیا چیز لو گے

کیا چیز لو گے چمچہ کہ تھالی تھالی بھری ہے چمچہ ہے خالی میں لوں گا تھالی کیا چیز لو گے روٹی کہ کیلا روٹی ہے سب کی میں ہوں اکیلا میں لوں گا کیلا کیا چیز لو گے کیلا کہ بستہ بستہ ہے میرا پھولوں کا دستہ میں لوں گا بستہ تب تم کو مانوں مل جائے سب کچھ کہتے تھے تب کچھ دیتے ہو اب کچھ میں ...

مزید پڑھیے

فرشتہ

وہ جانتا تھا وہ کبھی نہیں آئے گا پھر بھی اس نے اس کے آنے کی افواہ پھیلائی تاکہ امید زندہ رہے

مزید پڑھیے

ذبح

ان دنوں کھل کر کوئی نہیں ہنستا کوئی نہیں روتا کھل کر ہنسنا چھپا ہوتا ہے رونے میں رونا چھپا ہوتا ہے ہنسنے میں ایسا مجھے نوٹنکی کے اس مسخرے نے بتایا جو ان دنوں گاؤں کے بازار میں مرغے کاٹا کرتا ہے

مزید پڑھیے

ملک ہے یا مقتل

تمہاری خوبصورتی ہے یا موت کا خیال باغوں میں اس بار کچھ زیادہ ہی کھلے ہیں گلاب دیکھو ان موروں کی آنکھوں میں بادلوں کا طویل انتظار ہماری بے چارگی تمہارے ناز و انداز تاریخ گواہ ہے کتابیں بھری پڑی ہے زندہ افسانوں سے اس کشمکش کا حاصل کیا ہے وصل یا فراق یہ آڑی ترچھی سی لکیریں جن سے بنے ...

مزید پڑھیے

داخل‌ خارج

ہجرت ہوتی ہے سب کی ایک ہی جیسی منزل نہیں ملتی سب کو ایک سی سارے لگاؤ ایک سا ہی دکھ دیتے ہیں خوشیاں دیگر ہوتی ہیں سب کی جو تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو سناتے ہوئے زندگی میں آئے وے میرا کچھ سامان تمہارے پاس پڑا ہے وہ لوٹا دو سناتے ہوئے چلے گئے ایک تنہا شخص جب پھر سے تنہا ...

مزید پڑھیے

بے رخی

رات بارش پھول اور انتظار میری بھاشا میں استریوں کے نام ہیں کیا فرق پڑتا ہے جو کہی بھی رہوں تمہاری ساری مسکراہٹیں تصویروں میں قید ہوں پہنچ رہی ہیں میرے پاس ایسا لگ رہا دھرتی پر دو ہی لوگ بے روزگار ہیں ایک میں اور دوسرا شاید وہ آئنہ جس میں آج کل تم کم دیکھا کرتی ہو

مزید پڑھیے

دعا گوئی

کچھ عورتیں چلی آئی ہیں زندگی بھر مجھے کرتے ہوئے معاف ان کا ہمیشہ رہتا ہوں شکر گزار کوئی ایک چوک کو بھی تا زندگی نہیں کر پائی معاف چاہے دلی رہوں یا پنجاب جان گیا ہوں عاشق ہونا نعمت ہے محبوب ہونا عذاب کیا المیہ ہے دعا کے لیے جب بھی اٹھاتا ہوں ہاتھ کم بخت معافی کے لیے دل سے آتی ہے ...

مزید پڑھیے

ڈر

مت سوچو سب اس پے چھوڑ دو مجھے ڈر ہے آخر اس کو کس پہ چھوڑ دوں

مزید پڑھیے
صفحہ 109 سے 960