شاعری

آئی ایم بلیو

میں تنہا تھا کل بھی اور آج بھی میں جانتا تھا کہ میں نیلا ہوں لیکن تمہاری آواز پر میں باہر نکل آیا گورے کالے اور خاکستریوں کے درمیان اور اب میں زخمی ہوں کاش تم مجھ سے نفرت کرتیں تو میں واپس تنہائی کے تنے میں چھپ جاتا جہاں میرے آنسو شاخوں پر اگتے اور میں فن کے میٹھے پھل دیتا تم نے ...

مزید پڑھیے

ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے

ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے محبت ہی صرف زندگی تو نہیں ہے کہ تم سے الگ بھی محبت رہی ہے خوشی کے لئے گھر ہی کافی نہیں ہے کہ گھر سے الگ کی بھی چاہت رہی ہے ذرا دور چلنے کی حسرت رہی ہے میں ویرانیوں کی اداسی کی تنہائیوں کی پسند ہوں جزیرے بناتی ہوں پھر توڑتی ہوں میں خوابوں کو آباد کرتی بھی ...

مزید پڑھیے

ہموار

نقش مٹتا ہے تو مٹ جائے قدم ہیں ثابت موج سرکش ہے اگر ہم بھی بہت ضدی ہیں روز اک نقش نیا ثبت کریں گے یوں ہی پر اگر کٹ بھی گئے حوصلہ شہ پر ہوگا جاری تخئیل کی پرواز رہے گی یوں ہی ہم نہیں دریاؤں کے انجام سے ڈرنے والے راستہ کر کے سمندر کو گزر جائیں گے

مزید پڑھیے

شخصیت

بٹھا کے کاندھے پہ لائی تھی رات اسے شفق نے ہنس کے کیا تھا استقبال ہوا نے راگنی چھیڑی فضا میں گیت گھلے سجا کے پتوں کی تھالی میں اوس کے جگنو اتاری تھی پیڑوں نے آرتی اس کی مگر بلندی پہ آ کر بدل گئے تیور شکن غرور کی پیشانی پر جھلکنے لگی نگاہ قہر و حقارت سے دیکھتی سب کو مزاج گرم ہوا اور ...

مزید پڑھیے

فن

وہ شاخ مضبوط ہو یا نازک یہ منحصر ہے کمال فن پر کہ کیسے تنکوں کو جوڑنا ہے مہین ریشوں کے تانے بانے سے کیسے دیوار جوڑنی ہے کہاں بنانا ہے در کہاں پر جگہ دریچے کی چھوڑنی ہے جہاں سے باد صبا تو آئے درون خانہ چلے جو آندھی گرانے پائے نہ آشیانہ خلوص و انس و وفا کی روئی یقین و ایثار کے ...

مزید پڑھیے

تماشا

حویلی کے بڑے دروازے پر آویزاں دونوں کیمرے ہر روز باہر کے مناظر دیکھتے رہتے ہیں حیرت سے مگر اندر کی دنیا بھی ہے کچھ باہر کے جیسی ہی یہاں کے بسنے والوں میں روابط بھی ہیں مستحکم عداوت بھی مسلسل ہے مکیں بالائی منزل کا ہمیشہ دوسری منزل کے باشندے پہ پہرہ تنگ رکھتا ہے کسی بھی طور من ...

مزید پڑھیے

شام کا بھولا

بھول بھلیا گلیاں ساری دور تلک ہے گھنا اندھیرا شفق دھندلکا دیپک سب ہی سو گئے اوڑھ کے کالی چادر آس کی گٹھری کو پلکوں نے نینوں سے باہر پھینک دیا ہے سوکھی جھیل میں کوئی بھی عکس اترنا نا ممکن ہے لاکھ جتن وہ کر لے لیکن شام کے بھولے راہی کو ہر دروازہ بند ملے گا

مزید پڑھیے

ایک دھندلی یاد

بارشیں اس کے بدن پر زور سے گرتی رہیں اور وہ بھیگی قبا میں دیر تک چلتی رہی سرخ تھا اس کا بدن اور سرخ تھی اس کی قبا سرخ تھی اس دم ہوا بارشوں میں جنگلوں کے درمیاں چلتے ہو بھیگتے چہرے کو یا اس کی قبا کو دیکھتے بانس کے گنجان رستوں پہ کبھی بڑھتے ہوئے اس کی بھیگی آنکھ میں کھلتی دھنک تکتے ...

مزید پڑھیے

انکار کی سرحد پر

اگر مجھ سے ملنا ہے آؤ ملو تم مگر یاد رکھنا میں اقرار کی منزلیں راستے ہی میں چھوڑ آیا ہوں اب مجھ سے ملنا ہے تم کو تو انکار کی سرحدوں پہ ملو جھینگروں مکڑیوں کے جنازے میں رستے پہ چھوڑ آیا ہوں پرانی کتھائیں مجھے کھینچتی ہیں زمیں کا زوال آج زنجیر پا بن رہا ہے خس و خاک کے سارے رشتے میں ...

مزید پڑھیے

اداسیوں کی رت

اداسیوں کی رت بھی کیا عجیب ہے کوئی نہ میرے پاس ہے تم تو میرے پاس ہو مگر کہاں ہوا کی خوشبوؤں میں سبز روشنی کی دھول میں دل میں بجتی تالیوں کے پاس اداسیوں کے زرد بال جل اٹھے تھے اس گھڑی تمہاری سرد یاد کے سفید پھول کھل اٹھے تھے جس گھڑی نظر میں اک سفید برف گر رہی تھی دور تک سرخ بیلیں کھل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 101 سے 960